Friday, December 19, 2014

حقیقی مومن کی پہچان....

’’مومن اپنے گناہوں کو … بلاریب و شک… ایسا محسوس کرتا ہے، گویا وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے اور اسے (ہردم) اس بات کا خوف ہے کہ کہیں پہاڑ اس پر ٹوٹ نہ پڑے۔ اور حق فراموش و ناخدا ترس بندہ اپنے گناہوں کو بالکل ایسا محسوس کرتا ہے، گویا ایک مکھی تھی جو اس کی ناک پہ سے گزری تو اسے نے اسے یوں کرکے ہٹا دیا۔‘‘ اور ابو شہاب (راوی) نے ناک کے اوپر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے بتایا۔

مومن اپنے گناہوں کو بلاریب و شک ایسا محسوس کرتا ہے گویا وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے، اور اسے (ہر دم) اس بات کا خوف ہے کہ کہیں پہاڑ اس پر ٹوٹ نہ پڑے۔‘‘ یعنی اللہ کی بندگی کا عزمِ راسخ رکھنے اور اس کی اطاعت کی راہ میں پیہم جدوجہد کرنے کے باوجود بندۂ مومن سے خواہشاتِ نفس، جذبات و ہیجانات اور تسویلاتِ شیطانی کے زیراثر وقتی طور پر جو کوتاہیاں اور نافرمانیاں ہوجاتی ہیں، وہ انہیں درست و صواب نہیں سمجھتا، نہ تاویلات کے ذریعے دوسروں کو اور خود اپنے آپ کو کسی فریب میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور نہ ایسا ہوتا ہے کہ اسے اپنی کوتاہیاں محسوس نہ ہوتی ہوں، یا محسوس تو ہوتی ہوں مگر حقیر معلوم ہوتی ہوں۔ 

اس کے برعکس وہ اپنی ہر چھوٹی بڑی کوتاہی کو محسوس کرتا ہے اور شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنے معمولی گناہ کو بھی پہاڑ کی مانند خیال کرتا ہے اور اللہ کی گرفت اور دنیا و آخرت میں اپنے گناہ کی ہولناک پاداش کے خوف سے لرزنے لگتا ہے۔ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہ ایک ایسے خطرے میں پھنس گیا ہے جس سے بچ نکلنے کی اگر فوراً کوشش نہ کی گئی تو وہ اسے ہلاکت سے دوچار کردے گا۔ اسے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے اور پہاڑ سخت زلزلے کی حالت میں ہونے کی وجہ سے بس اس پر گرا ہی چاہتا ہے، اور پہاڑ گرا اور وہ الم ناک موت وہلاکت سے دوچار ہوا۔ 

یہ محسوس کرکے وہ کانپ اٹھتا ہے۔ اس پُرخطر مؤقف سے بھاگ کھڑے ہونے کی جدوجہد کرتا ہے، جس گندگی نے اس کے دامن کو آلودہ کردیا تھا اسے اپنے سے زائل کردینے کے لیے بے تاب ہوجاتا ہے، اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کی زد میں محسوس کرکے اپنی کوتاہی پر نادم و مغموم ہوتا ہے اور اس عذاب سے بچنے کے لیے اسی کا دامن پکڑتا ہے جس کے سوا انسان کے لیے کوئی پناہ نہیں، اور جس کے سوا انسان کو اس کے گناہوں کی ہولناک پاداش سے کوئی بچانے والا نہیں۔ وہ اس کی نافرمانی سے تائب ہوتا ہے، الحاح و زاری کے ساتھ اپنے اس مہربان آقا کے آگے سربسجود ہوتا ہے، اُس کی رسّی کو مضبوطی کے ساتھ پھر تھام لیتا ہے اور اس کی نافرمانی سے بچنے اور اس کی رضا پر چلنے کا اس سے پھر محکم عہد کرتا ہے… یہ ہے حقیقی ایمان کا نتیجہ، اور یہ ہے حقیقی مومن کی علامت! آئیے اِس آئینے میں ہم سب اپنا اپنا چہرہ دیکھیں کہ ہم میں کس درجہ حقیقی ایمان ہے اور کہاں تک ہم میں یہ صفت موجود ہے اور کہاں تک موجود نہیں ہے

