Thursday, September 25, 2014

عشرہ ذی الحجہ کے احکام و مسائل....


ذی الحجہ کا پہلا عشرہ برکت کے لحاظ سے سب سے زیادہ اہم وقت ہے۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک اس کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اس عشرہ سے محبت کرتا اور اس کی قدر کرتا ہے تویہ دس مبارک دن ہیں۔ یہ بھرپور نیکیوں والے، برائيوں سے بچے جانے والے، بلند درجات حاصل کیے جانے والے اور طرح طرح کی کی نیکیاں کیے جانے والے دن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم کھائی ہے اور اور وہ اہم چیزوں ہی کی قسم کھاتا ہے۔فرمان تعالیٰ ہے:
(وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْر) )الفجر:1(
"قسم ہے فجر کی! اور دس راتوں کی!۔"
جمہور مفسرین کے نزدیک فجر سے مراد یوم عرفہ کی نماز فجر ہے ۔ اور دس راتوں سے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔
رب العالمین کا ان ایام کی قسم کھانا درحقیقت ان کی بلندیِ عظمت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ عظیم چیز ہی کی قسم کھاتا ہے۔ جیسے عظیم ترین مخلوقات میں، آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، ہوائيں، نیز عظیم اوقات میں فجر، عصر، چاشت، رات دن نیز عظیم ترین جگہوں میں، مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر ان کی عظمت اور بلندیِ مرتبہ پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہئے کہ ان عظمت والے ایام میں کثرت سے نیک اعمال انجام دیں۔ برائیوں سے بچیں اور کمال محبت اور تمام انکساری وسرافگندگی کے ساتھ رب کی اطاعت وبندگی بجالائیں۔ اور میدان عمل میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی پوری جد وجہد کریں تاکہ دونوں جہان میں کامیابی سے ہمکنار ہو تے ہوئے اس کے عظیم عفو وکرم،رحم ومغفرت کے حقدار بن سکیں اور زبان حال سے گنگناتے ہوئے اقرار کریں :

