Header Ads

Breaking News
recent

پیغمبرِ انقلابؐ، جرأت کا بحرِ بے کراں.....

اللہ تعالیٰ نے آج ہمیں جن مشکل حالات سے دوچار کیا ہے، یہ ایک آزمائش ہے۔ ان مشکل لمحات میں بد دلی اور مایوسی سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے سب سے اہم ذریعہ قرآن سے جڑ جانا اور سیرت رسولؐ کا مطالعہ ہے۔ حضور پاکؐ کے امتیوں کو کبھی حالات کی سختی سے گھبرا کر حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔ سچے اور مخلص مومن کا مقدر حقیقی کامیابی ہے۔ آئیے حضور اکرمؐ کی سیرت سے کچھ موتی دامن میں جمع کرلیں اور شمع رسالت کی کچھ کرنیں اپنی تاریک راہوں کو منور کرنے کے لئے دل میں بٹھا لیں۔

نبوت کے تیرھویں سال نبی اکرمؐ کو مکہ سے نکلنے پر مجبورکردیا گیا۔ ہجرت کی رات آپ نے مکہ کی طرف منہ کرکے یہ کہا تھا :’’ اے ارض مکہ! تو اللہ کی بہترین زمین ہے۔ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں، تیرے اندر اللہ کا گھر ہے، میں تجھے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا، مگر تیرے رہنے والوں نے مجھ پر زمین تنگ کردی ہے۔ ‘‘ (البدایۃ والنہایۃ المجلد الاول، ص578)۔ ہجرت کا سفر شروع ہوا تو قدم قدم پر مشکلات اور جان کا خطرہ، مگر مجال ہے کسی مقام پر آپؐ کے قدم ڈگمگائے ہوں یا بد دلی و مایوسی کا اظہار کیاہو۔

 محسنِ انسانیتؐ نے ہر مشکل مرحلے میں امیدوں کے چراغ جلائے اور حوصلوں کو مہمیز دی۔ غارِ ثور کے اندر یارِ غار کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ دشمن کھوج لگاتے ہوئے وہاں تک آپہنچے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا کہ یارسول اللہؐ دشمن آپہنچے ہیں، ہم پکڑے گئے ہیں، مگر آپ نے فرمایا: ’’مَاظَنُّکَ بِاِثْنَیْنِ اَللّٰہُ ثَالِثُہُمَا یَا اَبَابَکْرٍ لَاتَخَفْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا‘‘ یعنی اے ابوبکر!تجھے ان دو کے بارے میں کیا خطرہ لاحق ہوگیا ہے جن کا تیسرا ساتھی خود اللہ ہے، ہرگز نہ ڈرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ المجلد الاول، ص۵۶۴)۔ 

اسی مضمون کو سورۂ توبہ میں اللہ نے یوں بیان فرمایا ہے:’’ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔(التوبہ:40)۔ (یاد کرو)جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا، غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں سفر ہجرت کی تفصیلات میں فرماتے ہیں کہ غار کے دھانے پر مکڑی نے فوراً جالا تن لیا اور کبوتری نے گھونسلا بنا کر فوراً انڈے دے دیے۔ مشہور شاعر صرصری نے اپنی نعت کے ایک شعر میں لکھا

فَغَمٰی عَلَیْہِ الْعَنْکَبُوْتُ بِنَسْجِہٖ
وَ ظَلَّ عَلَی الْبَابِ الْحَمَامُ یَبِیْضٗ
(ایضاً، ص564۔565)

سیرت کا مشہور واقعہ ہے کہ اسی سفر ہجرت میں انعام حاصل کرنے کے لالچ میں دیگر مہم جو نوجوانوں کی طرح سراقہ بن مالک بن جعشم بھی آپؐ کے تعاقب میں نکلا اور آپؐ کے قریب پہنچ گیا، مگر اس کے گھوڑے کے پاؤں دو مرتبہ زمین میں دھنس گئے۔ وہ خوف زدہ ہوا اور آنحضور ؐ سے درخواست کی: ’’اے ابن عبدالمطلب! مجھے معاف کردو۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’میں نے تجھے معاف کردیا۔‘‘ اس نے کہا کہ ازراہِ احسان اپنی امان مجھے لکھ کر بھی دے دیجیے۔