ابن رشد

یورپ پر جب جہالت کی تاریکی چھائی ہوئی تھی اُس وقت مسلم اسپین میں علوم و فنون کی شمعیں فروزاں تھیں جن کی ضوفشانیوں نے رفتہ رفتہ یورپ کی تاریکی بھی دور کردی۔ علم کی ان روشن شمعوں میں سب سے تابناک اور درخشندہ شمع کا نام قاضی ابن رشد تھا جن کا شمار دنیا کے عظیم ترین مفکروں میں ہوتا ہے۔
ابن رشد ایک ہمہ دان عالم تھے جنہوں نے مشرق و مغرب کے مختلف علوم و فنون میں اپنے لافانی نقوش چھوڑے ہیں اور متعدد علوم میں فکری رجحان کو متاثر کیا ہے۔ مشہور مستشرق جارج سارٹن کے قول کے مطابق ’’وہ ایک عظیم مفکر تھے جنہوں نے صدیوں تک انسانی ذہن میں تموج پیدا کیا اور ان کی فکر کو متاثر کیا۔

عبدالولید محمد ابن احمد محمد ابن رشد1128ء میں مسلم اسپین کے دارالخلافہ قرطبہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ دادا دو پشتوں سے قضاء کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز تھے۔ ابن رشد بھی بڑے ہوکر اپنے آبائی پیشے قضاء کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے دادا عبدالولید محمد بھی فقہ کے ایک جید عالم تھے اور قرطبہ کی جامع مسجد کے امام بھی تھے۔ ان کے والد بھی قضاء کے عہدے پر فائز ہوئے۔ کمسن ابن رشد نے اپنی تعلیم قرطبہ میں مکمل کی جو مغربی ممالک میں اُس وقت علوم و فنون کا سب سے بڑا مرکز تھا۔

ابن رشد ابتدائی زندگی میں عجزو انکسار اور مہمان نوازی کے لیے مشہور تھے۔ وہ طبعاً خاموش طبع انسان تھے، جو اپنے خیالات میں غرق رہتے تھے اور جاہ و منزلت، نیز دولت سے دور بھاگتے تھے۔ بحیثیت قاضی وہ بہت نرم دل واقع ہوئے تھے اور انہوں نے کبھی کسی شخص کو سخت سزا نہیں دی۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت علمی مطالعے میں گزارتے تھے اور ابن الابار کے قول کے مطابق ان کی طولانی زندگی میں صرف دو راتیں ایسی گزری ہیں جن میں وہ علمی مطالعہ نہیں کرسکے۔ ایک شادی کی رات اور دوسری وہ جس رات کو ان کا انتقال ہوا۔

ابن رشد نے فلسفہ، ریاضی، طب، علم ہیئت، منطق اور فقہ میں تصنیف و تالیف پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ رنیان نے ان کی تصانیف سے مغرب کو روشناس کرایا۔ منگ کے قول کے مطابق ابن رشد ارسطو کی تصانیف کے ممتاز ترین مبصر ہیں۔ ابن الابار کا کہنا ہے کہ ابن رشد کی تصانیف بیس ہزار صفحات میں پھیلی ہوئی ہیں، ان میں سب سے مشہور تصانیف فلسفہ، طب اور فقہ سے متعلق ہیں۔ وہ بہت عرصہ تک قضاء کے عہدے پر فائز رہے اور اپنے زمانے کے مشہور فقیہ تسلیم کیے جاتے تھے۔ ابوجعفر ذہبی کے قول کے مطابق ان کی تصنیف ’’ہدایت المجتہد و نہایت المقتصد‘‘ مالکی فقہ کے متعلق دنیائے اسلام میں بہترین کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔

