Saturday, May 16, 2015

ضرورت سے زائد


حضرت سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : اے آدم کے بیٹے ! اے انسان اگر تو اپنی ضرورت اور حاجت کے زائد مال اللہ رب العزت کی راہ میں خرچ کردے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے اورزائد از ضرورت مال کو روکے رکھنا تیرے لیے نقصان دہ ہے ، بہتر نہیں ہے، اورضرورت کا سروسامان زندگی اپنے پاس رکھنے میں تجھے ملامت نہیں کی جائگی اورمال خرچ کرنے کی ابتداءان سے کرو جن کی کفالت تمہارے ذمہ ہے اور(سن لو)اوپر والا (سخی کا)ہاتھ نیچے (مانگنے) والے ہاتھ سے بہترہے۔(مسلم، ترمذی، الترغیب والترہیب ، احمد ، مشکوٰة )۔

حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جس نے فی سبیل اللہ کو ئی چیز خرچ کی تواس کیلئے سات سوگنا تک اجر لکھا جاتا ہے۔(سنن ترمذی، نسائی، مشکوٰة ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم ، ذہنی )۔

 حضرت ابودرداءرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضور سید المرسلین علیہ الصلوٰة والسلام نے ارشادفرمایا : جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے تواسکے دونوں جانب دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جو ایسی آواز سے ندادیتے ہیں جسے انسانوں اورجنوں کے علاوہ تمام زمین والے سنتے ہیں وہ کہتے ہیں: اے لوگو! اپنے پروردگار کی طرف بھاگو ، بے شک جو چیز مقدار میں کم ہومگر ضروریات کو کفایت کرنیوالی ہو، وہ اس چیز سے بہتر ہے ، جو بہت زیادہ ہو مگر (اطاعت الٰہی سے)غافل کردینے والی ہو، اورجب سورج ہنگامِ غروب میں ہوتا ہے تو اس وقت بھی دوفرشتے اسکے دونوں اطراف میں بھیجے جاتے ہیں اوروہ (بھی)ایسی آواز سے ندادیتے ہیں جسے انسانوں اورجنوں کے علاوہ سب اہل ارض سنتے ہیں ، وہ کہتے ہیں: اے اللہ جل جلالک،خرچ کرنےوالے کو اس کا نعم البدل عطاءفرمایا اوربخیل کے مال ومنال کو ہلاک کردے۔ صحیح ابن حبان ، مشکوٰة ، امام احمد بن حنبل، مستدرک امام حاکم

البانی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے محقق شعیب کہتے ہیں اسکی اسناد صحیح مسلم کی شرائط کے مطابق ہے)۔ حضرت خالد بن اسلم رحمة اللہ علیہ جو سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کےساتھ تھا، ایک اعرابی نے آپکے سامنے سورة توبہ کی آیت تلاوت کی ”وہ لوگ جو سونا چاندی کو ذخیرہ کرتے ہیں اوراسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے“ اورپوچھا اس کا مفہوم کیا ہے، آپ نے فرمایا: جس نے مال ذخیرہ کیا اوراس پر زکوٰة نہ اداکی تواس کیلئے بربادی ہے یہ حکم زکوٰة سے پہلے کا ہے جب زکوٰة کا حکم آگیا تو اس زکوٰة کو اللہ نے مال کیلئے پاک کرنیوالی چیز بنادیا ، پھر آپ نے متوجہ ہوکر فرمایا : مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میرے پاس اورپہاڑ جتنا سونا ہو میں اسکی مقدار سے واقف ہوں، اوراسکی زکوٰة اداکرتا رہوں اوراللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں عمل کرتا رہوں۔ ابن ماجہ

Saturday, May 9, 2015

Giving in the way of Allah (infaq) - انفاق فی سبیل اللہ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے استفسار فرمایا :تم میں سے کون ہے کہ جسے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟صحابہ کرام نے عرض کی، یارسول اللہ !ہم میں سے ہر ایک کو اپنا مال، وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہے ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا: بلاشبہ ایک مومن کا مال تو وہی ہے جو اس نے (آخرت کے زاد راہ کے لیے )آگے بھیج دیا اوراس کے وارث کا مال وہ ہے جو اس نے (پس مرگ ) اپنے پیچھے چھوڑ دیا۔ سنن نسائی، مشکوٰۃ ،احمد، ابن حبان

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید العالمین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ارشادفرمایا : صدقہ نے کبھی ما ل کم نہیں کیا اورمعاف کردینے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت بڑھادیتا ہے اورجو اللہ رب العزت کی خاطر تواضع اورانکساری کرتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اسے رفعت وسربلندی سے نوازدیتا ہے۔ مسلم، ترمذی ، موطاامام مالک، الترغیب والترہیب