عشرۂ ذی الحجہ کے فضائل :
دنیا کے تمام دنوں میں دس دن سب سے افضل ہیں :
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"ما العمل فی أیام أفضل منھا فی ھذہ، قالوا: ولا الجھاد؟ قال: ولا الجھاد إلا رجل خرج یخاطر بنفسہ ومالہ فلم یرجع بشیء" (رواہ البخاری:969، ھکذا فی أکثر النسخ المعتمدۃ، وقدروی بلفظ: "ما العمل فی أیام العشر أفضل من العمل فی ھذہ، عند أحد رواۃ البخاری، لکنہ مرجوح کما ذکر ذلک ابن رجب فی شرحہ: 6/114، والحافظ ابن حجر: 2/532)
"ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں انجام دیے گئے اعمال سال بھر کے تمام دنوں میں انجام دیے جانے والے اعمال کی بہ نسبت زیادہ فضیلت والے ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا:جہاد بھی اس سے افضل نہیں؟ فرمایا:جہاد بھی نہیں، ہاں البتہ اگر کوئی شخص جان ومال سے نکلے ،پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہ آئے،یعنی شہید ہوجائے۔
اسی حدیث کے بعض الفاظ کچھ مزید وضاحت کے ساتھ مروی ہیں ،چنانچہ امام احمد نے اپنی مسند:1968، اور امام ابوداود نے اپنی سنن:2438 میں یہ الفاظ درج فرمائے ہیں:
"ما من أیام العمل الصالح فیھا أحب إلی اللہ عز وجل من ھذہ الأیام، یعنی أیام العشر۔ قالوا ولا الجھاد فی سبیل اللہ؟ قال: ولا الجھاد فی سبیل اللہ، إلا رجل خرج بنفسہ ومالہ ثم لم یرجع من ذلک بشیء"
"نیک اعمال ان دس دنوں کی بہ نسبت کسی بھی دن میں اللہ رب العالمین کے نزدیک محبوب نہیں ہیں صحابہ نے عرض کیا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا :جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، مگر کوئی شخص اپنی جان ومال کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے ، پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہ آئے یعنی شہید ہوجائے۔"
اس روایت کی مزید تاکید جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہوتی ہے جو مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ مروی ہے:
"أفضل أیام الدنیا أیام العشر" (رواہ البزار وصححہ الألبانی کما فی صحیح الجامع الصغیر: 1133)
"ذی الحجہ کے یہ دس دن دنیا کے دنوں میں سب سےافضل ہیں۔"
حافظ ابن رجب اس حدیث کی شرح میں رقم طراز ہیں:یہ حدیث نص ہے کہ مفضول کام بھی فضیلت والے اوقات میں افضل ہوجاتا ہے جیسا کہ ذی الحجہ کے ان ابتدائی دس دنوں میں انجام دیئے گئے اعمال تمام افضل اعمال پر فائق ہوں گے، سوائے اس مجاہد کے جو راہ حق میں شہادت کے منصب پر فائز المرام ہوچکا ہے۔ دیکھئے: (فتح الباری: 6/115)
در حقیقت یہ عظیم فضیلت ان اعمال جلیلہ کی وجہ سے ہے جو ان ایام میں انجام پاتے ہیں۔ جن میں سرفہرست حج جیسی عبادت ہے۔ جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"من حج ھذا البیت فلم یرفث ولم یفسق رجع کیوم ولدتہ أمہ" (بخاری: 1820، ومسلم: 1350)
" جس شخص نے بیہودہ گوئی اور ہر طرح کے گناہ سے بچ کر حج کیا وہ حج کے بعد اس طرح لوٹتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔"
گناہوں سے بچ کر سنت نبوی کے مطابق کیاگيا حج ہی حج مبرور ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ کی حدیث میں ہے:
"والحج المبرور لیس لہ جزآء إلا الجنۃ" (بخاری: 1773، ومسلم: 1349)
"حج مبرور کا بدلہ جنت ہے۔"
نیز حج گناہوں کے مٹانے کا سبب ہے جیسا کہ حضرت عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث میں ہے:
"أما علمت أن الإسلام یھدم ما کان قبلہ، و إن الھجرۃ تھدم ما کان قبلھا و إن الحج یھدم ما کان قبلہ" (مسلم:121)
" کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام پہلے کے گناہوں کو مٹادیتا ہے ہجرت پچھلے گناہوں کو ختم کردیتی ہے اور حج سابقہ تمام گنا ہوں کو مٹادیتا ہے۔"
عشرۂ ذی الحجہ کو یہ مقام اس وجہ سے بھی ہے کہ انہیں ایام میں ایک عظیم ترین دن ہے جس میں رب العالمین اپنے بندوں سے قریب ہو کر ان کو جہنم سے آزاد کردیتا ہے۔ جسے ہم یوم عرفہ کہتے ہیں اس عظیم دن کی فضیلت بیان کرتے ہوۓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
"ما من یوم أکثر من أن یعتق اللہ فیہ عبدا من النار من یوم عرفہ، و إنہ لیدنو ثم یباھی بھم الملائکۃ، فیقول ما أراد ھؤلاء؟"
" کسی دن رب العالمین اپنے بندوں کو اس قدر جہنم سے آزاد نہیں کرتا جس قدر یوم عرفہ کو کرتا ہے۔ اس دن بندوں سے قریب ہوکر فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے: میرے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟"
یہی دن در حقیقت حج کا اصل دن ہے جس میں سب سے بڑے رکن وقوف عرفات کی ادائیگی ہوتی ہے۔ اس کے مقام ومرتبہ کی وضاحت کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
"الحج عرفہ" (ترمذی: 889، نسائي: 3044، وصححہ الألبانی)
" حج عرفہ کا نام ہے۔"
انہیں فاضل ایام میں یوم نحر بھی ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"أعظم الأیام عند اللہ یوم النحر، ویوم القر" (أبو داود: 1767، وصححہ الألبانی)
"اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن یوم نحر (یعنی دس ذی الحجہ) ہے۔ پھر اس کے بعد یوم قر (یعنی منی میں ٹھر نے کا دن) ہے۔"
بالاختصاریہ دس دن نہایت ہی مبارک ایام ہیں جن میں رب العالمین نے جملہ عبادات قلبیہ وبدنیہ اکٹھا کردیا ہے۔ جنہیں انجام دے کر بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہوئے وسیع جنتوں کا مستحق قرار پاسکتا ہے۔ اللہ رب العالمین ہم سب کو اس کا اہل بنائے، آمین۔
ذی الحجہ کےابتدائی دس دنوں میں کرنے کے کام :
قارئین کرام ! ان فاضل ایام میں بہت سے اعمال مشروع ہیں، جن میں پنج وقتہ صلوات ، زکوۃ صدقات کے علاوہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنا غیر حجاج کے لیے مسنون ہے۔ بلکہ اس ایک دن کا روزہ دوسال کے گناہوں کے کفارہ کا موجب ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو قتادۃ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
"صیام یوم عرفہ احتسب علی اللہ أن یکفر السنۃ التی قبلہ والسنۃ التی بعدہ" (مسلم: 1162)
"عرفہ کے دن کا روزہ سابقہ اور لاحقہ سال کے گناہوں کوختم کردیتا ہے۔"
یہی وہ مبارک ایام ہیں جن میں حجاج کرام حج بیت اللہ کے شرف سے سرفراز ہوتے ہیں۔ اور آٹھ ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھ کر مناسک حج کا آغاز کرتے ہوئے وقوف عرفہ ومزدلفہ کرتے ہیں، طواف وسعی اورمنیٰ میں کنکر یاں مارتے ہوئے اپنے حج کو مکمل کرتے ہیں۔ اور رب کریم کے عطائے جزیل سے اپنی جھولیوں کو بھرتےہیں۔
ان فاضل ایام میں کثرت سے رب العالمین کا ذکر کرنا محبوب ترین اعمال میں سے ہے،رب کریم کا ارشاد ہے :
(لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ)
"اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقرره دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں ان چوپایوں پر جو پالتو ہیں۔ پس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔"
بہیمۃ الانعام (پالتو چوپایوں ) سے مراد :اونٹ، گائے، بکری، بھیڑاور دنبہ وغیرہ ہیں۔
ایام معلومات سے مراد:دو مشہور اقوال کی روشنی میں یا تو ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں یا یوم النحر اور اس کے بعد کےبقیہ ایام تشریق ہیں جن میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے۔
اسی طرح دنیوی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جن کا تعلق تجارت وکاروبار اور حصول معاش کے متعدد وسائل سے ہے۔ (عام کتب تفاسیر) دوران حج ذکر کا حکم دیتے ہوئے باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
(فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّـهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۖ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّين) (البقرۃ:198)
"جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعر حرام کے پاس ذکر الٰہی کرو اور اس کا ذکر کرو جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، حالانکہ تم اس سے پہلے راه بھولے ہوئے تھے۔"
اعمال حج کی تکمیل کے بعد ذکر کا حکم دیتے ہوئے رب العالمین نے فرمایا:
(فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا) (البقرۃ: 200)
"پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیاده۔"
ان مبارک ایام میں ذکر واذکار کی اہمیت بیا ن کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"عن ابن عمر عن البنی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما من أیام أعظم عند اللہ ولاأحب إلیہ العمل فیھن من ھذہ الأیام العشر، فأکثروا فیھن من التھلیل والتکبیر والتحمید" (رواہ أحمد: 2/75، 131)
"حضرت عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سال کے تمام ایام میں کوئی دن ایسا نہیں جس میں عمل صالح اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ عظیم اور محبوب ہو۔ اس لیے ان دنوں میں کثرت سے "لا إلہ إلا اللہ، اللہ أکبر" اور "الحمد للہ" کہنا چاہئے۔"
مگر یہ روایت کافی شہرت کے باوجود ضعیف ہے۔ اس کی سند میں ابو زیاد الہاشمی نامی ایک راوی ہے جو ضعیف ہے۔ ساتھ ہی اس روایت میں اس سے اضطراب واقع ہوا ہے۔ بایں طور کبھی اس نے مجاہد عن ابن عمر اور کبھی مجاہد عن ابن عباس روایت کیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: (تمام المنہ للألبانی: 353)
مگر ان ایام میں کثر ت سے اذکار بالخصوص یوم عرفہ کو مسنون ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"خیر الدعاء دعاء یوم عرفۃ، وخیر ما قلت أنا والنبیون من قبلی: لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر" (رواہ الترمذی: 3585، وحسنہ الألبانی فی صحیحہ: 1503)
" یوم عرفہ کی دعا سب سے بہتر دعا ہے۔ اور سب سے افضل دعا میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے جو کہی وہ ہے:
