Friday, September 19, 2014

حج بیت اﷲ سے غفلت کا انجام.......The Significance of Hajj



اللہ نے اپنے فضلِ خاص سے اپنے جس بندے کو حج کی استطاعت سے نوازا ہے اس بندے کی شانِ بندگی یہی ہے کہ وہ اوّلین فرصت میں حج کی سعادت حاصل کرے اور حجِ بیت اللہ میں ہرگز سستی‘ غفلت‘ لاپروائی اور ٹال مٹول نہ کرے۔ جس قدر جلد ممکن ہو بے تابانہ اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے پہنچے۔ اس بندے سے زیادہ محروم اور بدنصیب اور کون ہوگا جس کو اللہ ہر طرح کی سہولت فراہم کرکے اپنے گھر بلائے اور وہ بدنصیب اللہ کے گھر جانے میں سستی اور کوتاہی کرے اور جانے کا ارادہ ہی نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے کے اس غیر مومنانہ رویّے کو کفر سے تعبیر کیا ہے… اور سخت ترین وعید سناتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ سارے جہاں والوں سے بے نیاز ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے 

 ترجمہ  ’’اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو وہ اس کے گھر کا حج کرے، اور جو ناشکری کرے گا تو وہ جان لے کہ اللہ سارے جہان والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘  آل عمران 3:97  

کفر کے معنی ہیں ناشکری کرنا۔ ناشکری وہ بدترین اخلاقی بیماری ہے جو انسان کو انسانیت کے مرتبے سے گرا دیتی ہے اور اللہ کے عذابِ شدید کا مستحق بناتی ہے۔ اس کے مقابلے میں شکرگزاری‘ ایمان کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے سرشار ہوکر جس زبان پر حمد و شکر کے الفاظ بے اختیار جاری ہوتے ہیں‘ اس زبان سے ہی اھدنا الصراط المستقیم کی درخواست امڈتی ہے اور جواب میں اس کو کتابِ الٰہی سے ہدایت کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ جب بندہ اللہ کی نعمتوں پر شکرکے جذبات سے سرشار ہوکر زبان و عمل سے شکر کا اظہارکرتا ہے‘ تو فیضانِ رحمت کی بارش اور تیز ہوجاتی ہے، اور جب بندہ سب کچھ پاکر بے حسی اور ناشکری کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اللہ کا غضب بھڑکتا ہے اور اسے عذابِ شدید کی وعید سنائی جاتی ہے۔
بندۂ مومن کے لیے اس سے بڑی خوش نصیبی اورکیا ہوسکتی ہے کہ رب رحیم اپنے فضل و کرم سے اسے صحت سے نوازے اور ہر طرح کی آسائش اور سہولت مہیا کرکے اس کو اپنے گھر کی زیارت کے لیے بلائے، لیکن جو بندہ یہ سب کچھ پانے کے باوجود ناشکری کی روش اختیار کرے اور اپنے رب کے بلاوے کو نظرانداز کردینے کا جرم کرے اس سے زیادہ محروم القسمت اور کون ہوگا! ایسے شخص کو اللہ نے اپنی بے نیازی کی وارننگ دی ہے اور اس سے زیادہ لرزہ خیز وارننگ اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ بندے کا رب اس سے بے نیازی کا اظہار فرمائے۔ جس سے اللہ بے نیاز ہوجائے اس کا کہیں کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی بنیاد پر تارکینِ حج کو ایسے انجام سے ڈرایا ہے کہ اگر روح میں ذرا بھی بیداری ہو اور ایمان میں کوئی بھی رمق باقی ہو ‘ تو آدمی پر لرزہ طاری ہوجائے۔
حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو سفرِ حج کا ضروری سامان اور سواری میسر ہو‘ جو اس کو بیت اللہ تک پہنچاسکے اور وہ پھر بھی حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیْتِ مَنِ اسْتَطَائَ اِلَیْہِ سَبیْلاً ‘‘ اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو بھی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کے گھر کا حج کرے۔‘‘
راوی نے پوری آیت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے آیت کا پہلا حصہ پڑھا ہے۔ اس لیے کہ وہ وعید جس سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے استدلال کیا ہے، وہ تو آیت کا یہ آخری حصہ ہے:وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَo آل عمران3:97  
 ترجمہ ’’ اور جس نے ناشکری کی تو اللہ سارے جہان والوں سے بے نیاز ہے۔ 
یعنی اللہ اس سے بے نیاز ہے کہ وہ کس حال میں مرتے ہیں اور کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ اس نے تو اپنے کرم سے سب کچھ مہیا کردیا پھر بھی اگر کوئی بندۂ شقی بدترین انجام ہی کا خواہاں ہے تو اللہ سارے عالم سے بے نیاز ہے، ساری دنیا کے انسان مل کر اُس کی بندگی میں ڈوب جائیں تب بھی اُس کی ذات کو شمہ بھر نفع نہیں پہنچ سکتا، اور سارے انسان مل کر نافرمانی اور برائیوں میں لت پت ہوجائیں تب بھی اُس کی ذات کو ذرہ بھر نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ وہ مستغنی اور بے نیاز ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وعید کا مفہوم یہ ہے کہ ایک تارکِ حج اگر حج کیے بغیر مرجاتا ہے تو حج کیے بغیر مرجانے میں اور یہودی اور نصرانی ہوکر مرجانے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