 اس زمانے میں جو قلم وقرطاس کا زمانہ نہیں تھا اور اس کیفیت میں آپ کو اپنے گھر سے نکال دیا گیاتھا، سفر کی حالت میں یہ مطالبہ بظاہر کتنا عجیب بلکہ مضحکہ خیز نظر آتا ہے، مگر دیکھیے کہ نبئ رحمتؐ اس حال میں بھی سرتاپا جود وسخا کے روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی ایمرجنسی میں قیصروکسریٰ بھی کسی کو پروانہ لکھ کر نہ دے سکتے، مگر نبی اکرمؐ نے عامر بن فہیرہؓ(یا بعض روایات کے مطابق حضرت ابوبکرؓ) سے کہا کہ اسے لکھ کر دے دیجیے۔ چنانچہ چمڑے کے ایک ٹکڑے پر اسے امان لکھ کر دی گئی۔ اسی موقع پر آنحضورؐنے سراقہ کو یہ خوش خبر بھی سنائی تھی کہ ایک دن شہنشاہِ ایران کسریٰ کے سونے کے کنگن اس کے ہاتھوں میں پہنائے جائیں گے۔ (البدایۃ والنہایۃ المجلد الاول، ص۵۶۶ ۔۵۶۷)۔ دیکھیے نبی اکرمؐ مشکل ترین حالات میں بھی کس قدر جرأت مند، فیاض اور مستقبل کے حالات اور اسلام کی کامیابی سے پرامید تھے۔

ہجرت کے بعد نبی اکرمؐ کو مدینہ منورہ میں چین سے نہیں بیٹھنے دیا گیا۔ 2ھ میں ابوجہل کی سرکردگی میں قریش مکہ کا ایک ہزار کا لشکر جرّار پورے سازوسامان سے لیس، مدینہ پر حملہ آور ہوا۔ آنحضورؐ نے مدینہ سے باہر 80میل کے فاصلے پر بدر کے مقام پر اس لشکر کا مقابلہ کیا۔ آپؐ کے ساتھ صرف313جانثار تھے، جن کے پاس نہ تو پورا اسلحہ تھا، نہ ہی جنگی لباس تھا اور نہ ہی کھانے پینے کے لئے وافر خوراک اور راشن تھا۔ اس کے باوجود نبی اکرمؐ نے بدر کے میدان میں پہنچ کر مختلف مقامات پر اپنے نیزے سے نشان لگائے اور فرمایا کہ قریش کا فلاں سردار اس جگہ اور فلاں اس جگہ قتل ہوجائے گا اور لوگوں نے دیکھا کہ آنحضورؐ کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوگئی۔ کفار کا لشکر بدترین شکست سے دوچار ہوا۔ آنحضور ؐ اس مشکل گھڑی میں اتنے ثابت قدم تھے کہ آپ نے کفار سے ذرا برابر مرعوبیت اور خوف محسوس نہیں کیا بلکہ صحابہؓ کو بھی اتنا حوصلہ دیا کہ وہ لشکرجرار سے بے جگری سے لڑے اور ستر کفار کو قتل کرنے کے علاوہ ستر دشمن جنگی قیدی بنا لئے۔ (البدایۃ والنہایۃ المجلد الاول، ص608،611)۔

غزوہ احد، خندق اور حنین سخت ترین معرکے تھے۔ احد میں تو بالخصوص صحابہؓ کی ایک اجتہادی غلطی کے نتیجے میں فتح شکست میں بدل گئی۔ ستر صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ آنحضور کے محبوب چچا حضرت حمزہؓ کی لاش کا مثلہ کیا گیا۔ اس کے باوجود آنحضورؐ استقامت کا پہاڑ بنے میدان جنگ میں ڈٹے ہوئے تھے۔ سورۂ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: إِذْ تُصْعِدُوْنََ وَلَا تَلْوُوْنََ عَلٰٓی أحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْٓ اُخْرَاکُمْ فَأَثَابَکُمْ غَمًَّام بِغَمٍّ لِّکَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا مَآ أَصَابَکُمْ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ (آلِ عمران:153)۔

یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمھیں نہ تھا، اور رسول تمھارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا۔ اس وقت تمھاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمھیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے تاکہ آیندہ کے لئے تمھیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمھارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے۔