"لا إلہ إلا اللہ، وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد، وھو علی کل شیء قدیر"
" معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک کے علاو ہ کوئی دوسرا نہیں۔ ہر طرح کی بادشاہت اور تعریف اسی کے لیے ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔"
یہ اذکار مردوں عورتوں دونوں اصناف کے لیے مسنون ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں:
"کنا نؤمر أن نخرج یوم العید حتی یخرج البکر من خدرھا، حتی یخرج الحیض فیکن خلف الناس فیکبرن بتکبیرھم ویدعون بدعاءھم، یرجون برکۃ ذلک الیوم وطھرتہ" (البخاری:971)
" ہم عورتوں کو عید کے دن عیدگاہ کی طرف جانے کا حکم دیا جاتا۔ یہاں تک کہ پردہ نشین کنواری اور حائضہ عورتوں کو بھی نکلنے کا حکم دیا جاتا۔ تاکہ وہ لوگوں کے پیچھے رہ کر ان کی تکبیر کی طرح تکبیر کہیں اور عمومی دعاؤں میں شریک رہیں۔ اس امید میں کہ انہیں بھی اس دن کی برکت اور پاکی نصیب ہو۔
گھر، دوکان، مکان، بازار وغیرہ تمام جگہوں کو ذکر الہٰی سے آباد کرنی چاہئے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بازار کی طرف نکل جا تے اور بلند آواز سے تکبیر کہتے۔ ان کی تکبیر سن کر لوگ بھی تکبیر کہتے ۔
بلکہ حضرت عمر اپنے خیمہ میں بلند آواز سے تکبیر کہتے، ان کی تکبیر سن کر مسجد اور بازار کے لوگ تکبیر سے آواز بلند کرتے یہاں تک کہ منی تکبیر سے گونج جاتی ۔
ابن عمر ایام تشریق میں بمقام منیٰ فرض نمازوں کے بعد، اپنے بستر ، خیمہ ،بیٹھک وغیرہ تمام جگہوں میں چلتے پھر تے ان ایام میں تکبیر کہتے رہتے۔
ان مبارک ایام میں تکبیر کا یہ اہتمام خاص طور سے اس لیے بھی تھا کیوں کہ ذ کرالہی ہی سے دلوں کو سکون واطمینان ملتا ، اور فرحت وانبساط میسر ہوتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ) (الرعد:28)
"یاد رکھو کہ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔"
در حقیقت انسان اسی کو زیادہ یاد کرتا ہے جس سے اسے دلی انسیت اور الفت ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر وہ اپنے رب کی یاد کو اپنی تسلی اور خوشی کا ذریعہ بناتا ہے۔ تو رب العا لمین کا معاملہ اس کے ساتھ اسی قدر پیارا ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ رب العالمین کہتا ہے:
" میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔ سو اگر وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو دل میں یاد کرتا ہوں ۔ اور اگر وہ چند افراد پر مشتمل جماعت میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت مجھ سے قر یب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔اگر وہ ایک ہاتھ مجھ سے قریب ہوتا ہے تو میں اس سے پورے پہونچے بھر (یعنی دو ہاتھ کے مساوی) قریب ہوتا ہوں۔ اوراگر وہ چل کر میری طر ف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتاہوں۔"
اپنے رب کو یاد کرنے کا معاملہ اگر اس کیفیت، الفاظ اور کلمات کے ساتھ جاری رہا جو خود مولائےکریم کا دیا ہوا ہے تو رب العالمین بیش بہا ثواب سے نوازتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: پاکی آدھا ایمان ہے۔ الحمد للہ میزان کو بھردیتا ہے۔ اور (سبحان اللہ، الحمد للہ ) آسمان وزمین کے درمیانی خلاء کو بھردیتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو کلمے رب العالمین کو بہت پیارے، زبان پربہت ہلکے، میزان میں بہت بھاری ہیں۔ وہ دونوں کلمے ہیں: (سبحان اللہ وبحمدہ، وسبحان اللہ العظیم)
حضرت سمرہ بن جند ب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو یہ چار کلمات بہت پیارے ہیں: "سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إلہ إلا اللہ، واللہ أکبر" ان کلمات میں جس سے بھی ابتداء کریں کوئی حرج نہیں۔
ذکر کے یہ کلمات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیارے تھے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ کی حدیث میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں زبان سے "سبحان اللہ، و الحمد للہ، ولا إلہ إلا اللہ، واللہ أکبر" کہوں تو یہ میرے لیے ہر اس چيز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع ہو۔ یعنی دنیا وما فیہا سے بھی بہتر۔
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص اپنی زبان سے دس بار یہ دعا پڑھے:
"لا إلہ إلا اللہ، وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر"
تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کہ اس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار جانوں کو خریدکر آزاد کردیا ہے۔
ان اذکار پر یہ اجر عظیم عام ایام میں ہے۔ لیکن اگر زبان ومکان کے تقدس کاحسین امتزاج بھی انسان کے ساتھ شامل حال ہو۔ اور ذی الحجہ کے ابتدائی مبارک دنوں کو ان اذکار سے معمور کیا جائے تو بات کچھ اور ہی ہوگی۔ اور رب کے فضل واحسان،اجر وثواب کی اور ہی شان ہوگی۔

