Monday, September 1, 2014

(سیف اللہ - اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ۔۔۔۔ !!!!



 سیف اللہ - اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ۔۔۔۔ !!!!

================================
خالد بن ولید (عربی: خالد بن ولید بن المغیرۃ المخزومی) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سپہ سالار اور ابتدائی عرب تاریخ کے بہترین سپاہی تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال کے بعد انھوں نے ریاست مدینہ کے خلاف ہونے والی بغاوتوں کو کچلنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد خالد بن ولید نے ساسانی اور بازنطینی سلطنتوں کو شکست دیکر نہ صرف مدینہ کی چھوٹی سی ریاست کو ای...ک عالمی طاقت میں تبدیل کردیا۔ بلکہ پہلے درجہ کے عالمی فاتحین میں بھی اپنے آپ کو شامل کرالیا۔
---------------------------------------------------
موازنہ
خالد بن ولید نے 125 کے قریب جنگوں میں حصہ لیا اور کسی میں بھی شکست نہیں کھائی۔ وہ پیدائشی جنگجو سپاہی تھے۔ انہوں نے عربوں کے لیے جن علاقوں کو فتح کیا وہ اب بھی ان کے پاس ہیں۔ جبکہ باقی عالمی فاتحین نپولین، چنگیز خان، تیمور اور ہٹلر نے جو علاقے فتح کیے وہ ان کی زندگی میں ہی یا بعد میں ان سے چھن گئے۔
----------------------------------------------
زندگی
خالد بن ولید 592 میں مکہ میں قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو مخزوم کے سردار ولید بن مغیرہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ بنی مخزوم کی وجہ شہرت جنگ و جدل تھا۔
وہ شروع میں مسلمانوں کے مخالفین میں سے تھے اور احد کی جنگ کا پانسہ مسلمانوں کے خلاف پلٹنے میں ان کا اہم کردار تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اسلام قبول کیا اور بقیہ زندگی اسلام کے لیے وقف کر دی۔
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ موتہ میں ان کی بے مثل بہادری پر انھیں سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا۔
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم اجمعین عرب نے چھوٹے چھوٹے عرب قبیلوں کو ایک جتھے میں بدل دیا۔ اور قبائلی جنگوں میں ضائع ہونے والی ان کی توانائیوں کو ایک سمت دے کر ایک ایسے زبردست طوفان میں تبدیل کر دیا جس نے جلد ہی پورے مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس علاقے اور دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی اور اسی صحرائی طوفان کا عنوان تھے خالد بن ولید۔
-----------------------------------------------------
مشہور جنگیں
غزوۂ احد
فتح مکہ
فتح طائف
جنگ موتہ
معرکۂ دومتہ الجندل
جنگ یرموک
جنگ یمامہ
جنگ اجنادین
فتح حلب
-------------------------------
نظم و ضبط
مسلمانوں میں یہ تاثر عام پیدا ہو گیا تھا کہ خالد بن ولید ہر جنگ کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ اس پر خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انھیں سپہ سالاری کے درجے سے ہٹادیا کہ فتح اللہ تعالٰیٰ کی مدد سے ہوتی ہے اور امیر کی اطاعت خالد بن ولید کے کردار کا اہم حصہ تھا۔ انھوں نے اسے بخوشی قبول کیا۔
----------------------------------
وفات
خالد بن ولید کو اپنے انتقال سے پہلے اس چیز کا بہت افسوس تھا کہ وہ میدان جنگ کے بجائے بستر پر اپنی جان دے رہے ہیں۔ وہ 642ء میں شام کے شہر حمص میں وفات پاگئے۔ ان کی قبر مسجد جامعۃ خالد بن ولید کا حصہ ہے۔ اپنی وفات پر انھوں نے خلیفۃ الوقت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں اپنی جائیداد کی تقسیم کی وصیت کی

فساد کا حصہ نہ بنیے ........



جب زمین میں فساد پڑ جائے تو شریعت مسلمان کو اس بات سے سختی سے روکتی ہے کہ وہ اس فساد کا کسی بھی طریقے سے حصہ بنے۔ میرے بہن بھائیو آپ سب سے یہ گزارش ہے کہ اپنی زبانوں کو ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نہ بنائیں کیونکہ اللہ تعالی فساد مچانے والوں پر غضبناک ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہم سب کو اپنے پلّے باندھ لینا چاہیے ان حالات میں:

إذ التقى المسلمان بسيفيهما فالقاتل والمقتول في النار" قلت يارسول الله، هذا القاتل فما بال المقتول؟ قال: "إنه كان حريص...اً على قتل صاحبه" ((متفق عليه))

جب كبھی دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے درپے ہوتے ہیں تو مارنے والا اور مرنے والا دونوں جھنمی ہیں۔ سوال ہوا کہ قاتل کا معاملہ تو واضح ہے لیکن مرنے والا کیوں جہنمی ہوتا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس لیے کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ (بخاری اور مسلم)
یہ تو قدرت کا فیصلہ تھا کہ وہ مر گیا ورنہ اسنے کوئ قصر نہیں چھوڑی فساد میں حصہ دار بننے میں!
اللہ ہم سب کو معاف فرمائے۔ آمین