Friday, October 17, 2014

بہترین انسان......



1۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے کامل ترین ایمان والا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے بہتر ہے، اور تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔ ( جامع ترمذی۔ رقم:1169 
 
۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بروزِ محشر تم میں میرے سب سے زیادہ محبوب اور میری مجلس میں زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو تم میں اچھے اخلاق والے اور نرم خو ہوں، وہ لوگوں سے الفت رکھتے ہوں اور لوگ بھی ان سے محبت کرتے ہوں۔ اور قیامت کے دن تم میں سے میرے لیے سب سے قابلِ نفرت اور میری مجلس میں مجھ سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو منہ بھر کے باتیں کرنے والے، باتیں بناکر لوگوں کو مرعوب کرنے والے اور تکبر کرنے والے ہوں۔ (جامع ترمذی۔ رقم: 2025 
 ۔ حضرب ابودرداؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میزانِ عمل میں حسنِ اخلاق سے وزنی کوئی اور عمل نہیں۔ (الادب المفرد۔ رقم : 273 
 
۔ مسروق بیان کرتے ہیں کہ جب عبداﷲ بن عمرو بن عاصؓ کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور بتلایا کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم بدگو نہ تھے اور نہ آپؐ بدزبان تھے، اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ ( صحیح بخاری۔ رقم : 6029 
 ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ سرور کونین صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا کوئی نہیں کہ جس کا اخلاق اور صورت اﷲ نے اچھی بنائی اور پھر اسے جہنم کی غذا بنائے۔ ( شعب الایمان۔ رقم 8036 
 
۔ حضرت عبداﷲ بن یزید خطمیؓ فرماتے ہیں کہ ہر حسنِ سلوک صدقہ ہے۔ ( مجمع الزوائد۔ رقم: 4749 

 ۔ حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر حسنِ سلوک صدقہ ہے، غنی کے ساتھ ہو یا فقیر کے ساتھ۔   مجمع الزوائد۔ رقم: 474 
حضرت ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ نبویؐ میں عرض کی: یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مجھے کوئی نصیحت فرمائیں۔
آپؐ نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں خوفِ خدا کی نصیحت کرتا ہوں، بیشک یہ دین کی اصل ہے۔ میں نے عرض کی: میرے لیے اور نصیحت فرمائیں۔
آپؐ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت اور اﷲ کا ذکر ضرور کیا کرو کیونکہ تمہارے لیے آسمانوں اور زمین میں نور ہوگا۔
میں نے عرض کی: یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کچھ اور نصیحت فرمائیے۔
آپؐ نے ارشاد فرمایا: جہاد کو اپنے لیے لازم کرلو کیونکہ یہ میری امت کی گوشہ نشینی ہے۔
میں نے عرض کی: یارسول اﷲ کچھ اور نصیحت فرمائیں۔
ارشاد فرمایا: کثرت سے نہ ہنسا کرو کہ یہ دلوں کو مُردہ اور چہرے کو بے نور کردیتا ہے۔

میں نے عرض کی: اے حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم مزید نصیحت فرمائیے۔
ارشاد فرمایا: اچھی بات کے علاوہ خاموش ہی رہو کہ خاموشی تمہارے لیے شیطان سے ڈھال اور دینی کاموں میں تمہاری مددگار ہے۔
میں نے عرض کی: یارسول اﷲ مجھے اور نصیحت ارشاد فرمائیں۔
نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے سے ادنیٰ کی طرف دیکھو، اپنے سے اعلیٰ کی طرف نگاہ نہ کرو، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم نعمتِ خداوندی کو حقیر جانو۔
میں نے عرض کی: دوجہاں کے سرور صلی اﷲ علیہ وسلم کچھ اور نصیحت فرمائیں۔
ارشاد فرمایا: مساکین سے محبت کرو اور ان کی صحبت اختیار کرو۔
میں نے عرض کی: یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور بھی ارشاد فرمائیں۔
ارشاد فرمایا: حق بات کرو اگرچہ کڑوی ہو۔
میں نے عرض کی: یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور بھی ارشاد فرمائیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے قریبی رشتہ دار قطع تعلقی کریں تو ان سے رشتہ جوڑو۔
میں عرض گزار ہوا: یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور نصیحت فرمائیں۔
فرمایا: راہِ خدا میں کسی کی ملامت سے خوف زدہ نہ ہونا۔
میں نے عرض کی: یارسول اﷲ اور نصیحت ارشاد فرمائیں۔
آپؐ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ پھر رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک میرے سینے پر مارا اور ارشاد فرمایا: اے ابوذرؓ عقل جیسی کوئی تدبیر نہیں، گناہوں سے بچنے جیسی کوئی پرہیزگاری نہیں، حسنِ اخلاق جیسی کوئی کمائی نہیں۔ ( الترغیب و الترہیب۔ رقم :24 

