Header Ads

Visit Dar-us-Salam Publications - Online Islamic Bookstore!
Breaking News
recent

میں اس دنیا کو کیا دے سکتا ہوں ؟ ...

کبھی کبھی سوچ کی ذرا سی تبدیلی ایک نئی اور روشن صبح کی خوشخبری لاتی ہے۔ زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے بجائے زندگی کو صرف ایک لگی بندھی ڈگر پر گزارنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اِن حالات میں اس دُنیا کو پرکھنے کا ہمارا اندازِفکر یہ ہوتا ہے کہ ہم اس سے کیا حاصل کر سکتے ہیں ؟ میں کیا کما سکتا ہوں ؟ مجھے کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں؟ مجھے کیا ملے گا ؟ زندگی میں کامیابی کا ایک سب سے اہم اُصول یہ بھی ہے کہ اس سوچ اور اندازِفکر کو تبدیل کیا جائے۔ اس حاصل کرنے کی سوچ کو مدد کرنے اور دینے کی سوچ میں تبدیل کیا جائے۔ اپنی سوچ کے انداز کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ 

یہ نہ پوچھیں کہ مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ یا میں کیا حاصل کر سکوں گا ؟ یا میں کتنا کما سکوں گا ؟ بلکہ خود سے کچھ یوں سوال کریں کہ میں کیا دے سکتاہوں؟ میں کیا کچھ بانٹ سکتا ہوں ؟ میں کیا مدد کر سکتا ہوں ؟ اس سوچ اور فکر کی سب سے اہم، سودمند اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنا آ پ دیں گے اُتنا ہی لوٹ کر واپس آپ کے پاس آئے گا۔ ’’زندگی کی مثال ایک آئینے کی سی ہے جو اُس سے زیادہ کبھی بھی منعکس نہیں کرتی جو ہم اُس میں دیکھتے ہیں۔‘‘ مثال کے طور پر، اگر آپ صرف اپنے کاروبار کیلئے سیل کررہے ہیں تو اپنا نظریہ تبدیل کریں اور اپنی توجہ اپنے کسٹمر کی سچی مدد اور اُس کی زندگی میں مثبت تبدیلی کی جانب مبذول کریں۔

 جب آپ اس طرح کا رویہ اپنائیں گے تو آپ کے کسٹمریا گاہک کو بھی محسوس ہو گا کہ آپ اُس کی حقیقی مدد کرنا چایتے ہیں اور آپ کا کاروبار خودبخود بڑھے گا۔لہٰذا ہمیشہ خود سے پوچھیں کہ میں اس دنیا کو کیا دے سکتا ہوں ؟ کیا اور کیسے مدد کرسکتا ہوں ؟ جب آپ دوسروں کی مدد کریں گے تو زندگی جو فوائد آپ کو واپس لوٹائے گی اُس سے آپ بھرپور لطف اُٹھا سکیں گے۔

No comments:

Powered by Blogger.