Monday, November 24, 2014

درود شریف کی برکات....

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میں آپ پر بکثرت درود بھیجتا ہوں، لہٰذا اس کے لئے کتنا وقت مقرر کروں؟ 
آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، "جتنا چاہو۔ 
میں نے عرض کیا، "اپنی عبادت کے وقت کا چوتھا حصہ مقرر کر لوں؟ 
آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، "جتنا چاہو کر لو لیکن اگر اس سے زیادہ کرو تو بہتر ہے۔ 
میں نے عرض کیا، "آدھا وقت؟ 
آپ نے فرمایا، "جتنا چاہو، لیکن اس سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ 
میں نے عرض کیا، "دو تہائی وقت؟ 
آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،"جتنا چاہو، لیکن اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو بہتر ہے۔ 
میں نے عرض کیا، "تو پھر میں اپنے وظیفے کے پورے وقت میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا کروں گا۔ 
آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، "پھر اس سے تمہاری (دونوں جہانوں کی) تمام فکریں دور ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ 
(جامع ترمذی )
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 
"بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ 
(جامع ترمذی )

The Excellence of Reciting the Durood Sharif

Sunday, November 23, 2014

صفر کا مہینہ اور غلط تصورات ......

رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا 
چھوت لگنا یا بدشگونی لینا یا الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں 
صحیح بخاری 5707 کا کچھ حصہ. جلد 7

رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:
چھوت لگ جانا یا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے.
صحیح بخاری 5757 کتاب الطب جلد 7

رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:
امراض میں چھوت چھات کی اور بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اگر نحوست ہوتی تو یہ صرف تین چیزوں میں ہوتی عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں.
صحیح بخاری 5753 کتاب الطب

ماہ صفر محرم کے بعد سنہ ہجری کا دوسرا مہینہ ہے- صفر کے معنی خالی کے ہیں مشرکین کا خیا ل تھا کہ یہ مہینہ خیر و برکت سے خالی ہے بلکہ اسے وہ منحوس جانا کرتے تھے- اس میں شادی بیاہ نہ کرتے اور نہ ہی کوئ اور بڑا کام کرتے تا کہ اس میں نحو ست نہ آ جا ۓ-

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف لفظو ں میں اعلان فرمایا :
"بغیر اللہ کے حکم کے کسی کی بیماری کسی دوسرے کو نہیں لگتی نہ بُرے شگون لینا درست ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے 
اس ،مہینہ میں آسمان سے بلائیں نازل ہونے والی بات بھی کسی حدیث سے ثابت نہیں
صد افسوس!!!! کہ ماہ صفر کے با رے میں مسلما نوں نے بھی ایسے غلط خیا لات کو دل میں جما لیا ہے صفر کے لیے " تیرہ تیز ی " کی اصطلا ح لوگوں میں مشہو ر ہے – یعنی یہ خیال کہ شروع کے تیرہ دن بہت تیز ہیں ، ان میں شادی وغیر ہ نہ ہونی چا ہیے بلکہ ان دنوں کی نحو ست دور کرنے کے لیے چنے اُ با ل کرتقسیم کرتے ہیں اور اس طرح ان تیرہ دنوں کی نحوست دُور کرتے ہیں یا آخری بدھ کو سیر پر جاتے ہیں یہ سب بدعات ہیں ------------ نعو ذ باللہ من ذ الک
الله پاک عمل کی توفیق دے اور ہمیں ہر قسم کی بدعات سے بچایے کیوں کے بدعت گمراہی اور جہنم کا راستہ ہے

طالب دعا حافظ عثمان

The month of SAFAR and misconceptions



Saturday, November 22, 2014

یوون رڈ لی کا قبول اسلام.....Yvonne Ridley's Conversion to Islam

 میرا قبول اسلام ،کابل سے واپسی کے ڈھائی سال بعد کا واقعہ ہے یہ ڈھائی سال میں نے اسلام کے مطالعے میں گزارے ،جب میں نے خود کو اس عظیم مسلم برادری میں شامل ہونے کے لیے بالکل تیار پایا تو عمران خان کو اپنے فیصلے سے مطلع کیا ،انہوں نے ایک بار پھر غور کرنے کے لیے کہا ،میں نے کہا کہ کہ ڈھائی سال سوچتی رہی ہوں اب صرف عمل کرنا ہے یہ میرا قطعی فیصلہ ہے۔میں اس کے لیے خاص تقریب کے انعقاد یا پر جوش تقریر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتی ،بس عمران خان اور ہمارے تین دوست موجود تھے۔

جہاں تک اثرات یا میری زندگی کے معمولات ،خاندانی تعلقات اور حلقہ احباب کے رد عمل کا تعلق ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ میں نے کلبوں میں جانا ، شطرنج کھیلنا اور مخلوط محفلوں میں جانابالکل چھوڑ دیا ہے۔ اس طرح جو احباب بچھڑنا تھے بچھڑ چکے۔ اب میں ان تمام حرکتوں سے اجتناب کرتی ہوں جنہیں گناہ کہا جاتا ہے۔میں افغانی عورتوں کی طرح شٹل برقع نہیں پہنتی لیکن اسلامی تعلیمات کے مطابق حجاب پہنتی ہوں اس میں بھی چہرے اور ہاتھوں کے سوا سارا جسم ڈھانپا ہوتا ہے۔جو لوگ مجھے بطور یو آنے رڈلے ، بے حد عزیز جانتے تھے۔ وہ مجھے بطور مریم دیکھ کر شش و پنج میں پڑ جاتے ہی اور کچھ کھچے کھچے رہتے ہیں۔ اس سے انہیں  اسلام کے بارے میں ایک ناقابل فراموش پیغام تو مل گیا۔ 