ظفر اﷲ خان
 

موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال اور نوجوان.......


موجودہ دور کو ’انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور‘ کہا جاتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت ہی گلوبل ویلیج یعنی عالمی گائوں کی اصطلاح عام ہوئی۔ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہی کمال ہے کہ آج ساری دنیا آپس میں اتنی مربوط ہوچکی ہے کہ جس کے متعلق چند سال قبل تک سوچنا بھی محال تھا۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ جدید دور کی دو ایسی ایجادات ہیں جنہوں نے ساری دنیا میں اطلاعات اور معلومات کی رسائی کا وہ انقلاب برپا کیا ہے جس کی کوئی مثال موجودہ جدید دور میں ملنا مشکل ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی ترقی اور استعمال کے اثرات ہمارے ہاں بھی پہنچ چکے ہیں۔ 

زندگی کی تمام اہم اشیا کی طرح انٹرنیٹ اور موبائل فون کے استعمال کے بھی جہاں بے پناہ فوائد اور ثمرات ہیں وہاں کئی پہلوئوں سے ان کے استعمال کو نقصان دہ اور ضرر رساں بھی سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور بے راہ روی کا سبب کئی دیگر معاشرتی مسائل کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور موبائل کے بے جا اور غیر ضروری استعمال کو تصور کیا جاتا ہے۔

غالباً یہی وہ احساس ہے جس نے چند روز قبل پشاور کے چند اعلیٰ پڑھے لکھے والدین کو ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دینے پر مجبور کیاجس کے ذریعے وہ نوجوان نسل کو غیر اخلاقی سرگرمیوں اور بے راہ روی سے بچانے اور اس ضمن میں والدین اور نوجوانوں میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم تشکیل دینے میں کامیاب ہوئے۔ اس نیک مقصد کا حصول چونکہ کسی فردِ واحد یا چند منتشر افراد کے بس کی بات نہیں تھی اس لیے ان چند لوگوں نے اپنے حلقہ اثر کو وسیع کرتے ہوئے اس نیک کام کا آغاز کر نے سے پہلے ’’آگاہی ‘‘کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ آگاہی کے روحِ رواں انجینئر محمد بشیر صاحب ہیں جو پیشے کے لحاظ الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ انجینئر محمد بشیر نے آگاہی کے نام سے جس فلاحی اور اصلاحی کام کا آغاز کیا ہے اس میں انہیں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد مثلاً ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسروں، صحافیوں اور بعض کاروباری حضرات کی بھرپور سرپرستی اور تعاون حاصل ہے۔ آگاہی نے اپنی سرگرمیوں کاآغاز گزشتہ دنوں اسلامک سینٹر جامعہ پشاور میں ’’موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال اور نقصانات‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کے انعقاد سے کیا جس کے مہمان خصوصی جامعہ زرعیہ پشاور کے وائس چانسلر اور معروف زرعی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد سواتی تھے۔ 