قرآن میں تارکینِ صلوٰۃ کو مشرکین سے تشبیہ دی ہے اور اس حدیث میں تارکینِ حج کے عمل کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود ونصاریٰ سے تشبیہ دی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ مشرکین مکہ حج تو ادا کرتے تھے لیکن نماز کے تارک تھے اور یہود و نصاریٰ نماز تو پڑھتے تھے لیکن حج کے تارک تھے۔ اس لیے ترکِ صلوٰۃ کے رویّے کو مشرکین کا رویہ بتایا گیا ہے اور ترکِ حج کے رویّے کو یہود و نصاریٰ کا رویہ قرار دیا گیا ہے۔ اور ایک باشعور بندے کو لرزا دینے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکِ صلوٰۃ اور ترکِ حج کو اُن لوگوں کا رویہ قرار دیا ہے جن کا جرم ناقابلِ معافی ہے، جن کی گمراہی پر اللہ کی کتاب شاہد ہے اور جن کو اللہ نے اپنے غضب میں گرفتار قرار دیا ہے۔
  
محمد یوسف اصلاحی

The Significance of Hajj

بچوں کی پرورش کے اسلامی آداب......Necessary Tips for Raising Children Islamically


٭ ولادت کے وقت ولادت والی عورت کے پاس آیۃ الکرسی، سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھ کر دم کیجیے۔
٭ ولادت کے بعد نہلا دھلا کر دائیں کان میں اذان اور بائیںکان میں اقامت کہیے۔ جب حضرت حسینؓ کی ولادت ہوئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں اذان و اقامت فرمائی۔ (طبرانی)
٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جس کے یہاں بچے کی ولادت ہو اور وہ اس بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے تو بچہ ’’ام الصبیان‘‘ سے محفوظ رہے گا۔ (ابویعلی ابن سنی)
٭ بچے کے لیے اچھا سا نام تجویز کرنے کے لیے کہیے جو یا تو پیغمبروں کے نام پر ہو یا خدا کے نام کے ساتھ پہلے عبد لگا کر ترتیب دیا گیا ہو جیسے عبداللہ، عبدالرحمن وغیرہ۔
٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تمہیں اپنے ناموں سے پکارا جائے گا، اس لیے بہتر نام رکھو (ابودائود)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خدا کو تمہارے ناموں میںسے عبداللہ اور عبدالرحمن سب سے زیادہ پسند ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انبیاء کے ناموں پر نام رکھا کرو۔
٭ ساتویں دن عقیقہ کیجیے۔ لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کیجیے، لیکن لڑکے کی طرف سے دو بکرے کرنا ضروری نہیں ہے، ایک بکرا بھی کرسکتے ہیں۔ اور بچے کے بال منڈوا کر اس کے برابر سونا یا چاندی خیرات کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ساتویں دن بچے کا نام تجویز کیا جائے اور اس کے بال وغیرہ اتروا کر اس کی طرف سے عقیقہ کیا جائے۔ (ترمذی)
٭ ساتویں دن ختنہ بھی کرا دیجیے، لیکن کسی وجہ سے نہ کرائیں تو سات سال کی عمر کے اندر اندر ضرور کرا دیں۔ ختنہ اسلامی شعار ہے۔
٭ جب بچہ بولنے لگے تو سب سے پہلے اس کو پہلا کلمہ ’’لاالہٰ الا اللہ‘‘ سکھائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تمہاری اولاد بولنے لگے تو اس کو لاالہٰ الا اللہ سکھا دو۔ پھر پروا مت کرو کہ کب مرے، اور جب دودھ کے دانت گر جائیں تو نماز کا حکم دو۔ (نسائی)
٭ چھوٹے بچوں پر شفقت کا ہاتھ پھیرئیے، بچوں کو گود میں لیجیے، پیار کیجیے اور ان کے ساتھ خوش طبعی کا سلوک کیجیے، ہر وقت تند خو اور سخت گیر حاکم نہ بنے رہیے، اس طرزِ عمل سے بچوں کے دل میں والدین کے لیے والہانہ جذبۂ محبت پیدا نہیں ہوتا، ان کے اندر خود اعتمادی پیدا نہیں ہوتی اور ان کی فطری نشوونما پر بھی خوشگوار اثر نہیں پڑتا۔