سابق کرکٹر محمد یوسف کے بھائی اور بھابھی بیٹے سمیت دائرہ اسلام میں داخل


سابق کرکٹر محمد یوسف کے بھائی اور بھابھی بیٹے سمیت دائرہ اسلام میں محمد یوسف کا تعلق عیسائی برادری سے تھا اوروہ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے

   سابق کرکٹر محمد یوسف کے بھائی اور بھابھی نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہونے کے بعد بیٹے سمیت اسلام قبول کرلیا ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق محمد یوسف کے بھائی اور بھائی بچوں سمیت لاہور میں جامعہ اشرفیہ میں مفتی عبید کے سامنے کلمہ حق پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے جبکہ مفتی عبید نے انہیں کلمہ پڑھانے کے بعد سرٹیفکٹ بھی جاری کردیا، نومسلم خاندان نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ اپنی تمام تر زندگی اسلام کے بتائے گئے طریقے کے مطابق گزاریں گے جب کہ جامعہ اشرفیہ کے مفتی شاہد عبید نے محمد یوسف کے بھائی بھولا کا اسلامی نام ” محمد جمیل ” ، بیوی کا نام “عشرت ” اوران کے بیٹے کا اسلامی نام ” محمد ابو بکر” رکھ دیا.واضح رہے کہ سابق ٹیسٹ کھلاڑی محمد یوسف کا تعلق عیسائی برادری سے تھا اور ان کا پرانا نام یوسف یوحنا تھا لیکن اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے نہ صرف اپنا نام تبدیل کردیا بلکہ اسلام کی تبلیغ کے لئے بھی اپنے آپ کو وقف کردیا۔

Friday, September 19, 2014

حج بیت اﷲ سے غفلت کا انجام.......The Significance of Hajj



اللہ نے اپنے فضلِ خاص سے اپنے جس بندے کو حج کی استطاعت سے نوازا ہے اس بندے کی شانِ بندگی یہی ہے کہ وہ اوّلین فرصت میں حج کی سعادت حاصل کرے اور حجِ بیت اللہ میں ہرگز سستی‘ غفلت‘ لاپروائی اور ٹال مٹول نہ کرے۔ جس قدر جلد ممکن ہو بے تابانہ اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے پہنچے۔ اس بندے سے زیادہ محروم اور بدنصیب اور کون ہوگا جس کو اللہ ہر طرح کی سہولت فراہم کرکے اپنے گھر بلائے اور وہ بدنصیب اللہ کے گھر جانے میں سستی اور کوتاہی کرے اور جانے کا ارادہ ہی نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے کے اس غیر مومنانہ رویّے کو کفر سے تعبیر کیا ہے… اور سخت ترین وعید سناتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ سارے جہاں والوں سے بے نیاز ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے 

 ترجمہ  ’’اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو وہ اس کے گھر کا حج کرے، اور جو ناشکری کرے گا تو وہ جان لے کہ اللہ سارے جہان والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘  آل عمران 3:97  