صدارت کے فرائض اسلامک سینٹر کے ڈائریکٹر اور معروف مذہبی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان نے انجام دیے۔جب کہ دیگر مقررین میں الفوز اکیڈمی اسلام آباد کے ڈائریکٹر انجینئرمحمد خان منہاس، آگاہی کے چیئرمین انجینئر محمد بشیر اور امریکہ میں مقیم معروف نیورولوجسٹ ڈاکٹر انوارلحق شامل تھے۔
انجینئر محمد خان منہاس نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پر ’’قرآن و حدیث کی روشنی میں بچوں کی تعلیم و تربیت ‘‘پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے معاشرتی انحطاط اور ہمارے نوجوانوں کی بے راہ روی کا بنیادی سبب دینی تعلیمات سے دو ری ہے۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ تھا کہ ہمیں اپنے بچوں کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوۂ حسنہ کو بطور رول ماڈل پیش کرتے ہوئے بھی آپؐ کی تعلیمات کی پیروی کرنی چاہیے اور اپنے بچوں اور نوجوان نسل کو بھی حکمت و دانائی سے اس بات کی ترغیب دینی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ بلوغت کا دور بچوں کی نگہداشت اور تربیت کا خصوصی متقاضی ہوتا ہے۔ یہی وہ خطرناک عمر ہے جس میں کسی بھی بچے کے بگڑنے اور سدھرنے کے یکساں امکانات ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس عمر میں بچوں کی دلچسپیوں اور ان کے مشاغل پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر انوارالحق نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون اِس زمانے کی سب سے خطرناک ایجادات ہیں۔ ان کی مثال اس نشتر جیسی ہے جو اگر کسی ماہر سرجن کے ہاتھ میں ہو تو شفایابی اور فلاح کی علامت ہے، اور اگر یہی نشتر کسی چور اور ڈاکو کے ہاتھ میں چلا جائے تو پھر یہ نقصان اور خطرے کا باعث بن جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 30 ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں، جب کہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی سائٹس کا تعلق فحاشی اور عریانی سے ہے جو پوری انسانیت اور بالخصوص مسلم معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔ 

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں فحش سائٹس کی روک تھام اور ان سے نوجوان نسل کو بچانے کا کوئی مؤثر اور منظم میکنزم موجود نہیں ہے جو پوری قوم کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ امریکہ اور یورپ میں کل بجٹ کا 30 سے 35 فیصد حصہ ٹیکنالوجی کی ترقی پر خرچ کیا جاتا ہے، جب کہ تمام اسلامی ممالک میں یہ شرح بمشکل ایک تا 5 فیصد ہے۔ پاکستان جیسے مذہبی روایتی معاشرے میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال پوری قوم کو ایک بڑی آزمائش سے دوچار کرسکتا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل کا غلط استعمال زیادہ تر نوجوان رات کی تاریکی اور تنہائی میں کرتے ہیں۔ 

اکثر نوجوان جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں، رات بھر موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے جہاں مخرب الاخلاق سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں وہاں ان منفی سرگرمیوں کے ذریعے آج کی نوجوان نسل کا قیمتی وقت اور ذہنی و جسمانی صلاحیتیں بھی بے دریغ ضائع ہورہی ہیں۔ مغربی معاشرہ مادرپدر آزادی کے منحوس چکر میں جس طرح گھن کی طرح پس رہا ہے اس کا خمیازہ وہ اخلاقی زوال کی صورت میں بھگت رہا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر ظہوراحمد سواتی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کا حسین ترین خطہ ہے، اس خطے کو قدرت نے بے پناہ وسائل سے نواز اہے۔یہاں کی بہادر اور قابل افرادی قوت اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ اس ملک کے معاشرتی مسائل کی جڑ ناخواندگی اور ناقص نظام تعلیم ہے۔ انھوں نے کہا کہ نوجون موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال سے مغربی تہذیب کی جانب مائل ہورہے ہیں جس سے نئی نسل کے اپنی تہذیب اور دین سے بیزار اور دور ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر ہمارے نوجوان موبائل کا مثبت استعمال شروع کردیں تو ہمیں اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کا مثبت اور تعمیری استعمال بلاشبہ مفید اور وقت کی ضرورت ہے، لیکن ان کے غلط اور منفی استعمال کو کسی بھی طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 

