Header Ads

Breaking News
recent

حضرت عمر بن عبدالعزیز کاحلم....

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں علم کے ساتھ حلم اورقدرت کے ساتھ عفو کی عادت میسر ہوجانے سے بڑھ کر اورکوئی بات نہیں ہے ۔حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سامنے سخت کلامی کا مظاہرہ کیا ۔لیکن آپ نے سرجھکا لیا اورفرمایا: کیا تم یہ چاہتے ہوکہ مجھے غصہ آجائے ،شیطان مجھے حکومت کے غرور اوراختیار کے تکبر میں مبتلاکردے، میں تمہیں اپنے ظلم وستم کا نشانہ بنائوں اورقیامت کے دن تم مجھ سے اس کا بدلہ لو، نہیں مجھ سے ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔ یہ فرما کر خاموش ہوگئے - کیمیائے سعادت

امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا معمول تھا جب کسی شخص کو کسی جرم کی پاداش میں سزا سناتے تھے تو اس کے نفاذ سے پہلے اسے تین دن تک قیدمیں رکھتے تاکہ یہ اندیشہ زائل ہوجائے کہ کہیں میں نے سزا کا حکم غیظ وغضب کی حالت میں تو نہیں دیا۔ تاریخ دمشق

ایک صوبے کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن نے آپ کی خدمت میں اطلاع بھیجی کہ میرے سامنے ایک شخص کو اس جرم میں پیش کیاگیا ہے کہ یہ امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز کو گالیاں دیتا ہے ،میں نے چاہا کہ اس کی گردن اڑا دوں لیکن پھر اس خیال سے قید میں ڈال دیا کہ پہلے آپ سے اس بارے میں رائے لے لوں، آپ نے اپنے جواب میں لکھا کہ اگر تم اس شخص کو قتل کردیتے تو میں تم سے قصاص لیتا (خدا نخواستہ)حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب وشتم کرنے والے بدبخت کے علاوہ کسی اورکو گالی دینے کی پاداش کوئی شخص قتل نہیں کیاجاسکتا ۔اس لیے اگر تمہارا دل چاہے تو اس شخص کو گالی دے کر بدلہ لے لو ورنہ اسے رہا کردو۔ تاریخ دمشق

ایک بار حضرت عمر بن عبدالعزیز سوار ہوکر کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ ایک پیدل چلنے والا شخص سوار ی کی زد میں آگیا ۔اس نے بڑے غصے سے کہا،دیکھ کر نہیں چل سکتے ۔جب تمام سواریاں آگے نکل گئیں تو اس شخص نے کہا،کوئی ہے جو مجھے بھی ساتھ بٹھالے۔آپ نے اپنے غلام سے کہا، اس شخص کو اپنے ساتھ بٹھا لو اورچشمے تک لے چلو۔ سیرت ابن جوزی

ایک بار آپ رات کے وقت مسجد میں گئے ،وہاں ایک شخص سورہا تھا ،اندھیرے میں اسے آپ کے پائوں کی ٹھوکر لگ گئی۔اس نے جھلاکر کہا ،کیاتم پاگل ہو۔آپ نے فرمایا:نہیں!آپ کے خادم نے چاہا کہ اسے اس گستاخانہ رویے پر سزادے۔لیکن آپ نے اسے روک دیا اورفرمایا: اس نے مجھ سے صرف یہ استفسارکیا تھا کہ کیا تم پاگل ہو ۔میں نے اس کی بات کا جواب دے دیا ہے کہ ’’نہیں‘‘۔ ابن جوزی

  
رضا الدین صدیقی

No comments:

Powered by Blogger.