٭ اولاد کو پاکیزہ تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں وقف کر دیجیے اور اس راہ میں بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کیجیے۔ یہ آپ کی دینی ذمہ داری بھی ہے، اولاد کے ساتھ عظیم احسان بھی اور اپنی ذات کے ساتھ سب سے بڑی بھلائی بھی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دے سکتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت ہے (مشکوٰۃ)۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جب انسان مرجاتاہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتاہے، مگر تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا اجر و ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے: ایک یہ کہ وہ صدقہ جاریہ کر جائے، دوسرایہ کہ وہ ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، تیسرے صالح اولاد جو باپ کے لیے دعا کرتی رہے۔ (مسلم)
٭ بچے جب سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز سکھائیے، نماز پڑھنے کی تلقین کیجیے اور اپنے ساتھ مسجد لے جاکر شوق پیدا کیجیے۔ اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں اور نماز میںکوتاہی کریں تو انہیں مناسب سزا دیجیے اور قول و عمل سے ان پر واضح کردیجیے کہ نماز کی کوتاہی کو آپ برداشت نہیںکریں گے۔
٭ بچے جب دس سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر الگ کردیجیے اور ہر ایک کو الگ الگ چارپائی پر سلائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اپنی اولاد کو نماز پڑھنے کی تلقین کرو جب وہ سات سال کی ہوجائے، اور نماز نہ پڑھنے پر ان کو سزا دو، اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر الگ کردو۔‘‘
بچوں کو نبیوں کے قصے، صالحین کی کہانیاں اور صحابہ کرامؓکے مجاہدانہ کارنامے ضرور سناتے رہیں۔ تربیت و تہذیب، کردار سازی اور دین سے شغف کے لیے اس کو انتہائی ضروری سمجھیے اور ہزار مصیبتوں کے باوجود اس کے لیے وقت نکالیے۔ اکثر و بیشتر ان کو قرآن پاک بھی خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سنائیے اور موقع موقع سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پُراثر باتیں بھی بتائیے، اور ابتدائی عمر ہی سے ان کے دلوں میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تڑپ پیدا کرنے کی کوشش کیجیے۔
کبھی کبھی بچوں کے ہاتھ سے غریبوں کو کچھ کھانا پینا اور پیسے بھی دلوائیے تاکہ بچوں میں غریبوں کے ساتھ حسن سلوک اور سخاوت و خیرات کا جذبہ پیدا ہو… اور کبھی کبھی یہ موقع بھی فراہم کیجیے کہ کھانے پینے کی چیزیں بہن بھائیوں میں خود تقسیم کریں تاکہ ایک دوسرے کے حقوق کا احساس اور انصاف کی عادت پیدا ہو۔
٭لڑکی کی پیدائش پر بھی اسی طرح خوشی منائے جس طرح لڑکے کی پیدائش پر مناتے ہیں۔ لڑکی ہو یا لڑکا دونوں خدا کا عطیہ ہیں اور خدا بہتر جانتا ہے کہ آپ کے حق میں لڑکی اچھی ہے یا لڑکا۔ لڑکی کی پیدائش پر ناک بھوں چڑھانا اور دل شکستہ ہونا اطاعت و شعارِ مومن کے لیے کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا۔ یہ ناشکری بھی ہے اور خدائے علیم و کریم کی توہین بھی۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے کہ ’’جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو خدا اس کے ہاں فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں: اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو۔ وہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں: یہ کمزور جان ہے جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے، جو اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خدا کی مدد شاملِ حال رہے گی۔‘‘ (طبرانی)
٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی اور اس نے جاہلیت کے طریقے پر دفن نہیں کی اور نہ ہی اس کو حقیر جانا اور نہ لڑکے کو اس کے مقابلے میں ترجیح دی اور زیادہ سمجھا تو ایسے آدمی کو خدا جنت میں داخل کرے گا۔‘‘ (ابو دائود)
٭ ان تمام تدبیروں کے ساتھ ساتھ نہایت سوز اور دل کی لگن کے ساتھ اولاد کے حق میں دعا بھی کرتے رہیے۔ خدائے رحمن و رحیم سے توقع ہے کہ وہ والدین کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی پُرسوز دعائیں ضائع نہ فرمائے گا۔
[انتخاب از ’’آداب زندگی]
مولانا محمد یوسف اصلاحی