موبائل اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانون سازی لازماً ہونی چاہیے لیکن صرف قانون سازی سے کام نہیں چلے گا بلکہ ہمیں اپنے رویوں اور کردار میں بھی تبدیلی لانی ہوگی۔

موبائل فون اور انٹرنیٹ کا مثبت اور تعمیری استعمال بلاشبہ مفید اور وقت کی ضرورت ہے لیکن اس کے غلط اور منفی استعمال کو کسی بھی طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ بظاہر بہت اہم ضرورت نظر آنے والی ان دونوں سہولیات کے استعمال کے وقت یہ فیصلہ کرنا کہ وہ کون سا وقت ہے جب ان کا استعمال درست اور جائز ہوجاتاہے اور فلاں مواقع پر ان کا استعمال غلط اور ناجائز ہے؟ اس کا تعین شاید میچور اور پختہ کار افراد کے لیے توکرنا قدرے آسان اور ممکن ہوگا لیکن نابالغ اور نوجوانی کی دہلیز پر تازہ تازہ قدم رکھنے والی نئی نسل کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل فون کے منفی پہلوئوں اور منفی استعمال سے بغیر کسی نگرانی کے بچنا تقریباً ناممکن ہے۔

 اس نازک مسئلے سے نمٹنے کی آخری ذمہ داری والدین، اساتذہ، میڈیا اور بحیثیتِ مجموعی سارے معاشرے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی مستقبل کی نسل کو اخلاقی اور معاشرتی انحطاط کے گہرے گڑھے میں گرنے سے بچانے کے لیے کس حد تک سنجیدگی اور عملی سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ’’آگاہی‘‘ نے مذکورہ سیمینار جس میں بڑی تعداد میں والدین اور طلبہ و طالبات شریک ہو ئے، کا انعقاد کرکے جس اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اس پروہ نہ صرف مبارک باد کے مستحق ہیں بلکہ توقع کی جانی چاہیے کہ یہ تعمیری سلسلہ آئندہ بھی اسی جذبے اور جوش وخروش سے جاری رکھا جائے گا۔

عالمگیر آفریدی

 

Monday, October 13, 2014

دنیا میں حلال فوڈ کی مقبولیت......


حلال فوڈ سے مراد محض چکن اور بیف ہی نہیں بلکہ حلال فوڈ میں سروسز (خدمات)، مشروبات، کاسمیٹکس، فارماسیوٹیکلز، پرفیوم حتیٰ کہ چاول، پانی، پولٹری خوراک، چمڑے اور ٹیکسٹائل مصنوعات بھی شامل ہیں جن کی تیاری کے عمل میں استعمال کئے جانیوالے تمام کیمیکل اور Additives میں اسلامی نکتہ نظر کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے اور اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ اس دوران کوئی حرام عنصر شامل نہ ہو۔ حلال ایک اسلامی قدر (Value) ہے جس کی رو سے مصنوعات کی فنانسنگ، سورسنگ، پروسیسنگ، اسٹوریج اور مارکیٹنگ میں حرام عنصر یا عمل کی ممانعت ہے۔ دنیا میں اس وقت 25 ممالک میں حلال اشیاء کی سرٹیفکیشن کے 200 سے زائد ادارے قائم ہیں جہاں حلال سرٹیفکیشن جاری کرتے وقت پروڈکٹ کے اجزاء اور پروسیس کو ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ کچھ ماہ قبل ایک سیمینار میں ملائیشیا کے IHIA کے سربراہ درہم دلی ہاشم نے مجھے بتایا کہ آر او (RO) پلانٹ کے ذریعے تیار کئے جانے والے منرل واٹر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی آمیزش بھی کی جاتی ہے جو کئی ذرائع سے حاصل ہوتی ہے جن میں ہڈیاں بھی شامل ہیں اور اگر یہ ہڈیاں خنزیر (سور) کی ہوں تو یہ پروسیس حلال کے زمرے میں نہیں آتا۔ اسی طرح چاول کی پولشنگ کے لئے استعمال ہونے والے کیمیکلز کے بارے میں بھی یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ ان میں ایسا کوئی عنصر شامل نہ ہو جو حرام اشیاء سے حاصل کیا گیا ہو جبکہ لیدر مصنوعات اور ڈینم جینز کی تیاری میں ایسے کیمیکلز استعمال کئے جاتے ہیں جو سور کی چربی سے تیار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پرفیومز میں عموماً الکوحل (ایتھانول) استعمال ہوتا ہے جو شرعی اعتبار سے حلال نہیں جبکہ یورپ میں چاکلیٹ اور میک اپ مصنوعات کی تیاری میں %80 فیصد سْور کی چربی استعمال ہوتی ہے۔