کفر کے معنی ہیں ناشکری کرنا۔ ناشکری وہ بدترین اخلاقی بیماری ہے جو انسان کو انسانیت کے مرتبے سے گرا دیتی ہے اور اللہ کے عذابِ شدید کا مستحق بناتی ہے۔ اس کے مقابلے میں شکرگزاری‘ ایمان کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے سرشار ہوکر جس زبان پر حمد و شکر کے الفاظ بے اختیار جاری ہوتے ہیں‘ اس زبان سے ہی اھدنا الصراط المستقیم کی درخواست امڈتی ہے اور جواب میں اس کو کتابِ الٰہی سے ہدایت کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ جب بندہ اللہ کی نعمتوں پر شکرکے جذبات سے سرشار ہوکر زبان و عمل سے شکر کا اظہارکرتا ہے‘ تو فیضانِ رحمت کی بارش اور تیز ہوجاتی ہے، اور جب بندہ سب کچھ پاکر بے حسی اور ناشکری کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اللہ کا غضب بھڑکتا ہے اور اسے عذابِ شدید کی وعید سنائی جاتی ہے۔
بندۂ مومن کے لیے اس سے بڑی خوش نصیبی اورکیا ہوسکتی ہے کہ رب رحیم اپنے فضل و کرم سے اسے صحت سے نوازے اور ہر طرح کی آسائش اور سہولت مہیا کرکے اس کو اپنے گھر کی زیارت کے لیے بلائے، لیکن جو بندہ یہ سب کچھ پانے کے باوجود ناشکری کی روش اختیار کرے اور اپنے رب کے بلاوے کو نظرانداز کردینے کا جرم کرے اس سے زیادہ محروم القسمت اور کون ہوگا! ایسے شخص کو اللہ نے اپنی بے نیازی کی وارننگ دی ہے اور اس سے زیادہ لرزہ خیز وارننگ اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ بندے کا رب اس سے بے نیازی کا اظہار فرمائے۔ جس سے اللہ بے نیاز ہوجائے اس کا کہیں کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی بنیاد پر تارکینِ حج کو ایسے انجام سے ڈرایا ہے کہ اگر روح میں ذرا بھی بیداری ہو اور ایمان میں کوئی بھی رمق باقی ہو ‘ تو آدمی پر لرزہ طاری ہوجائے۔
حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو سفرِ حج کا ضروری سامان اور سواری میسر ہو‘ جو اس کو بیت اللہ تک پہنچاسکے اور وہ پھر بھی حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیْتِ مَنِ اسْتَطَائَ اِلَیْہِ سَبیْلاً ‘‘ اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو بھی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کے گھر کا حج کرے۔‘‘
راوی نے پوری آیت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے آیت کا پہلا حصہ پڑھا ہے۔ اس لیے کہ وہ وعید جس سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے استدلال کیا ہے، وہ تو آیت کا یہ آخری حصہ ہے:وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَo آل عمران3:97  
 ترجمہ ’’ اور جس نے ناشکری کی تو اللہ سارے جہان والوں سے بے نیاز ہے۔ 
یعنی اللہ اس سے بے نیاز ہے کہ وہ کس حال میں مرتے ہیں اور کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ اس نے تو اپنے کرم سے سب کچھ مہیا کردیا پھر بھی اگر کوئی بندۂ شقی بدترین انجام ہی کا خواہاں ہے تو اللہ سارے عالم سے بے نیاز ہے، ساری دنیا کے انسان مل کر اُس کی بندگی میں ڈوب جائیں تب بھی اُس کی ذات کو شمہ بھر نفع نہیں پہنچ سکتا، اور سارے انسان مل کر نافرمانی اور برائیوں میں لت پت ہوجائیں تب بھی اُس کی ذات کو ذرہ بھر نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ وہ مستغنی اور بے نیاز ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وعید کا مفہوم یہ ہے کہ ایک تارکِ حج اگر حج کیے بغیر مرجاتا ہے تو حج کیے بغیر مرجانے میں اور یہودی اور نصرانی ہوکر مرجانے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

