Sunday, December 4, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

تعلیمی اداروں میں قرآن کی لازمی تعلیم کا ایکٹ منظور

وزیراعظم نے ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے سے متعلق ایکٹ (کمپلسری ٹیچنگ آف ہولی قرآن ایکٹ) منظور کر لیا۔

ایکٹ پارلیمان سے منظوری کے بعد لاگو کیا جائیگا، ایکٹ کے تحت بچوں کواول سے پنجم تک ناظرہ جبکہ پنجم سے 11ویں تک قرآن پاک ترجمے سے پڑھایا جائیگا۔ وفاقی وزیربلیغ الرحمن نے کہا کہ قومی نصاب کونسل کے سلسلے میں تمام صوبے متفق ہیں.

قاسم نواز عباسی

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

کعبۃ اللہ کے اندر کیا کیا ہے، تصاویر ملاحظہ کیجیے

کعبۃ اللہ قریباً 180 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے اور اس کی چھت لکڑی کے تین مضبوط ستونوں پر ایستادہ ہے۔ ستونوں کی لکڑی دنیا کی مضبوط ترین لکڑیوں میں سے ایک ہے اور صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے  لکڑی کے یہ تینوں ستون بنوائے تھے۔ گویا اس وقت ان کو 1350 سال گزر چکے ہیں۔ ان کی رنگت گہری بھوری ہے۔ لکڑی کے ہر ستون کا عمود ( محیط) قریباً 150 سینٹی میٹر اور قطر (موٹائی) 44 سینٹی میٹر ہے۔ ان تینوں ستونوں کے درمیان میں ایک پتلی شہتیر نما لٹھ آویزاں ہے اور یہ تینوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہے۔ اس پر کعبۃ اللہ کے تحائف اور نوادرات لٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے دونوں اطراف کعبہ کی شمالی اور جنوبی دیواریں ہیں۔


مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے انتظام وانصرام کے ذمے دار ادارے (الحرمین الشریفین صدارت) نے العربیہ کو بتایا ہے کہ کعبہ کے دائیں جانب اندرونی حصے میں رکنِ شامی ہے۔ اس میں ایک سیڑھی ہے جو مستطیل نما کمرے کی جانب جاتی ہے۔ اس کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں ہے۔ اس کا ایک دروازہ ہے اور اس کا خصوصی تالا ( قفل) ہے۔ اس کے دروازے پر خوب صورت ریشم کا پردہ لٹکا ہوا ہے اور اس پر سنہرے اور نقرئی رنگ کی کشیدہ کاری ہوئی ہے۔



صدارت نے یہ بھی بتایا ہے کہ کعبہ کا اندرونی فرش سنگِ مرمر کا ہے۔ یہ زیادہ تر سفید ہے۔ تا ہم سنگ مرمر کے دوسرے رنگوں کے ٹکڑے بھی فرش پر لگے ہوئے ہیں۔ کعبہ کا اندرونی حصہ خوب صورت سنگ مرمر کے ٹکڑوں سے مزیّن ہیں اور سرخ رنگ کی ریشم کے پردے سے ڈھانپا ہوا ہے۔ اس پر سفید رنگ سے عربی میں عبارات اور اسمائے حسنیٰ لکھے ہوئے ہیں۔ اسی پردے نے کعبے کی چھت کو بھی ڈھانپ رکھا ہے۔

 

کعبہ کے اندر آٹھ پتھر ہیں۔ ان پر خطِ ثلث میں عربی عبارتیں کندہ ہیں۔ ایک پتھر پر خطِ کوفی میں عربی عبارت لکھی ہوئی ہے۔ یہ خوب صورت لکھائی چھٹی صدی  ہجری کے بعد کے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ دیوارِ شرقی پر کعبے کے دروازے اور باب التوبہ کے درمیان سابق سعودی فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود کی ایک دستاویز ہے جو سنگِ مرمر پر کندہ کی گئی ہے۔ اس میں کعبہ کی تزئین نو کی تاریخ درج ہے۔ اس طرح کعبہ کے اندر عبارتوں پر مشتمل پتھروں کی تعداد دس ہے اور یہ تمام سفید سنگ مرمر کے ہیں۔




Read More

Monday, November 21, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

ایک واقعہ، ایک سبق ماؤں کے لئے

ایک لڑکا تھا ، اس کی عمر یہی کوئی نو دس بر س ہوگی ، وہ بھی اپنی عمر کے
لڑکوں کی طرح شریر تھا ، بلکہ شاید اس سے کچھ زیادہ ہی ۔ یہ وہ دورتھا جب نہ آ ج کی طرح بجلی کے پنکھے ، نہ گیس کے چولہے ، گھر بھی مٹی کے ، چولہا بھی مٹی کا ہوا کرتا تھا ، اور نہ اس زمانہ میں دولت تھی ماں نے اپنے مہمانوں کیلئے کھا نا تیار کیا، یہ لڑکا بھی قریب ہی دوستوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا ، ماں نے جیسے ہی سالن تیار کیا، بچے نے شرارت سے اس سالن میں مٹی ڈال دی ۔ اب آپ خود ہی اس ما ں کی مشکل کا اندازہ کرسکتے ہیں ، غصے کا آنا بھی فطری عمل تھا ۔ غصہ سے بھری ماں نے صر ف اتنا کہا کہ " جا تجھے اللہ کعبہ کا امام بنا دے ۔ اتنا سنا کر ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس رو پڑے اور کہنے لگے ، آپ جانتے ہیں کہ یہ شریر لڑکا کون تھا ؟ پھر خو د ہی جواب دیتے ہیں وہ شریر لڑکا " میں " تھا جسے آج دنیا دیکھتی ہے کہ وہ کعبہ کا امام بنا ہو ا ہے ۔

ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔ 2010 تک کے عالمی سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ امام کعبہ عبدالرحمن السدیس اس وقت پوری دنیا کے مسلمانوں کی مقبو ل ترین شخصیت ہیں ۔ اللہ نے اُن کو دنیا کی سب سے بڑی سعادت عطا کی کہ اپنے گھر کا امام بنا دیا ، اب نہ صرف وہ امام کعبہ ہیں بلکہ حرمین کی نگران کمیٹی کے صدر اور امام الائمہ ہیں ۔ ڈاکٹر صا حب نے یہ واقع کئی با ر سنایا اورسناتے ہوئے ہی جذباتی ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے یہ واقعہ سنا کر دنیا بھر کی مسلمان ماؤں کی توجہ دلا ئی ہے کہ وہ اولا د کے معاملے میں ذرا دھیا ن دیں، اور غصہ یا جذبات سے مغلوب ہو کر اپنی اولا د کو بُرا بھلا نہ کہہ بیٹھیں ۔ کیونکہ ماؤں کے ہونٹوں کی " ہلکی سی جنبش " اولا د کا نصیب لکھ دیتی ہے ۔ توجہ طلب با ت یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں والدین بالخصوص مائیں اولا د کی غلطی پر ان کو بُرا بھلا کہہ دیتی ہیں ، حالانکہ ان کیلئے ہدایت اور صالح بننے کی دعا کرنی چاہئے۔

آپ سب یاد رکھئے کہ ایمان اورصحت کے بعد اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت اولاد ہے ۔ حتیٰ کہ قرآ ن پاک میں اولا د کو " آنکھوں کا قرار " قرار کہا گیا ہے ، زندگی کی رونق مال یا مکان خوبصورت لباس سے نہیں ہے بلکہ زندگی کی تمام تر بہاریں اور رونقیں اولا د کے دم سے وابستہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ذکریہ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبروں نے نبوت کی سعا دت ملنے کے باوجود اللہ سے اولا د ہی مانگی تھی ۔ لہٰذا ہر عورت کا جو ماں ہے فر ض بنتا ہے کہ اپنے بچوں کی قدر کریں اور ہمیشہ ان کیلئے دعا کرتی رہیں ۔ بچے تو بچے ہی ہوا کر تے ہیں ، وہ شرارت نہ کریں تو کیا بوڑھے شرارت کرینگے کبھی بچو ں کی شرارت سے تنگ آکر ان کو بُرا بھلا مت کہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتا نا پڑے ۔اللہ کے نبی ﷺ نے بھی اس سے منع کیا ہے اہم یہاں حدیث کا مفہوم ذکر کرر ہے ہیں۔ اپنے لئے اپنے بچوں کیلئے ، اپنے ماتحت لوگوں کیلئے اللہ سے کبھی بُری یا غلط دعا نہ مانگو ،ہوسکتا ہے کہ جب تم ایسا کر رہے ہو ، وہ وقت دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہو ۔

ما ں باپ کے منہ سے نکلے ہوئے جملے کبھی کبھی اولا د کا مقدر لکھ دیتے ہیں ۔اسی لیے حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے کہ اپنی اولا د کو عزت دو ، اور ان کی قدر کرو، کیونکہ وہ تمہارے بعد تمہارا نشان بن جاتے ہیں یعنی والدین کی وفا ت کے بعد اولا د کے دم سے ان کا نام باقی رہتا ہے ۔ امام کعبہ کا یہ واقعہ مسلمانوں کیلئے اور مسلم معاشرہ کیلئے ایک نسخہ کیمیا ہے ، اور اس پر عمل کرنا بھی کوئی مشکل کا م نہیں ہے ۔ اچھی فصل بو کر اچھا پھل لینے کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ ہم سب کو اس پر کا ر بند رہنے کی کوشش کر نی چاہیے ۔

جزا ک اللہ
شہریار اصغر مرزا

Read More

Tuesday, November 15, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

سوچ کر بولنے کی عادت ڈالیں

ایک حدیث شریف میں حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ انسان کو سب سے زیادہ جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز زبان ہےیعنی جہنم میں اوندھے منہ گرائے جانے کا سب سے بڑا سبب زبان ہے ۔ اس لیے جب بھی زبان کو استعمال کرو۔ استعمال کرنے سے پہلے ذرا سوچ لیا کرو کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو جب کوئی ایک جملہ بولنا ہو تو پہلے پانچ منٹ تک سوچے پھر زبان سے وہ جملہ نکالے تو اس صورت میں بہت وقت خرچ ہو جائے گا؟

بات دراصل یہ ہے کہ اگر شروع شروع میں انسان بات سوچ سوچ کر کرنے کی عادت ڈال لے تو پھر آہستہ آہستہ اس کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر سوچنے میں دیر نہیں لگتی ۔ ایک لمحہ میں انسان فیصلہ کر لیتا ہے کہ یہ بات زبان سے نکالوں یا نہ نکالوں ۔ پھر اللہ تعالیٰ زبان کے اندر ہی ترازو پیدا فرما دیتے ہیں جس کے نتیجے میں زبان سے پھر صرف حق بات نکلتی ہے غلط اور ایسی بات زبان سے نہیں نکلتی جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہو اور دوسروں کو تکلیف پہنچانے والی ہو۔ بشرطیکہ یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اس سرکاری مشین کو آداب کیساتھ استعمال کرنا ہے۔

تالیف : مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتخاب : نورمحمد

Read More