جانوروں کو ذبح کرنے کے معاملے پر بھی دنیا میں مختلف طریقے رائج ہیں۔ یورپ کے بیشتر ممالک میں جانوروں کو الیکٹرک گن سے ہلاک کیا جاتا ہے لیکن فرانس میں مسلمانوں اور یہودیوں کو اپنے جانور چھری سے ذبح کرنے کی اجازت ہے۔ حال ہی میں ایک فرانسیسی مسلمان مصنف نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ یورپ میں جانور کو ذبح کرتے وقت ایک لمبی چین پر لٹکا دیا جاتا ہے اور جب چھری جانور کے سامنے پہنچتی ہے تو ریکارڈ شدہ تکبیر کی آواز میں جانور کو ذبح کر دیا جاتا ہے۔ مصنف کے بقول ذبح کرنے کا یہ طریقہ غیر اسلامی ہے کیونکہ جانور کو ذبح کرتے وقت تکبیر کہنے کے لئے وہاں کسی مسلمان کا ہونا لازمی ہے۔

 انہوں نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ جانوروں کو اسلامی طریقے سے ذبح کرنے سے اُن سے خارج ہونے والے خون اور فاسد مادے کی وجہ سے گوشت حفظان صحت کے مطابق ہو جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس جانوروں کو الیکٹرک گن سے ہلاک کرنے کی صورت میں خون اور فاسد مادے جانور کے جسم میں ہی رہ جاتے ہیں جو حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ورلڈ حلال فورم کی حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا میں حلال فوڈ کی سالانہ تجارت 650 ارب ڈالر سے زائد ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا کی مجموعی حلال مارکیٹ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے جس کے 80 فیصد کاروبار پر غیر مسلم ممالک کا کنٹرول ہے جن میں امریکہ، برازیل، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور فرانس شامل ہیں جو حلال فوڈ برآمد کرنے والے بڑے ممالک شمار کئے جاتے ہیں جبکہ ایشیاء میں حلال فوڈ برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک تھائی لینڈ ہے جس کے بعد بالترتیب فلپائن، ملائیشیاء، انڈونیشیاء، سنگا پور اور بھارت حلال فوڈ برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شمار کئے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف یورپی ممالک میں حلال ٹریڈ کا حجم سالانہ 66 ارب ڈالر سے زائد ہے جس میں فرانس کی 17ارب ڈالر اور برطانیہ کی 600 ملین ڈالر کی ٹریڈ شامل ہیں جبکہ امریکہ کی حلال فوڈ ٹریڈ 13 ارب ڈالر ہے۔ برازیل دنیا میں حلال منجمد چکن برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو 100 سے زائد ممالک کو 10 لاکھ میٹرک ٹن حلال منجمد چکن برآمد کرتا ہے جبکہ فرانس سالانہ ساڑھے سات لاکھ میٹرک ٹن حلال منجمد چکن سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، یمن اور دوسرے اسلامی ممالک کو برآمد کرتا ہے۔ اسی طرح امریکہ دنیا میں بیف کا تیسرا بڑا ایکسپورٹر ہے جس کی حلال بیف کی برآمدات% 80 جبکہ نیوزی لینڈ بیف کا چوتھا بڑا ایکسپورٹر ہے جس کی بیف کی برآمدات %40 ہیں۔ خلیجی ممالک گوشت کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سالانہ 44 ارب ڈالر کا حلال فوڈ امپورٹ کرتے ہیں جنہیں سب سے زیادہ یعنی %54 گوشت برازیل فراہم کرتا ہے جبکہ گاؤ ماتا کی پوجا کرنے والا ملک بھارت خلیجی ممالک کو %11 فیصد گوشت فراہم کرتا ہے تاہم گزشتہ کچھ ماہ سے سعودی عرب نے یورپ سے حلال گوشت درآمد کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے کیونکہ 8 یورپی ممالک سے گائے کے نام پر بھیجے جانے والے گوشت تجزیہ کرنے پرگھوڑے کا گوشت ثابت ہوئے تھے۔