مجھے عیسائی بنیاد پرستوں کی طرف سے قتل کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ میں نے ان کے مذہب سے غداری کی ہے یہ ان کی تعبیر ہے اور میری تعبیر یہ ہے کہ میں نے اپنے مطالعے اور اپنے ضمیر کے مطابق ایک فیصلہ کیا ہے جس سے مجھے بے پناہ طمانیت حال ملی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس سے پہلے میری زندگی کا کوئی نصب العین نہیں تھا اب مجھے جینے کا ایک واضح مقصد نظر آگیا ہے زندگی بہت خوبصورت دکھائی دے رہی ہے۔البتہ ایک پچھتاوا ہے کہ میں نے اسلام کو سمجھنے میں اتنی دیر کیوں کردی پھر یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نظر کرم کر ہی دی اب باقی زندگی اس کے احکام کے مطابق گزاروں گی۔ میں اب غیر مسلموں میں غیر محسوس طریقے سے اسلام کی روشنی پھیلا رہی ہوں۔۔۔۔

" کتاب "طالبان کی قید میں " سے اقتباس


Yvonne Ridley's Conversion to Islam

فضیلت صلوٰة اور احادیث مبارکہ.....

جس طرح قرآن مجید میں نماز کا کثرت سے ذکر کیاگیا ہے۔ اس طرح احادیث مبارکہ کا ذخیرہ نماز کی فضیلت، اہمیت اور اسکے متعلقہ مسائل کے ذکر سے معمور ہے۔ حدیثِ پاک کے کسی بھی مجموعے کا مطالعہ کیجئے۔کتاب الصلوٰة، ابواب الصلوٰة کے زیر عنوان نماز ہی کا ذکر ہے۔ احادیث مبارکہ میں نماز ہی کو مرکزِ عبادات کادرجہ حاصل ہے۔ 

٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”قیامت کے روز لوگوں سے انکے اعمال میں سے سب سے اوّل حساب نماز کا لیا جائیگا۔ (سنن ابوداﺅد) یہی حدیث مبارکہ الفاظ کے معمولی اختلاف کیساتھ جامع الترمذی میں بھی موجود ہے جبکہ سنن نسائی میں اس میں یہ الفاظ بھی شامل ہیں۔ 

٭سو اگر نماز کا معاملہ درست ٹھہرا تو وہ بندہ فلاح ونجات پاگیا اور یہی معاملہ بگڑگیا تو وہ نامراد اور خسارہ پانے والا ہوا۔ (سنن نسائی) امتحان کی پہلی منزل میں کامیابی نصیب ہوجائے تو یہ اگلی منزلوں میں بھی نجات کی توید ثابت ہوگی اور اگر خدانخواستہ پہلے مرحلے ہی میں لغزش سامنے آجائے تو اسکے اثرات آئندہ کیلئے بھی بڑے ضرر رساں اور مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔ 

٭ حضرت علی کر م اللہ وجہہ¾ الکریم فرماتے ہیں۔ نبی کریم نے وصال فرماتے ہوئے جو آخری کلام فرمایا وہ تھا۔ الصلوٰة، الصلوٰة اور یہ کہ تم اپنے غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ (سنن ابی داﺅد) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک فریضہءصلوٰة کی کتنی اہمیت ہے کہ آپ نے دنیا سے جاتے ہوئے بھی اسکی تاکید بلکہ تاکید بالائے تاکید کو انتہائی ضروری سمجھا ۔ تعلق بااللہ کی اس استواری کیساتھ آپ نے اس وقت معاشرے کے سب سے کمزور اور زےردست طبقے یعنی ”غلاموں“کی خیر خواہی کا پیغام بھی ارشاد فرمایا ۔ یہ دین اسلام کی جامعیت کی طرف واضح اشارہ ہے۔ جہاں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو اہمیت حاصل ہے اور توازن اور اعتدال کا پیغام ہر جگہ نمایاں نظر آتا ہے۔ 

٭حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔”بلاشبہ رسول اللہ (بڑے انہماک اور استواری سے) نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپکے دونوں قدم زخمی ہوجاتے۔ آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ آپ یہ کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ کیلئے بخشش ہی کہ آپ پہلے بھی گناہوں سے محفوظ رہے ہیںاور آئندہ بھی رہینگے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:۔ ”کیا میں (اپنے رب تعالیٰ کا ) شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔ (بخاری) ٭حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم نے فرمایا: ”نماز دین کا ستون ہے“۔ (شعب الایمان) ستون پر ہی کوئی عمارت استوار ہوتی ہے اور دین کی عمارت کا مرکزی ستون نماز ہے۔ یہ حدیث ہمیں اس امر کا احساس دلاتی ہے کہ نماز محض ذاتی مسئلہ یا انفرادی عمل نہیں ہے بلکہ اسلامی معاشرے کے حقیقی قیام اور بقا کیلئے اس فریضہ صلوٰة کی ادائیگی بہت ضروری ہے اور یہ اس کا نشان امتیاز ہے۔