Necessary Tips for Raising Children Islamically

Wednesday, September 17, 2014

ایک تصویر نے مناسک حج سمجھنا آسان کر دیا!.....


لاکھوں فرزندان اسلام ان دنوں دنیا کے کونے کونے سے بیت اللہ کی زیارت اور فریضہ حج کی ادائی کے لیے حجاز مقدس روانہ ہو رہے ہیں۔ دور دراز بالخصوص پہلی مرتبہ آنے والے عازمین حج کے لیے مناسک حج ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک میں سرکاری اور غیر سکاری سطح پر عازمین حج وعمرہ کی رہ نمائی کے لیے تربیتی ورکشاپس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان تربیت گاہوں میں انہیں مناسک حج کے مقامات اور حج کے دیگر طور طریقے بتائے جاتے ہیں۔ چونکہ حج کی آمد آمد ہے یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا بھی عازمین‌ حج کی رہ نمائی میں سرگرم دکھائی دیتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فقہی اختلافات سے قطع نظر سوشل میڈیا پر خانہ کعبہ، مسجد حرام اور مناسک حج کے اہم مقامات کا ایک تخیلاتی خاکہ نہایت مقبول ہو رہا ہے۔ عوام الناس کی بھلائی کے لیے اس منفرد نوعیت کی تصویر کو موبائل فون کے میسیجز کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے کا کار خیر بھی جاری و ساری ہے۔

تصویری خاکے میں حجاج کرام کی آسانی کے لیے مقامات مقدسہ عرفات، مزدلفہ منیٰ اور مسجد حرام میں طواف کی مرحلہ وار اور تیروں کی مدد سے نشاندہی کی گئی ہے۔

تصویری خاکے میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان موجود خانہ کعبہ اور مشاعرہ مقدسہ کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ دکھایا گیا اور کوئی اجنبی عازم حج بھی اس تصویر کی مدد سے مناسک حج اور مقامات حج کو با آسانی سمجھ سکتا ہے۔

تصویر میں مناسک حج کو ایک تا سات مقامات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آپ بھی تصویر کو دیکھ سکتے ہیں جس میں سب سے پہلے مرحلے پر مسجد حرام کے قریب احرام باندھنے سے فریضہ حج کی ادائی کا آغاز ہو رہا ہے۔
دوسرے نمبر پر عازمین طواف کعبہ ادا کرتے ہیں۔ تیسرے مرحلے میں صفاء اور مروہ کی چوٹیوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ وہاں سے میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ پانچویں نمبر پر حجاج کرام مزدلفہ میں خیمہ زن ہوتے اور چھٹے نمبر پر وادی منٰی کی طرف لوٹتے ہیں۔ منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد ساتویں مرحلے میں ایک بار پھر مسجد حرام کی طرف لوٹتے ہیں ایک بار پھر طواف کرتے ہیں۔

How to Perform Hajj