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ صحابہ کرام نے ایک بھیڑ ذبح کی، اور اس کا گوشت صدقہ کرنا شروع کردیا (تقسیم سے فارغ ہوئے تو)حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے استفسار فرمایا: اس گوشت میں سے کیا بچاہے؟ حضرت عائشہ صدیقہ نے عرض کی، بھیڑ کا ایک بازو باقی رہ گیا ہے ، آپ نے ارشادفرمایا: (درحقیقت)اس بازو کے علاوہ باقی سب بچ گیا ہے ۔ ترمذی، احمد، مشکوٰۃ 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ ارشادفرماتا ہے ،اے آدم کے بیٹے تو (میرے راستے میں)خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔(بخاری ، مسلم، ابن ماجہ، احمد ، الترغیب والترہیب)حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : پوشید ہ (انداز میں)صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ الجامع الصغیر ، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ: البانی 

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : کبھی ایک درہم ایک لاکھ درہم پر سبقت لے جاتا ہے، عرض کی گئی وہ کیسے؟ فرمایا : ایک شخص کے پاس صرف دودرہم ہیں اس نے ان میں سے ایک (اسی وقت)صدقہ کردیا، ایک اورشخص اپنے مال کی جانب گیا تو اس میں سے ایک لاکھ درہم لیے پھر اسے صدقہ کر دیا ، (نسائی ، صحیح ابن حبان ، احمد ، مستدرک)امام حاکم اورامام ذہنی کہتے ہیں اس حدیث کی اسناد صحیح مسلم کی شرائط کے مطابق ہیں۔

Tuesday, May 5, 2015

فرشتوں کی دعاء...

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں ہر (اس )دن جس میں اللہ رب العزت کے بندے صبح کے عالم سے ہم کنار ہوتے ہیں (آسمان سے) دو فرشتے نازل ہوتے ہیں ، ان میں ایک (اس طرح) دعاء کرتا ہے ، اے اللہ جو شخص تیرے راستے میں خرچ کرنیوالا ہے اسے اس کا بہترین بدل عطاء فرما اوردوسرا فرشتہ (اللہ کی بارگاہ میں اس طرح)عرض کرتا ہے ، اے رب ذوالجلال مال روک کررکھنے والے اوراسے فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنیوالے کے مال کو تلف فرمادے - بخاری ، مسلم، مشکوٰۃ ، الترغیب والترہیب 

وہ شخص کس قدر خوش قسمت جس کیلئے کوئی خلوص ونیت سے دعاء مانگنے والا ہو، مومن کیلئے کوئی دوسرا مومن غائبانہ دعاء کرے تواس کیلئے بھی بڑی بشارت کا سامان ہے ، دعاء عبادت کا مغزہے اوردعاء سے تقدیر میں بہتری آجاتی ہے ۔ ملائکہ اللہ رب العزت کی نوری مخلوق ہیں، خطائوں اورگناہوں سے پاک ہیں ، اللہ کے ذکروتسبیح میں مشغول رہتے ہیں اوراس احکام کی بجاآوری کیلیے ہر وقت مستعدرہتے ہیں ، اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرتے بلکہ اللہ ہی کے حکم سے حرکت کرتے ہیں اور اللہ ہی کے حکم سے لب کشاہ ہوتے ہیں، اگر یہ کسی خوش نصیب کیلئے دعاء کرتے ہیں تو یہ دعاء بھی اللہ رب العزت کے حکم سے ہی ہے۔

اللہ رب العزت کے راستے میں خرچ کرنیوالا انسان وہ خوش بخت ہے جس کیلئے معصوم اورنوری فرشتے اللہ کریم کے حکم سے دعائیہ کلمات اداکرتے ہیں۔اس حدیث مبارکہ میں اللھم اعط منفقاً خلفاکے الفاظ ہیں یعنی اے رب کریم اپنے رستے میں خرچ کرنیوالے کو اس کا نعم البدل عطاء فرما۔ ایک چیز کے بعد آنے والی دوسری چیز کو خلف کہتے ہیں۔ اگر خلف لام کے سکون سے ہو تو ایسی چیز مراد ہوتی ہے جو خیر وبرکت سے خالی ہو، لیکن اگر لام کے فتح (زبر)کے ساتھ ہوتو اس سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جو خیر وبرکت سے معمور ہو اوراپنے دامن میں سعادت اورعنایت لیکر آئے ۔ 