قرآن میں تارکینِ صلوٰۃ کو مشرکین سے تشبیہ دی ہے اور اس حدیث میں تارکینِ حج کے عمل کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود ونصاریٰ سے تشبیہ دی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ مشرکین مکہ حج تو ادا کرتے تھے لیکن نماز کے تارک تھے اور یہود و نصاریٰ نماز تو پڑھتے تھے لیکن حج کے تارک تھے۔ اس لیے ترکِ صلوٰۃ کے رویّے کو مشرکین کا رویہ بتایا گیا ہے اور ترکِ حج کے رویّے کو یہود و نصاریٰ کا رویہ قرار دیا گیا ہے۔ اور ایک باشعور بندے کو لرزا دینے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکِ صلوٰۃ اور ترکِ حج کو اُن لوگوں کا رویہ قرار دیا ہے جن کا جرم ناقابلِ معافی ہے، جن کی گمراہی پر اللہ کی کتاب شاہد ہے اور جن کو اللہ نے اپنے غضب میں گرفتار قرار دیا ہے۔
  
محمد یوسف اصلاحی

The Significance of Hajj

بچوں کی پرورش کے اسلامی آداب......Necessary Tips for Raising Children Islamically


٭ ولادت کے وقت ولادت والی عورت کے پاس آیۃ الکرسی، سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھ کر دم کیجیے۔
٭ ولادت کے بعد نہلا دھلا کر دائیں کان میں اذان اور بائیںکان میں اقامت کہیے۔ جب حضرت حسینؓ کی ولادت ہوئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں اذان و اقامت فرمائی۔ (طبرانی)
٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جس کے یہاں بچے کی ولادت ہو اور وہ اس بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے تو بچہ ’’ام الصبیان‘‘ سے محفوظ رہے گا۔ (ابویعلی ابن سنی)
٭ بچے کے لیے اچھا سا نام تجویز کرنے کے لیے کہیے جو یا تو پیغمبروں کے نام پر ہو یا خدا کے نام کے ساتھ پہلے عبد لگا کر ترتیب دیا گیا ہو جیسے عبداللہ، عبدالرحمن وغیرہ۔
٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تمہیں اپنے ناموں سے پکارا جائے گا، اس لیے بہتر نام رکھو (ابودائود)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خدا کو تمہارے ناموں میںسے عبداللہ اور عبدالرحمن سب سے زیادہ پسند ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انبیاء کے ناموں پر نام رکھا کرو۔
٭ ساتویں دن عقیقہ کیجیے۔ لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کیجیے، لیکن لڑکے کی طرف سے دو بکرے کرنا ضروری نہیں ہے، ایک بکرا بھی کرسکتے ہیں۔ اور بچے کے بال منڈوا کر اس کے برابر سونا یا چاندی خیرات کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ساتویں دن بچے کا نام تجویز کیا جائے اور اس کے بال وغیرہ اتروا کر اس کی طرف سے عقیقہ کیا جائے۔ (ترمذی)
٭ ساتویں دن ختنہ بھی کرا دیجیے، لیکن کسی وجہ سے نہ کرائیں تو سات سال کی عمر کے اندر اندر ضرور کرا دیں۔ ختنہ اسلامی شعار ہے۔
٭ جب بچہ بولنے لگے تو سب سے پہلے اس کو پہلا کلمہ ’’لاالہٰ الا اللہ‘‘ سکھائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تمہاری اولاد بولنے لگے تو اس کو لاالہٰ الا اللہ سکھا دو۔ پھر پروا مت کرو کہ کب مرے، اور جب دودھ کے دانت گر جائیں تو نماز کا حکم دو۔ (نسائی)
٭ چھوٹے بچوں پر شفقت کا ہاتھ پھیرئیے، بچوں کو گود میں لیجیے، پیار کیجیے اور ان کے ساتھ خوش طبعی کا سلوک کیجیے، ہر وقت تند خو اور سخت گیر حاکم نہ بنے رہیے، اس طرزِ عمل سے بچوں کے دل میں والدین کے لیے والہانہ جذبۂ محبت پیدا نہیں ہوتا، ان کے اندر خود اعتمادی پیدا نہیں ہوتی اور ان کی فطری نشوونما پر بھی خوشگوار اثر نہیں پڑتا۔