 ابن رشد کی فلسفیانہ تصانیف نے یورپ کو بہت متاثر کیا۔ اور اب بھی وہ مغرب میں سب سے مقبول اسلامی مفکر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ الفریڈ گیلامے ’’لیگیسی آف اسلام‘‘ (وراثت اسلام) میں لکھتے ہیں: ’’ابن رشد یورپ اور یورپین فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ جدید تجرباتی سائنس کی ابتدا تک ابن رشد کا اثر یورپین فکر پر بہت گہرا تھا۔ ابن رشد کی متعدد تصانیف لاطینی زبان میں موجود ہیں جو عربی زبان میں مفقود ہیں۔ ان کی ’’تہافتہ التہافتہ‘‘ عقلی فلسفہ پر امام غزالی کی تنقید کا جواب ہے۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں ابن رشد کی مقبولیت کی بنیاد زیادہ تر ان کی تین شرحیں ہیں جو انہوں نے ارسطوکی تصانیف سے متعلق لکھی ہیں، ان کے نام ہیں: ’’جامی، تلخیص اور تفسیر‘‘ جن کے ترجمے عبرانی اور لاطینی زبانوں میں کیے گئے۔

 

Thursday, December 18, 2014

حضرت عتبہ بن غزوان کا ایک خطبہ......

خالد بن عمیر عدوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہمیں حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اوراللہ تعالیٰ کی حمد وثناءکرنے کے بعد کہا:دنیا نے اپنے اختتام کی خبردے دی ہے اوربہت جلد پیٹھ موڑنے والی ہے اوراب دنیا صرف اتنی رہ گئی جتنا برتن میں کچھ بچا ہوا پانی رہ جاتا ہے اوراب تم دنیا سے اس جہان کی طرف منتقل ہونے والے ہو جو لازوال ہوگا، سو! تم اپنے ساتھ بہترین ماحضر لے کر منتقل ہو، کیونکہ ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک پتھر کو جہنم کے کنارے سے گرایا جائے گا وہ ستر سال تک اس کی گہرائی میں گرتا رہے گا پھر بھی اس کی تہہ کو نہیں پاسکے گا، اورخد ا کی قسم جہنم بھر جائے گی اور بے شک ہم سے یہ بیان کیاگیا ہے

 کہ جنت کے دروازے کے ایک پٹ سے لے کردوسرے پٹ تک چالیس سال کی مسافت ہے اورجنت میں ضرور ایک ایسا دن آئے گا جب وہ لوگوں کے رش سے بھری ہوئی ہوگی، اورتم کو معلوم ہے کہ میں ان سات صحابہ میں سے ساتواں تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اورہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوااورکوئی کھانے کی چیز نہیں تھی، حتیٰ کہ ہماری باچھیں چھل گئیں۔ مجھے ایک چادر مل گئی تو میںنے اپنے اورحضرت سعد بن مالک کے درمیان اس کے دوحصے کیئے ، نصف چادر کا میںنے تہبند بنایااورنصف کا حضرت سعد بن مالک نے ، اورآج ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی شہرکا امیر ہے ،اورمیں اس چیز سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اوربے شک خلافتِ نبوت ختم ہوگئی اورآخر میں ہر خلافت ملوکیت سے بدل گئی اورتم ہمارے بعد آنے والے حاکموں کا حال بھی دیکھ لو گے اورتم کو ان کا تجربہ بھی ہوجائے گا۔

خالد بن عمیر نے زمانہ جاہلیت پایاتھا وہ کہتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے خطبہ دیا، وہ اس وقت بصرہ کے امیر تھے۔
(شرح صحیح مسلم)