فرشتے خیرات فی سبیل اللہ کرنیوالے کیلئے ایسے بدل کی دعاء کرتے ہیں جو رحمتوں ، برکتوں اور وسعتوں سے پر ہو، یعنی اسے اس انفاق کے نتیجے میں مزید کامیابی،کشادگی ، علم وہنر، عزت ووقار ،اورشہرت وکامرانی نصیب ہو، خلف کا تعلق نیک اولا سے بھی ہوسکتا ہے ، نیک اولاد انسان کیلئے دعاء گو رہتی ہے اورصدقہ جاریہ ثابت ہوتی ہے ، خلف کسی ایسے کام کی توفیق بھی ہوسکتی ہے جس کا ثواب انسان کو اسکے مرنے کے بعد بھی ہوتا رہے ۔ اس طرح جو فرشتہ تلف کی دعاء کرتا ہے ،اس سے مراد مال کا تلف ہوسکتا بھی ہے،جسکے نتیجے میں انسان فقروفاقہ کی اذیت میں مبتلاء ہوسکتا ہے اورسوال کی ذلت سے گزر سکتا ہے، اس سے برکت کا اٹھ جانا بھی مراد ہوسکتا ہے جسکے نتیجے مال ہونے کے باوجود انسان کواس سے ثواب کی توفیق نہ ملے، جان کا بے جا زیاں بھی تلف ہے اوراولاد واہل وعیال کا بگڑ جانابھی تلف کی ہی ایک صورت ہے۔

Sunday, May 3, 2015

قابلِ رشک لوگ

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : رشک دوافراد پر ہونا چاہیے ، ایک وہ شخص جسے اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کی دولت سے سرفراز فرمایا پس وہ شب وروز کی طویل ساعتوں میں اس کی تلاوت میں مصروف رہتا ہے اوردوسرا وہ انسان جسے اللہ کریم نے دولت عطاء فرمائی اوردن رات اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا رہتا ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، مجمع الزوائد ، المعجم الکبیر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:رشک (صرف) دوآمیوں میں ہونا چاہیے ، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید سکھایا پس وہ رات کی ساعتوں میں اوردن کے اوقات میں اس کی تلاوت میں مصروف رہتا ہے، اسکے ایک پڑوسی کو اس کے بارے میں خبر ملی تو اس نے کہا : کاش ! مجھے بھی وہ چیز عطاء کردی جاتی جو فلاں کو عطاء کی گئی ہے تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جیسا کہ وہ کرتا ہے ،اورایک (خوش بخت)انسان جسے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے مال ودولت عطاء فرمائی تو اسے حق میں (دین اسلام کی اشاعت میں)صرف کرتا ہے تو ایک شخص نے (اس پر مطلع ہوکر) کہا، کاش! مجھے بھی وہ عطاء کیا جاتا جو اسے عطاء کیا گیا ہے تو میں بھی ایسے ہی عمل کرتا جیسے وہ عمل پیرا ہے ۔ بخاری ، مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ،میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کی، یارسول اللہ (صلی اللہ علیک وسلم)سب سے افضل عمل کون ساہے؟ حضور معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : اللہ پر ایمان لانا اورجہاد فی سبیل اللہ میں نے عرض کی، کون ساغلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا : قیمت کے اعتبار سے سب سے مہنگا اوراپنے مالکوں نے ہاں سب سے زیادہ نفیس ، میں نے عرض کی: اگرمیں ایسا نہ کرسکوں تو؟ آپ نے ارشادفرمایا : کسی کا ریگر کی مدد کردو، یاکسی بے ہنر کا کام کردو، میں نے عرض کی ، اگر میں ایسا نہ کرسکوں تو ، حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھ، کیونکہ یہ وہ صدقہ ہے جو تو اپنے نفس پر صدقہ کرتا ہے۔  بخاری ، مسلم، ابن ماجہ، نسائی ، بیہقی ، ابن حبان

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اکابر صحابہ کرام میں سے ایک ہیں ، زہد، قناعت ، بے نیازی اورحق گوئی ہمیشہ ان کا نشان امتیاز رہے، آپ کی وساطت سے حضور ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایک مسلمان کو ہمیشہ دوسروں کا خیر خواہ رہنا چاہیے ، ایک مسلمان کا یہ کام نہیں کہ وہ ہمیشہ ریشہ دوانیوں میں مشغول رہے اورسازش کرتا رہے، طاقت رکھنے کے باوجود برائی اورشرانگیزی سے بچنے کو بھی صدقہ قرار دیا گیا ۔