٭ اولاد کو پاکیزہ تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں وقف کر دیجیے اور اس راہ میں بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کیجیے۔ یہ آپ کی دینی ذمہ داری بھی ہے، اولاد کے ساتھ عظیم احسان بھی اور اپنی ذات کے ساتھ سب سے بڑی بھلائی بھی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دے سکتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت ہے (مشکوٰۃ)۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جب انسان مرجاتاہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتاہے، مگر تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا اجر و ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے: ایک یہ کہ وہ صدقہ جاریہ کر جائے، دوسرایہ کہ وہ ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، تیسرے صالح اولاد جو باپ کے لیے دعا کرتی رہے۔ (مسلم)
٭ بچے جب سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز سکھائیے، نماز پڑھنے کی تلقین کیجیے اور اپنے ساتھ مسجد لے جاکر شوق پیدا کیجیے۔ اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں اور نماز میںکوتاہی کریں تو انہیں مناسب سزا دیجیے اور قول و عمل سے ان پر واضح کردیجیے کہ نماز کی کوتاہی کو آپ برداشت نہیںکریں گے۔
٭ بچے جب دس سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر الگ کردیجیے اور ہر ایک کو الگ الگ چارپائی پر سلائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اپنی اولاد کو نماز پڑھنے کی تلقین کرو جب وہ سات سال کی ہوجائے، اور نماز نہ پڑھنے پر ان کو سزا دو، اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر الگ کردو۔‘‘
بچوں کو نبیوں کے قصے، صالحین کی کہانیاں اور صحابہ کرامؓکے مجاہدانہ کارنامے ضرور سناتے رہیں۔ تربیت و تہذیب، کردار سازی اور دین سے شغف کے لیے اس کو انتہائی ضروری سمجھیے اور ہزار مصیبتوں کے باوجود اس کے لیے وقت نکالیے۔ اکثر و بیشتر ان کو قرآن پاک بھی خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سنائیے اور موقع موقع سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پُراثر باتیں بھی بتائیے، اور ابتدائی عمر ہی سے ان کے دلوں میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تڑپ پیدا کرنے کی کوشش کیجیے۔
کبھی کبھی بچوں کے ہاتھ سے غریبوں کو کچھ کھانا پینا اور پیسے بھی دلوائیے تاکہ بچوں میں غریبوں کے ساتھ حسن سلوک اور سخاوت و خیرات کا جذبہ پیدا ہو… اور کبھی کبھی یہ موقع بھی فراہم کیجیے کہ کھانے پینے کی چیزیں بہن بھائیوں میں خود تقسیم کریں تاکہ ایک دوسرے کے حقوق کا احساس اور انصاف کی عادت پیدا ہو۔
٭لڑکی کی پیدائش پر بھی اسی طرح خوشی منائے جس طرح لڑکے کی پیدائش پر مناتے ہیں۔ لڑکی ہو یا لڑکا دونوں خدا کا عطیہ ہیں اور خدا بہتر جانتا ہے کہ آپ کے حق میں لڑکی اچھی ہے یا لڑکا۔ لڑکی کی پیدائش پر ناک بھوں چڑھانا اور دل شکستہ ہونا اطاعت و شعارِ مومن کے لیے کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا۔ یہ ناشکری بھی ہے اور خدائے علیم و کریم کی توہین بھی۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے کہ ’’جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو خدا اس کے ہاں فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں: اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو۔ وہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں: یہ کمزور جان ہے جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے، جو اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خدا کی مدد شاملِ حال رہے گی۔‘‘ (طبرانی)
٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی اور اس نے جاہلیت کے طریقے پر دفن نہیں کی اور نہ ہی اس کو حقیر جانا اور نہ لڑکے کو اس کے مقابلے میں ترجیح دی اور زیادہ سمجھا تو ایسے آدمی کو خدا جنت میں داخل کرے گا۔‘‘ (ابو دائود)
٭ ان تمام تدبیروں کے ساتھ ساتھ نہایت سوز اور دل کی لگن کے ساتھ اولاد کے حق میں دعا بھی کرتے رہیے۔ خدائے رحمن و رحیم سے توقع ہے کہ وہ والدین کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی پُرسوز دعائیں ضائع نہ فرمائے گا۔
[انتخاب از ’’آداب زندگی]
مولانا محمد یوسف اصلاحی

Necessary Tips for Raising Children Islamically