Sunday, March 19, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

اسلامی فن تعمیر

مسلم ثقافت کی اپنی انفرادیت اور پہچان کے لیے عرب لوگوں نے جو عمارتیں
تعمیر کیں ان میں خصوصاً مسجدیں، محلات اور مدرسے شامل ہیں۔ حضور نبی کریم ؐ نے جو پہلی مسجد مدینہ میں 622ء میں تعمیر کی وہ ابتدائی مسجد تھی جس کی دیواریں اینٹوں اور پتھر سے بنی تھیں اور اس مسجد کی چھت کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھیں۔ اس کے بعد دوسری مسجد 639ء میں کوفہ میں تعمیر کی گئی جس میں سنگ مرمر کے ستون بنائے گئے ایک چھوٹی سی مسجد 642ء میں تعمیر کی گئی۔ حضور نبی کریمؐ کے وصال کے بیس سال بعد مسجد نبویؐ کی تعمیر نو کی گئی اور مسجد کے ستون اور آرائشی پتھر لگائے گئے.

عہد بنو اُمیہ کی تعمیرات:
بنو اُمیہ کے خلفاء نے تعمیرات کی بڑی سرپرستی کی۔ مقریزی لکھتا ہے کہ خلیفہ نے مسلمہ کو حکم دیا کہ اذان دینے کے لیے مینار تعمیر کرو اور منبر بھی تعمیر کروایا گیا۔ عہد بنو اُمیہ کی اہم عمارتیں مندرجہ ذیل ہیں۔ 
(1) قبہ الصنحراء:
یہ گنبد عبدالملک نے 691ء میں یروشلم میں تعمیر کروایا یہ ایک خوبصورت اور متاثر کرنے والا گنبد تھا اور ابتدائی مسلم تعمیرات کا ایک بہترین نمونہ تھا۔ یہ جگہ مسلمانوں کے لیے مقدس ہے کیونکہ یہاں سے حضور انورؐ نے شب معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہ گنبد لکڑی سے بنایا گیا تھا اور اندرونی طرف سے پلستر کیا گیا تھا۔ پروفیسر پی کے ہیٹی کے مطابق مسلمانوں کے لیے یہ جگہ آثار قدیمہ کے حساب سے اتنی قیمتی نہ تھی بلکہ یہ ان کے عقیدے کے لحاظ سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ گنبد میں بازنطینی طرز کے آثار ہیں۔ MARTIN BRINGS کے مطابق الصنحراء کا آرائشی گنبد پتھر کی بڑی عمارت تھی جس کا سائز حیران کن ہے۔ 

(2) مسجد اقصی:
 یہ مسجد عبدالملک نے گنبد کے قریب تعمیر کروائی۔ یہ 769ء میں زلزلے کی وجہ سے شہید ہو گئی جس کو المنصور نے دوبارہ تعمیر کروایا۔

(3) جامع مسجد دمشق:
 یہ مسجد آٹھویں صدی کے پہلے سال تعمیر کی گئی۔ یہ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے دوسری عمارت ہے اس میں نماز پڑھانے کے لیے ایک محراب بھی تھی۔ مسجد کی محرابیں گھوڑے کے پائوں کے نعل کی شکل کی تھیں۔ مسجد کی آرائش میں سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے، مسجد میں بازنطینی فن تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ 1893ء ۔1400ء اور 1069ء میں اس کی دوبارہ آرائش کی گئی۔ مسلمان تاریخ دانوں کے مطابق یہ مسجد دنیا کا ایک عجوبہ ہے۔

(4) قصرامراء:
یہ خلیفہ ولید اول نے تعمیر کروایا۔ جس میں قریبی پہاڑوں سے سرخ، سخت جپسم پتھر استعمال کیا گیا ہے۔ ولید اول نے مدینہ کی مسجد کی تعمیر نو کی۔ آپ نے تعمیرات میں محراب اور مینار متعارف کروائے۔ مسلمانوں کے مقدس مقامات میں آرائش کے لیے خطاطی کا استعمال کر کے تصاویر سے گریز کیا گیا۔ خلیفہ سلیمان نے رملہ میں مسجد تعمیر کروائی جس میں سنگ مرمر کے ستون اور سنگ مرمر کے فرش استعمال کیے گئے، ایک اور مسجد ایسپو کے مقام پر بھی انہوں نے ہی تعمیر کروائی۔ BRINGS کے مطابق تیونس کے قریب قیرواں کے مقام پر خلیفہ ہاشم کے دور میں تعمیر کی گئی۔