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ اولین صحابہ کرام میں سے ہیں، دوسری ہجرت حبشہ میں شریک ہوئے لیکن کچھ عرصہ کے بعد پھر واپس چلے آئے ۔ہجرت مدینہ کی سعادت حاصل کی اور حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مواخات قائم کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے ۔ تیر اندازی کے لحاظ سے ان کا شمار اپنے فن کے کاملین میں ہوتا تھا۔اصحاب صفہ میں شامل تھے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کئی مہمات کی کامیاب قیادت کی۔ تقویٰ ، زہد، جفاکشی اورعاجزی وانکساری کے اوصاف سے مزین تھے۔ تکبر اورغرور سے دور کا بھی علاقہ نہیں تھا۔فرمایا کرتے تھے میں خدا سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ انسانوں کی نظروں میں حقیر رہنے کے باوجود اپنے آپ کو بڑا سمجھوں۔

(اسد الغابہ) 

اللہ کے حضورجوابدہی!.....

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟آپ نے فرمایا: کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تو سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟صحابہ نے کہا:نہیں، آپ نے فرمایا:چودھویں رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا چاند کودیکھنے سے تمہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟صحابہ نے کہا:نہیں ، آپ نے فرمایا:اس ذات کی قسم !جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں صرف اتنی تکلیف ہوگی جتنی تکلیف تم کو سورج یا چاند کو دیکھنے سے ہوتی ہے،

 آپ نے فرمایا:پھر اللہ تعالیٰ بندے سے ملاقات کرے گا اوراس سے فرمائے گا:اے فلاں !کیا میں نے تجھ کو عزت اورسرداری نہیں دی، کیا میں نے تجھے زوجہ نہیں دی اورکیا میں نے تیرے لیے گھوڑے اوراونٹ مسخر نہیں کیے اورکیا میں نے تجھ کو ریاست اورآرام کی حالت میں نہیں چھوڑا ؟وہ بندہ کہے گا، کیوں نہیں !اللہ تعالیٰ فرمائے گا:کیا تویہ گما ن کرتا تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟وہ کہے گا:نہیں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے بھی تجھ کو اسی طرح بھلادیا ہے، جس طرح تونے مجھے بھلا دیا تھا۔

پھر اللہ تعالیٰ دوسرے بندے سے ملاقات کرے گااورفرمائے گا کیا میں نے تجھ کو عزت اورسیادت نہیں دی، کیا میں نے تجھے زوجہ نہین دی، کیا میں نے تیر ے لیے گھوڑے اوراونٹ مسخر نہیں کیے اورکیا میں نے تجھ کو ریاست اورآرام کی حالت میں نہیں چھوڑا ؟ وہ شخص کہے گا:کیوں نہیں ! اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو یہ گما ن کرتا تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟وہ کہتے گا نہیں  اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے بھی تجھ کواسی طرح بھلا دیا جس طرح تو نے مجھے بھلادیا تھا۔

پھر اللہ تعالیٰ تیسرے بندے کو بلاکر اسی سے اسی طرح فرمائے گا ،وہ کہے گا
اے میرے رب !میں تجھ پر ، تیری کتاب پر اورتیرے رسولوں پر ایمان لایا ، میں نے نماز پڑھی، روزہ رکھا اورصدقہ دیا اوراپنی استطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا ابھی پتا چل جائے گا،پھر اس سے کہاجائے گا ہم ابھی تیرے خلاف اپنے گواہ بھیجتے ہیں ، وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا ، میرے خلاف کون گواہی دے گا! پھر اس کے منہ پر مہر لگادی جائے گی، اوراس کی ران، اس کے گوشت اوراس کی ہڈیوں سے کہاجائے گا ، تم بولو! پھر اس کی ران ، اس کا گوشت اوراس کی ہڈیاں اس کے اعمال کا بیان کریں گی، اوریہ اس لیے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات میں اس کے خلاف حجت ہو، یہ وہ منافق ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا۔ 

(شرح صحیح مسلم)

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...