Monday, April 27, 2015

تقویٰ اختیار کرنے والے...


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ رب العزت سات افراد کو اپنے (سایہءعرش) میں رکھے گا،جس روزاس کے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہو گا ،عدل پرور حکمران وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت اورریاضت میں اپنی نوجوانی بسر کی ،وہ شخص جس نے اپنی تنہائی میں اپنے پروردگار کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، وہ شخص جس کا دل(ہمیشہ) مسجد (ہی) میں معلق رہا ،وہ دو اشخاص جنہوں نے (محض) اللہ تبارک و تعالی کو راضی کرنے کے لئے ایک دوسرے سے محبت کی،وہ شخص جسے کسی حسن و جمال اور مال وثروت والی عورت نے دعوتِ گناہ دی اور اس نے کہا کہ میں تو اللہ( علیم و خبیر)سے ڈرتا ہوں ،اور وہ شخص جس نے بڑی راز داری سے چھپاکر صدقہ کیا، حتی کہ اس کے بائیں ہاتھ کومعلوم نہ ہو سکا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا کیا ہے۔(بخاری ،ترمذی ، صحیح ابن حبان،احمد)۔ 

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے ایمان کا افضل درجہ یہ ہے کہ اسے اس امر کا یقین رہے کہ وہ جہاں بھی ہے اس کا اللہ (سمیع وبصیر ) اس کے ساتھ ہے۔ (بیہقی)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںحضور رحمتہ للعالمین علیہ الصلوٰة والسلام ایک قریب المرگ نوجوان کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے استفسار فرمایا،اس وقت تیری کیا حالت اور کیفیت ہے؟ اس نے عرض کی، میں اللہ غفور الرحیم کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈر بھی رہا ہوں، آنجناب نے یہ سن کرارشاد فرمایا:ایسے موقع پر کسی بندے کے دل میں یہ دو چیزیں جمع نہیں ہوتیں، الا یہ کہ اللہ کریم اسے اس کی امید کے مطابق ہی عطا فرماتا ہے اور اسے خوف و خطر سے امن میں رکھتا ہے۔ ترمذی ،ابن ماجہ، بیہقی 

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابو ہریرہ! تقوی اور پرہیز گاری اختیار کرو گے تو تم لوگوں میں سب سے بڑے عالم ہو جاﺅ گے،قناعت اختیار کرلو تو سب سے بڑھ کرشاکر ہو جاﺅ گے، اگر دوسروں کے لے بھی وہ چیز پسند کرو گے جو تم اپنے لے کرتے ہو تو کامل الایمان گردانے جاﺅ گے، اپنی صحبت میں رہنے والے سے حسن سلوک کرو گے تو عمدہ مسلمان ہو گے اور ہنسی کو کم کروکہ ہنسی کی کثرت دل کو مردہ کر دیتی ہے۔(بیہقی) بیان کردہ روایات اسلامی ماحول اورمعاشرے میں حسن نیت اور اخلاص کی فضاءپیدا کرنے کی تلقین کرتی ہیں ۔بلکہ اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ مومن جہاں بھی ہواس کے ہر کام کی غرض محض اورمحض اللہ کی رضاءکا حصول ہوناچاہیے ۔ دنیاکی شہرت ، نیک نامی ، صلہ و ستائش عارضی اورفانی چیزیں ہیں جن کی بازار ِ آخرت میں کوئی قدروقیمت نہیں ۔

Saturday, April 25, 2015

غنیمت جانو.....

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کاندھے پر اپنا دستِ مبارک رکھا اورارشادفرمایا :دنیا میں ایک مسافر کی طرح رہو، ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم صبح کروتو شام کا انتظار نہ کرو، اورشام آئے تو صبح تک انتظار نہ کرو(گناہوں سے فوراً توبہ کرواورحسن عمل کو اپنا شعار بنالو)اپنی صحت سے اپنے مرض اوراپنی زندگی سے اپنی موت کا سامان کرلو۔ صحیح بخاری ، الجامع الصغیر 

حضرت عمر وبن محمودالاودی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے ارشادفرمایا :پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں کے آنے سے پہلے غنیمت سمجھو، اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، اپنی خوشحالی کو اپنی تنگ دستی سے پہلے ،اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے، اوراپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔ نسائی ،بیہقی 

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم پر ہاتھ رکھ کر فرمایا :اے عبداللہ !دنیا میں ایک مسافر کی طرح رہ اوراپنے آپ کو مردوں میں شمار کر ۔ ترمذی ، ابن ماجہ ، مسند احمد

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ دنیا میں دونعمتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے بہت سے لوگوں پررشک کیاجاتا ہے ،ایک صحت اوردوسری فارغ البالی۔ سنن ابودائود، سنن ترمذی ، مستدرک ،ابونعیم

 حضرت برأ بن عازب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جنازے میں حضور شفیع المذنبین ، رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھے، جب ہم قبر کے قریب پہنچے تو آپ قبر کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے ہیں آپ کے روبرو ہوا تو میں نے دیکھا کہ آپ کی چشم ہائے مبارکہ سے آنسو بہہ رہے ہیں یہاں تک کہ آپ کے سامنے کی مٹی آنسوئوں سے تر ہوگئی اورآپ نے ارشادفرمایا:میرے بھائیوں ایسے ہی روز کیلئے تیاری کرو۔ الجامع الکبیر :سیوطی  بیہقی 

حضر شدّاد بن اویس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا ، دانااورعقل مند وہ ہے جس نے اپنی ذات سے انصاف کیا، اپنا محاسبہ کیا،اورموت کے بعد آنے والی دنیا کیلئے زادِ عمل تیار کرلیا اورعاجز اورکمزور وہ ہے جس نے اپنے نفس کی پیروی کیاوراللہ تعالیٰ سے (دنیا )کی تمنائیں اورآرزوئیں ہی کرتا رہا۔(السنن الکبریٰ ، بیہقی ، الجامع الصغیر)حضرت 

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسالت مآب کا ارشادگرامی ہے جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کا نقصان کیااورجس نے اپنی آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کا نقصان کیا پس تم فنا ہونیوالی کو باقی رہنے والی پر ترجیح نہ دو۔ مسند اما م احمد بن حنبل، الجامع الصغیر

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...