عوامی خلفاء کے دور کی تعمیر:
 بنواُمیہ عباسی دور حکومت میں دارالخلافہ کو دمشق سے بغداد منتقل کیا گیا۔ تعمیرات میں یونانی کلاسیکل طرز تعمیر کی جگہ ایران، ساسانی اور عراقی طرز تعمیر نے لے لی۔ یہ دور مسجدوں، بادشاہوں، بزرگوں اور شرفاء کے مقبروں، محلات، عمارتوں اور قلعوں کے حوالے سے بہت مشہور ہے اس دور کی عمارات میں ایک تبدیلی یہ آئی کہ لکڑی کے ستونوں کے اوپر چھت ڈالی جاتی تھی یعنی بغیر محرابوں کے تقریباً 500 سال تک عباسی خلفاء تعمیرات کی سرپرستی کرتے رہے۔ خلیفہ المنصور نے 762ء میں بغداد شہر بسایا اس کے چار دروازے تھے۔

شیخ نوید اسلم

Read More

Tuesday, March 14, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

رزق پہچانے کا انتظام اللہ کی طرف سے ہے

حضرت شیخ سعدیؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش ایک جنگل میں سفر کررہا تھا  اس نے ایک لنگڑی لومڑی کودیکھا جو بے بسی کی چلتی پھرتی تصویر تھی۔ اس درویش کے دل میں خیال آیا کہ اس لومڑی کے رزق کا انتظام کیسے ہوتا ہو گا جبکہ یہ شکار کرنے کے بھی قابل نہیں ہے؟ درویش ابھی یہ بات سوچ رہا تھا کہ اس نے ایک شیر کو دیکھا جو منہ میں گیڈر دبائے اس لومڑی کے نزدیک آیا۔ اس نے گیڈر کے گوشت کا کچھ حصہ کھایا اور باقی وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ لومڑی نے اس باقی کے گوشت میں سے کھایا اور اپنا پیٹ بھرا۔ درویش نے جب سارا ماجرا دیکھا تو اسے اتفاق قرار دیا اور یہ دیکھنے کیلئے کہ یہ لومڑی دوبارہ اپنا پیٹ کیسے بھرے گی وہیں قیام کیا۔ 

اگلے روز بھی وہی شیر منہ میں گیڈر دبائے اس جگہ آیا اور اس نے کچھ گوشت کھانے کے بعد باقی ویسے ہی چھوڑ دیا۔ لومڑی نے وہ باقی گوشت کھا لیا اور اپنا پیٹ بھر لیا۔ درویش سمجھ گیا کہ اس کے رزق پہنچانے کا انتظام اللہ کی طرف سے ہے۔ اس نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ میں بھی اب اپنے رزق کے لئے کوئی جستجو نہیں کروں گا اور میرا رزق اللہ عزوکل مجھے خود پہنچا دے گا جس طرح لنگڑی لومڑی کو شیر کے ذریعے رزق پہنچا رہا ہے۔ درویش یہ فیصلہ کرنے کے بعد ایک جگہ جا کر اطمینان سے بیٹھ گیا۔ اسے یقین تھا کہ اس کا رزق بھی اسے پہنچ جائے گا مگر کئی دن گزر گئے اس کے لئے کھانے کی کوئی شے نہ آئی یہاں تک کہ وہ کمزوری کی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس دوران اس نے نزدیک ایک مسجد کے محراب سے یہ آواز سنی کہ اے درویش  کیا تو لنگڑی لومڑی بننا چاہتا ہے یا پھر شیر جو اپنا شکار خود کرتا ہے جس میں سے خود بھی کھاتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلاتا ہے۔ 

مقصود بیان : حضرت شیخ سعدی ؒ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ رزق پہنچانے کا انتظام اللہ کی طرف سے ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ اچھا بھلا ہواور وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے کہ اللہ عزوکل نے جب رزق دینے کا وعدہ کیا ہے تووہ اسے بیٹھے بٹھائے رزق پہنچائے گا بلکہ اس کے لئے اسے جستجو کرنا ہوگی‘ محنت کرنا ہو گی پھر اللہ عزوجل سے امید لگانا ہو گی کہ وہ اس کے رزق کا انتظام کرے گا۔ وہ لوگ جو محتاج ہیں اور محنت نہیں کر سکتے ان کیلئے اللہ عزوجل نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ انہیں ان کا رزق ملتا رہتا ہے۔ 

Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

محبت رسول ﷺ اور اس کے عملی تقاضے

چند دِنوں پہلے میں اپنے چچا جان کے گھر گیا، تو انہوں نے کسی رنجش کی بنیاد پر میرے والد صاحب کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا، میں نے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی مگر جب اُن کے منہ سے میرے والد محترم کیلئے نازیبا ترین کلمات نکلنا شروع ہوئے تو میری برداشت جواب دے گئی، وہ بڑے تھے، اِس لیے اُن کے احترام کے باعث خاموش رہا اور غم و غصے کے ساتھ افسردہ ہو کر وہاں سے چلا آیا اور قسم کھائی کہ آئندہ چچا جان کے گھر کا رُخ تک نہیں کروں گا۔ یہ میری محبت کا تقاضا تھا جو کہ مجھے میرے والد صاحب سے ہے۔ کل جب میں نے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے گستاخانہ مواد کے حوالے سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس پڑھے تو یکدم میرے ذہن میں ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم تازہ ہو گیا۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ،

’تم میں سے کوئی اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے آپ، مال و جان، عزت و آبرو، اپنے ماں، باپ، بہن، بھائی، اولاد یہاں تک کہ ہر رشتے سے زیادہ مجھ سے محبت نہ کرے‘۔

پھر اچانک حضور رحمتِ عالم ﷺ کیلئے صحابہ کرام علیہم الرضوان کا اندازِ تخاطب میرے صفحہ ذہن پر اُبھرا کہ وہ آپ ﷺ کی بارگاہِ عالیہ میں جب حاضر ہو کر کلام کیا کرتے تھے، تو اصل بات سے پہلے یہ کلمات ادا کیا کرتے تھے کہ،
’میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان یا رسول اللہ ﷺ!۔‘ پھر مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے پورا قرآن، تمام احادیث، صحابہ و تابعین کا ایک ایک عمل عشقِ رسول ﷺ اور ادبِ رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا ہو، جیسے ایمان و اسلام کی اصل اساس ہی ادبِ رسول ﷺ ہو۔ پھر مجھے اذانِ بلالی، صدقِ صدیقِ اکبر، عدلِ عُمر ابن الخطاب، شرم و حیائے عثمانِ غنی، شجاعتِ حیدرِ کرار، استقلالِ حسینی، غرض ہر چیز کے پیچھے عشق و ادبِ رسول ﷺ نظر آنے لگا۔
مجھے ’راعنا‘ کے رد میں اُترا ہوا اللہ جل جلالہ کا حکم ’قولو انظرنا‘ سمجھ میں آنے لگا کہ جب ابتدائے اسلام میں منافقین نے حضور علیہ الصلوة و السلام کو مخاطب کرنے کے لفظ ’راعنا‘ کو غلط استعمال کرنا شروع کیا تو اللہ عزوجل کی محبت نے گوارا نہ کیا، اور حکم صادر فرمایا کہ ’راعنا‘ کی بجائے ’انظرنا‘ بولا جائے مطلب ’میری طرف نظرِ کرم فرمایئے‘۔ پھر مجھے سورة الحجرات کا ایک ایک لفظ عشق و ادبِ رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا نظر آنے لگا اور ساتھ ساتھ دوسری جانب سورة الہب کی صورت میں اللہ جل جلالہ کا غیض و غضب بھی نظر آنے لگا جو حضور ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا واضح پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

میں سوچنے لگا کہ اللہ عزوجل اور صحابہ کرام نے کبھی بھی حضور علیہ الصلوة والسلام کی عزت و حُرمت پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کیا، اور ایک میں ہوں کہ جو اپنے والدِ محترم کے خلاف تو ایک لفظ سُننے کا روادار نہیں لیکن اُس عظیم المرتبت شخصیت جس کا ذکر بلند کرنے کا دعویٰ اللہ جل جلالہ نے قرآنِ پاک میں کیا، جس کی ہر ہر ادا پر اللہ عزوجل قرآن میں قسمیں اُٹھاتا ہے، اُس ذاتِ بابرکات کی عزت و ناموس پر جب بات آتی ہے اور سوشل میڈیا پر بدترین گستاخانہ مواد شائع ہوتا ہے تو میں کان دبائے ایک طرف ہوجاتا ہوں۔ چچا کے گھر کا رُخ نہ کرنے کی قسم کھاتے ہوئے شاید میں نے ایک لمحہ بھی نہ سوچا ہو لیکن سوشل میڈیا کا رُخ نہ کرنے کا سوچ کر مجھ پر غشی طاری ہونے لگتی ہے کہ میں نے اگر ایک دن فیس بُک استعمال نہ کیا اور اُس پر اپنی تصاویر پر آنے والے کمنٹس اور لائیکس نہ دیکھے تو میرا خُود ستائشی کا مارا ہوا نفس کیا کرے گا؟