اسی طرح انڈونیشیا کو سب سے زیادہ بیف آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سپلائی کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے مسلم امہ کے دوسرے بڑے اسلامی ملک پاکستان کی حلال ٹریڈ صرف 100 ملین ڈالر سالانہ ہے جو دنیا کی حلال مارکیٹ کا صرف 2.9 فیصد ہے حالانکہ پاکستان دنیا میں گوشت کی پیداوار میں سولہواں بڑا ملک ہے۔ لائیو اسٹاک کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں گائے اور بیل کی تعداد تقریباً 3 کروڑ، بھینسوں کی تعداد پونے تین کروڑ، بھیڑوں کی تعداد ڈھائی کروڑ، بکروں کی تعداد ساڑھے پانچ کروڑ اور اونٹوں کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہے۔ سروے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر ہم بھی حلال فوڈ کی انٹرنیشنل سرٹیفکیشن کا حصہ بن جائیں تو اس سے اربوں ڈالر سالانہ کماسکتے ہیں لیکن ہم ابھی تک ’’حلال پاکستان برانڈ‘‘ کو صحیح معنوں میں متعارف نہیں کراسکے حالانکہ 2011ء میں پاکستان حلال پروڈکٹ ڈیولپمنٹ بورڈ کے قیام کی منظوری دی جاچکی ہے۔حلال فوڈ کے بعد اب دنیا مسلمان مسافروں اور سیاحوں کی اربوں ڈالر کی مسلم ٹریول مارکیٹ کے بزنس کو فوکس کر رہی ہے کیونکہ دنیا میں ابھی تک ہوٹلوں، ایئرلائنز اور ٹور آپریٹرز نے مسلم سیاحوں کو اُن کی ضروریات کے مطابق خاطر خواہ سہولتیں فراہم نہیں کی ہیں۔

اس سلسلے میں OIC کے اسلامک فنانس کے سربراہ رشدی صدیقی اور مسلم طرز زندگی ٹریول مارکیٹ اسٹڈی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق گزشتہ سال مسلم ٹریولر جن میں ملائیشیا، ترکی اور عرب امارات سرفہرست ہیں، نے ٹریولنگ پر 130 ارب ڈالر خرچ کئے جو دنیا کی مجموعی ٹریولنگ کا %13 ہے اور یہ 2020ء تک بڑھ کر 200 ارب ڈالر ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، ایران، انڈونیشیا، کویت، مصر، قطر، امریکہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے مسلم ٹریولر بھی قابل ذکر ہیں جن کی اہم ضروریات میں کھانے پینے کی حلال اشیاء کی دستیابی، نماز کی ادائیگی کے لئے سہولتیں، مسلم بیت الخلا اور ان کی رہائش کے ارد گرد غیر اخلاقی سرگرمیوں کا نہ ہونا شامل ہے لیکن ان میں سب سے اہم معاملہ ایئرلائنز اور ہوٹلوں میں حلال فوڈ کی دستیابی ہے کیونکہ کوئی بھی مسلمان حلال فوڈ پر کسی طرح سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ یمن کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے میں پاکستان میں یمن کے مریضوں کے لئے مسلم ہیلتھ ٹورازم متعارف کرا چکا ہوں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم امہ کی حلال فوڈ اور سروس کی بڑی مارکیٹ کے پوٹینشل کے پیش نظر مسلم امہ میں ’’حلال پاکستان برانڈ‘‘ موثر حکمت عملی کے تحت متعارف کرایا جائے۔

اشتیاق بیگ