Monday, February 27, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

مدینہ منورہ میں تعلیم

آمد اسلام سے بہت پہلے بھی مدینہ منورہ میں تعلیم کا رجحان اور تصور پایا جاتا
تھا۔ باوجود اس کے ساری دنیا میں جہالت کا دورہ دورہ تھا‘ مدینہ منورہ میں یہود کے ہاں تعلیم کا سلسلہ برقرار تھا ان کی درس گاہوں میں توریت کے علاوہ لکھنے پڑھنے کی تعلیم بھی دی جاتی تھی تاہم اوس و خزرج جو مکہ والوں سے زیادہ متمدن تھے ان میں تحریر و کتابت اور علم و ادب کا رواج مکہ والوں سے کم تھا۔ ان قبائل میں عربی لکھنے والوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔ یہود میں سے کسی نے انہیں لکھنا پڑھنا سکھایا تھا۔ البتہ اسلام سے پہلے زمانہ قبل اہل مدینہ کے کچھ بچے تحریر و املا کا فن سیکھتے تھے۔ جب اسلام کا ظہور ہو تو اوس و خزرج کے متعدد افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔
حضور اکرم ﷺ کے زمانے ہی سے مدینہ منورہ میں قلم دوات اور تختی استعمال کرنے کا رواج تھا چنانچہ طالب علموں کو تختی پر لکھنا سکھایا جاتا تھا کبھی کبھار تدریس کی خدمت مہاجرین کو سونپی جاتی کہ وہ انصار کو تعلیم دیں۔ طالب علموں کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے اوقات مقرر تھے جس کی پابندی ضروری تھی اساتذہ نے طلبہ کے لیے جو اوقات مقرر کر رکھتے تھے اسی میں پڑھنا اور باہم مذاکرہ کرنا لازمی تھا تعلیم کے اوقات عموما فجر کے بعد سے چاشت تک یا ظہر اور عصر کے درمیان ہوتے تھے۔ تعلیم شروع ہونے سے پہلے طلبہ جماعتوں میں پہنچ جاتے اور اپنی اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ جاتے تھے اگر کوئی طالب علم سبق میں حاضر نہ ہوتا تو استاد اس سے باز پرس کرتے اور غیر حاضری پر سبب دریافت کرتے تھے۔

جدون ادیب

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

قران پاک کی تعلیم مستحسن فیصلہ

اداریہ روزنامہ جنگ


Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

حکایات سعدی

ایک فقیر بہت مفلس و کنگال تھا۔اس کی دعا رب تعالیٰ سے یہی تھی کہ تو نے مجھے بغیر مشقت کے پیدا کیا ہے۔اسی طرح بغیر مشقت کے مجھے روزی بھی دے وہ مسلسل یہی مانگا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ عزوجل نے اس کی دعا قبول فرمائی،اسے خواب آیا کہ تو ردی والے کی دکان پر جا وہاں بوسیدہ کاغذوں میں سے تجھے ایک کاغذ ملے گا۔ اسے لے آ اور تنہائی میں پڑھ۔ صبح اٹھ کر وہ ردی کی دکان پر گیا۔ ردی میں سے وہ تحریر(گنج نامہ) تلاش کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ گنج نامہ اس کے سامنے آگیا۔ جو اسے خواب میں نظر آیا تھا۔ اس نے وہ کاغذ دکاندار سے لیا۔ تنہائی میں اس کاغذ کو پڑھا۔ اس پرچے میں تحریر تھا کہ شہر سے پار ایک مزار ہے ادھر ہی خزانہ دفن ہے۔

مزار کی طرف پشت اور منہ قبلہ کی طرف کرکے تیر کو کمان میں رکھ۔ جہاں پر تیر گرے وہاں خزانہ دفن ہوگا۔ فقیر نے تیر کمان لے کر اپنے جوہر دکھانے شروع کردیئے۔ جہاں تیر پھینکتا وہاں جلدی سے بیلچے پھاوڑے لے کر زمین کھودنا شروع کردیتا۔ بیلچہ،پھاوڑا اور وہ فقیر کند ہوگئے مگر خزانے کا نام و نشان بھی نہ ملا۔ وہ روزانہ اسی طرح عمل کرتا تیر پھینکتا جس جگہ تیر گرتا اسے کھودتا مگر خزانہ نہ ملاتا۔ فقیر کے اس پروگرام کا بادشاہ وقت کو پتا چلا۔ بادشاہ نے اسے طلب کیا۔ اس نے ساری کہانی بادشاہ کو سنائی اور کہنے لگا جب سے خزانے کا پتہ پایا ہے۔ تلاش میں ہوں، خزانہ تو نہ ملا سخت تکلیف اور مشقت میرا مقدر بن گئی ہے۔ بادشاہ نے فقیر سے وہ گنج نامہ لے لیا۔ خزانہ پانے کے لئے بادشاہ نے بھی تیر چلانے شروع کردیئے۔ چھ ماہ تک بادشاہ بھی تیر چلاتا رہا مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔ بادشاہ سلامت بھی ناامید ہو کر وہ گنج نامہ فقیر کو واپس کردیا۔

 فقیر نے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا عاجزی و انکساری اور آنکھیں اشک بار کرکے دعا کی اے اللہ تعالیٰ میری سمجھ سے یہ عقدہ بالاتر ہے۔ میں راز کو نہ پاسکا۔ تو خود ہی کمال مہربانی سے اسے حل کردے اور مجھے خزانے تک پہنچا دے۔ جب وہ عاجز ہو کر بارگاہ الہی میں سچے دل سے گر پڑا تو آواز آئی۔ میں نے تجھے تیر کو کمان میں رکھنے کو کہا تھا۔ تجھے تیر چلانے اور کمالات دکھانے کا نہیں کہا تھا۔ خزانہ تیرے پاس تھا۔ تیرے قریب تھا۔ تو تیراندازی کے سفر میں اس سے دور ہوتا گیا۔ خدا کی ذات کو اپنے اندر اپنے دل میں تلاش کر جو شہ رگ سے بھی قریب تر ہے۔ اپنے من میں ڈوب خزانہ تک پہنچ جائے گا.

 حکایت سعدی سے اقتباس  

Read More

Thursday, February 23, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

کمیونسٹ ملک کیوبا میں پہلی مسجد کی تعمیر

کمیونسٹ ملک کیوبا میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے، مسلمانوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر وہاں ملک کی پہلی مسجد تعمیر کی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کیوبا کی کمیونسٹ حکومت دارالحکومت ہوانا میں مسجد تعمیر کرے گی، اس کے لیے سعودی عرب مالی معاونت کرے گا، یہ کیوبا کی پہلی مسجد ہوگی، کیوبا کی آبادی ایک کروڑ 13 لاکھ ہے جس میں 10ہزار مسلمان ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیوبا میں اسلام کی ترویج میں اُن پاکستانی طلباء کا بڑا ہاتھ ہے جو وہاں تعلیم حاصل کرنے گئے، اس کے علاوہ 2005ء میں پاکستان میں زلزلہ متاثرین کی بڑی تعداد بھی کیوبا میں جا بسی تھی جنہوں نے اسلام کی تبلیغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


Read More