نہیں نہیں جناب نہیں! مجھے ایسا سوشل میڈیا سِرے سے چاہیئے ہی نہیں۔ ہرگز ہرگز نہیں چاہیئے جو آزادی اظہارِ رائے کے نام پر میرے نبی پاک حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی کا بھی مرتکب ہو، چاہے وہ اشارتاً ہی کیوں نہ ہو۔ میرا ایمان فیس بُک یا سوشل میڈیا سے نہیں بلکہ عشقِ رسول اور ادبِ رسول ﷺ سے مکمل ہو گا اور اِس تکمیل کی خاطر میں سوشل میڈیا پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ’چار حرف‘ بھیجنے کو تیار ہوں۔ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے وزیرِ داخلہ کو اِس معاملے پر طلب کیا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی تک کو بھی بند کرنے کی دھمکی دے ڈالی جو اب تک اس معاملے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے اور اُنہوں نے اِس گستاخی کو دہشت گردی قرار دیا۔

اِس کے ساتھ ساتھ مجھے دھرنے، لانگ مارچ، احتجاج، توڑ پھوڑ اور نعرے بازی کی سیاست کرنے والوں پر بھی حیرت ہے کہ وہ وجہِ تخلیقِ کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں اِس صریح گستاخی کے باوجود اب تک خاموش کیوں ہیں؟ حکومت پر کسی نے دباؤ کیوں نہیں ڈالا کہ وہ اِس قبیح و بدترین فعل میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچائے؟ اور اِس کے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی اپنا اپنا مواخذہ کرتے ہوئے سوچنا ضرور چاہیئے کہ کیا واقعی ہمیں اپنے جان و مال، عزت و آبرو، ماں، باپ، بہن، بھائی اور سے زیادہ حضورِ رحمت ِعالم، نورِ مجسم ﷺ کی عزت و ناموس عزیز ہے؟ ایسے گستاخانہ پیجز اپنے ایڈمنز سمیت فی الفور بلاک ہونے چاہئیں، ورنہ ہمیں ایسا سوشل میڈیا ہی نہیں چاہیئے!

محمد حسان

Read More

Sunday, March 12, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

ُُ پاکستان کی تین مساجد دنیا کی حسین ترین مساجد میں شامل

برطانوی اخبار ٹیلیگراف نے سیاحت کے لئے دنیا کی خوبصورت ترین مساجد کی فہرست ٹیلیگراف ٹریول مرتب کی تھی جو کہ انہوں نے اسلامی فنِ تعمیر کی پذیرائی کے لئے مرتب کی ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ایک تصویری گیلری بھی مرتب کی ہے جس کل 25 مساجد ہیں اور ان میں پاکستان کی بھی تین مساجد کو شامل کیا گیا ہے۔ ہم ان میں سے منتخب مساجد آپ کی معلومات کے لئے یہاں پیش کررہے ہیں.

ٹیلیگراف کی فہرست میں شامل پاکستان کی مساجد
بادشاہی مسجد، لاہور
بادشاہی مسجد 17 ویں صدی میں مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے تعمیر کروائی تھی اسکا کل رقبہ 279 ہزار اسکوائی فیٹ ہے اور یہ اپنے سرخ پھتر کے بیرونی اور سنگِ مرمر کے اندرونی اندازِ تعمیر کے سبب مشہور ہے۔

وزیر خان مسجد، لاہور
وزیر خان مسجد 17 صدیں میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے تعمیر کروائی تھی اور یہ 1993 سے یونیسکو کے عالمی ورثے کے عارضی فہرست میں شامل ہے۔ اس مسجد میں تعمیر کا زیادہ تر کام چونے کے پتھر سے انجام دیا گیا ہے جبکہ اس کا بیرونی دروازہ سرخ مٹی کے پھتروں سے بنا ہوا ہے۔ وزیر خان مسجد اپنے نقش و نگار اور اس میں رنگوں کے حسین امتزاج کے سبب عالمی شہرت کی حامل ہے۔

فیصل مسجد، اسلام آباد
اسلام آباد میں مرگلہ کے دامن میں دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فیصل مسجد واقع ہےاور اس کے فن تعمیر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اعرابی خیمے اور چوکور خانہ کعبہ کا شاندار امتزاج ہے۔


Read More