Wednesday, April 26, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

معذرت اور معاف کرنے کی عادت ڈالئے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’اور جب وہ غضب ناک ہوں تو معاف کردیتے ہیں ، اور
برائی کا بدلہ اس کی مثل برائی ہے ، پھر جس نے معاف کر دیا اوراصلاح کر لی تو اس کا اجر اللہ (کے ذمہء کرم ) پر ہے‘‘۔ (الشوریٰ:40)’’

اورجس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو یقینا یہ ضرور ہمت کے کاموں میں سے ہے‘‘۔ (الشوریٰ : 43) 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بے حیائی کی باتیں طبعاً کرتے تھے نہ تکلفاً اورنہ بازار میں بلند آواز سے باتیں کرتے تھے، اور برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معاف کردیتے تھے اور درگذر فرماتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو زیادتی بھی کی گئی میں نے کبھی آپ ﷺ کو اس زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا بہ شرطیکہ اللہ کی حدود نہ پامال کی جائیں اورجب اللہ کی حد پامال کی جاتی تو آپ ﷺ اس پر سب سے زیادہ غضب فرماتے، اورآپ کو جب بھی دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ﷺ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ (جامع الترمذی)۔ 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی حضور الصلوٰۃ والسلام کو دوچیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، اگر وہ گناہ ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے.

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا، ہاں اگر اللہ کی حد پامال کی جاتیں تو آپ ان کا انتقام لیتے تھے۔ (سنن ابودائود)۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، میں نے ابتداً آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا ، اورمیں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم مجھے فضیلت والے اعمال بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا : اے عقبہ ، جو تم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو ، جو تم کو محروم کرے ، اس کو عطا کرو، اورجو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو۔ (مسند احمد بن حنبل)

میمون بن مہران روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ان کی باندی ایک پیالہ لے کر آئی جس میں گرم گرم سالن تھا ، ان کے پاس اس وقت مہمان بیٹھے ہوئے تھے، وہ باندی لڑکھڑائی اوران پر وہ شوربا گر گیا، میمون نے اس باندی کو مارنے کا ارادہ کیا، تو باندی نے کہا اے میرے آقا، اللہ تعالیٰ کے اس قول پر عمل کیجئے ، والکاظمین الغیظ ، میمون نے کہا:

میں نے اس پر عمل کر لیا (غصہ ضبط کر لیا) اس نے کہا : اس کے بعد کی آیت پر عمل کیجئے والعافین عن الناس میمون نے کہا : میں نے تمہیں معاف کر دیا، باندی نے اس پر اس حصہ کی تلاوت کی: واللّٰہ یحب المحسنین. میمون نے کہا : میں تمہارے ساتھ نیک سلوک کرتا ہوں اورتم کو آزاد کر دیتا ہوں۔ (الجامع الاحکام :تبیان القرآن)

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:
بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدہ کر رہا ہو پس تم (سجدہ میں) بہت دعا کیا کرو۔ (صحیح مسلم، سنن داﺅد) 

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ(ﷺ) سے عرض کیا مجھے وہ عمل بتائیے جس سے اللہ مجھے جنت میں داخل کر دے یا میں نے عرض کیا : مجھے وہ عمل بتائیے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہو۔ آپ ﷺ خاموش رہے۔ میں نے پھر سوال کیا، آپ ﷺ خاموش رہے، جب میں نے تیسری بار سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کے لئے کثرت سے سجدے کیا کرو، کیونکہ تم جب بھی اللہ کےلئے سجدہ کرو گے تو اللہ اس سجدہ کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا اور تمہارا ایک گناہ مٹا دے گا۔ (صحیح مسلم، ترمذی)
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں ایک رات رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ تھا، میں آپ ﷺ کے وضو اور طہارت کےلئے پانی لایا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : سوال کرو، میں نے عرض کیا میں آپ ﷺ سے جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : اور کسی چیز کا؟ میں نے عرض کیا مجھے یہ کافی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر کثرت سے سجدے کر کے اپنے نفس کے اوپر میری مدد کرو۔ (صحیح مسلم، سنن ابوداﺅد)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ﷺ) نے فرمایا: جب ابن آدم سجدہ تلاوت کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ جا کر روتا ہے اور کہتا ہے ہائے میرا عذاب! ابن آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا سو اس کو جنت ملے گی، اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا سو مجھے دوزخ ملے گی۔ (صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے اس میں ہے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: اعضاء سجود کے جلانے کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کر دیا ہے۔ (صحیح بخاری، سنن نسائی) 

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ﷺ) نے فرمایا: بندہ کا جو حال اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے وہ یہ ہے کہ اللہ بندہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھے اور اس کا چہرہ مٹی میں لتھڑا ہوا ہو۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں افلح نامی ہمارا ایک غلام تھا، جب وہ سجدہ کرتا تو مٹی کو پھونک مار کر اڑاتا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے افلح! اپنے چہرے کو خاک آلودہ کرو۔ (سنن الترمذی)


Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

صبر کیا ہے ؟ اسے کیسے حاصل کریں ؟

صبر کا معنی ہے : کسی چیز کو تنگی میں روکنا ، نیز کہتے ہیں کہ نفس کو عقل اورشریعت کے تقاضوں کے مطابق روکنا صبر ہے۔ مختلف مواقع اور محل استعمال کے اعتبار سے صبر کے مختلف معانی ہیں، مصیبت کے وقت نفس کے ضبط کرنے کو صبر کہتے ہیں ، اس کے مقابلہ میں جزع اور بے قراری ہے اورجنگ میں نفس کے ثابت قدم رہنے کو بھی صبر کہتے ہیں اوراس کے مقابلہ میں بزدلی ہے، حرام کاموں کی تحریک کے وقت حرام کاموں سے رکنے کو بھی صبر کہتے ہیں اوراس کے مقابلہ میں فسق ہے، عبادت میں مشقت جھیلنے کو بھی صبر کہتے ہیں اوراس کے مقابلہ میں معصیت ہے، قلیل روزی پر قناعت کو بھی صبر کہتے ہیں اوراس کے مقابلہ میں حرص ہے، دوسروں کی ایذا رسانی برداشت کرنے کوبھی صبر کہتے ہیں اوراس کے مقابلہ میں انتقام ہے۔

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صبر کی دو قسمیں ہیں، مصیبت کے وقت صبر اچھا ہے، اور اس سے بھی اچھا صبر ہے اللہ کے محارم سے صبر کرنا (یعنی نفس کوحرام کاموں سے روکنا)۔ (ابن ابی حاتم)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صبر کی تین قسمیں ہیں ، مصیبت پر صبر کرنا، اطاعت پر صبر کرنا اور معصیت سے صبر کرنا۔ (دیلمی )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : اے بیٹے ! کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھاﺅں جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں نفع دے ، میں نے کہا: کیوں نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کو یاد رکھو ، اللہ تمہیں یاد رکھے گا اللہ کو یاد رکھو تم اس کو اپنے سامنے پاﺅ گے ، اللہ تعالیٰ کو آسانی میں یاد رکھو وہ تم کو مشکل میں یاد رکھے گا، اورجان لو کہ جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے وہ تم سے ٹلنے والی نہیں تھی اور جو مصیبت تم سے ٹل گئی ہے وہ تمہیں پہنچنے والی نہیں تھی اور اللہ نے تمہیں جس چیز کے دینے کا ارادہ نہیں کیا تمام مخلوق بھی جمع ہو کر تمہیں وہ چیز نہیں دے سکتی اورجو چیز اللہ تمہیں دینا چاہے تو سب مل کر اس کو روک نہیں سکتے قیامت تک کی تمام باتیں لکھ کر قلم خشک ہو گیا ہے ، جب تم سوال کرو تو اللہ سے کرو اورجب تم مدد چاہو تو اللہ سے چاہو اورجب تم کسی کا دامن پکڑو تو اللہ کا دامن پکڑو اور شکر کرتے ہوئے اللہ کے لیے عمل کرو اورجان لو کہ ناگوار چیز پر صبر کرنے میں خیر کثیر ہے اورصبر کے ساتھ نصرت ہے اورتکلیف کے ساتھ کشادگی ہے اورمشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔ 

حضرت ابوالحویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لیے خوشی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بہ قدر حاجت رزق دیا اوراس نے اس پر صبر کیا ۔ (امام بیہقی )

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مسلمان لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اوران کی ایذاء پر صبر کرتا ہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو لوگوں سے مل جل کر نہیں رہتا اوران کی ایذاءپر صبر نہیں کرتا۔ (امام بخاری ، ترمذی ، ابن ماجہ)

Read More

Tuesday, April 25, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

یورپ میں بھی ’’مسواک‘‘ کی مقبولیت بڑھنے لگی

اگرچہ مسواک دنیا میں ہزاروں برس سے زیرِ استعمال ہے لیکن اب اس قدرتی
ٹوتھ برش ’را برش‘ کو یورپ میں بھی فروخت کے لئے پیش کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ کی یونی نامی کمپنی نے ’را‘ مسواک کو فروخت کے لئے پیش کیا ہے جس کی قیمت 5 ڈالر رکھی گئی ہے، کمپنی مسواک کو صاف کرکے انہیں پلاسٹک کی تھیلی اور ٹیوب میں فروخت کر رہی ہے۔ مسواک کے بارے میں بعض باتیں بالکل درست ہیں مثلاً یہ معدنیات اور وٹامن سے بھرپور ہوتی ہیں، کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ ان سے دانت صاف کئے جا سکتے ہے، یہ دانتوں کی اہم معدن برقرار رکھ کر اسے بحال کرتی ہے اور منہ کی تازگی اور دانتوں میں کیڑے کو روکتی ہے۔ عرب ممالک، پاک و ہند اور افریقی ممالک میں مسواک کے درخت کی شاخوں کو بطور مسواک استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی قیمت بھی انتہائی کم ہوتی ہے۔ اگرچہ یورپ میں متعارف کرائی گئی مسواک کی قیمت ذیادہ رکھی گئی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اسے دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں۔ 

Read More