احادیث میں جنگ احد کے حوالے سے یہ تذکرہ ملتا ہے کہ آپ میدان جنگ میں ڈٹے ہوئے تھے اور مسلسل کہہ رہے تھے: اِلََیَّ عِبَادَاللّٰہ! (تفہیم القرآن،ج۱،ص295)۔ ابوسفیان نے جب پہاڑ کے نیچے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ ہم نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کردیا ہے۔ پھر بڑ ہانکی کہ ہم نے ابوقحافہ کے بیٹے ابوبکرؓ کو بھی قتل کردیا ہے، تو آنحضورؐ نے فرمایا خاموش رہو۔ پھر اس نے کہا کہ ہم نے جری جوان عمرؓبن خطاب کو بھی قتل کردیا ہے۔ اس پر آنحضورؐنے فرمایا کہ عمر! جواب دو۔ حضرت عمرؓ نے کہا ’’نَحْنُ کُلُّنَا اَحْیَاءٌ نَسْمَعُ کَلَامَکَ یَا عَدُوَّاللّٰہِ۔ یعنی اے دشمن خدا ہم سب زندہ ہیں اور تیرا کلام سن رہے ہیں۔‘‘ پھر اس نے کہا ’’ہُبل سربلند ہوا‘‘اور اس کے ساتھ ہی کہا ’’ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا ہے۔‘‘ اس کے جواب میں حضرت عمرؓ نے آنحضورؐکے ارشاد کے مطابق کہا :’’ اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ لَا سِوَاءَ، قَتَلَانَا فِی الجَنَّۃِ وَقَتَلَاکُمْ فِی النَّارِ۔یعنی اللہ ہی بلندوبالا اور شان والا ہے۔ بدر کا بدلہ تم کیسے لے سکتے ہو، ہمارے شہدا جنت میں چلے گئے ہیں اور تمھارے مقتولین دوزخ میں۔ ابوسفیان نے کہا اگلے سال پھر ہمارا تمھارا مقابلہ بدر میں ہوگا۔ آنحضورؐ نے فرمایا اس کو جواب دو کہ ہمیں یہ چیلنج قبول ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ المجلد الاول، ص686۔687، تفہیم الاحادیث، ج۶، ص107،اشاعت۱، ستمبر2000ء)۔اگلے سال آنحضورؐصحابہ کے ساتھ بدر کے میدان میں گئے، مگر ابوسفیان اور اس کی فوج کو ہمت نہ پڑی کہ وہ مقابلے کے لئے نکلتے۔

اسی موقع پر شہدا کی تدفین کے بعد جب آنحضور ؐ مدینہ واپس پہنچے تو خبر ملی کہ ابوسفیان پلٹ کر مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے تاکہ مالِ غنیمت اور قیدی مکہ لے جائے۔ اس پر آنحضورؐ نے صحابہؓ کو پکارا جو کمال جرأت وعزیمت کے ساتھ تیار ہوکر اللہ کے راستے میں نکلے۔ اس واقعہ کا تذکرہ خود قرآن مجید میں سورۂ آلِ عمران کے اندر اللہ رب العزت نے شاندار الفاظ میں کیا ہے۔

آیت نمبر172سے لے کر175 تک صحابہ کرامؓ کو اللہ نے وہ تمغہ عطا فرمایا ہے کہ جس کا کوئی بدل دنیا میں نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب منافقین اور یہودیوں نے اہلِ ایمان کو خوفزدہ کرنا چاہا تو انھوں نے کہا:’’ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ یعنی ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسازہے۔‘‘ ابوسفیان کا ارادہ واقعی واپس پلٹ کے حملہ کرنے کا تھا، مگر صحابہ کی جرأت واستقامت کی خبر پا کر وہ مدینہ کی طرف آنے کی بجائے مکہ کی طرف بھاگ گیا۔ اس جنگ کو غزوۂ حمراء الاسد کہا جاتا ہے۔

غزوہ خندق بھی بہت مشکل مرحلہ تھا۔ سورۂ الاحزاب میں اس کی شدت کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔ إِذْ جَآؤُوْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ وَإِذْ زَاغَت الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنََ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنََا۔ (الاحزاب:10)۔ جب دشمن اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آگئے ، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اتنے مشکل حالات میں صادق الایمان اہلِ مدینہ ڈٹے رہے اور خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے محاذ پر قیادت کا حق ادا کرتے رہے۔

 آپؐ کا حوصلہ اتنا بلند اور فکر اتنی عظیم تھی کہ آپؐ مستقبل کی خوش خبریاں سنا رہے تھے۔خندق کی کھدائی کے دوران بھی چٹان کو کدال سے توڑتے ہوئے آپ نے صحابہ کرامؓ کو جزیرہ نمائے عرب سے باہر کی فتوحات کی بشارتیں دی تھیں۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے اس جنگ کے دوران نبی پاک ؐ نے ارشاد فرمایا: ’’لن تغزوکم قریش بعد عامکم ہذا ولکنکم تغزونھم۔یعنی اب قریش کے لوگ تم پر کبھی چڑھائی نہ کرسکیں گے۔ اب تم ان پر چڑھائی کرو گے۔ ‘‘(دلائل النبوۃ للبیہقی، ج3،ص458)۔

غزوۂ حنین اور غزوۂ تبوک کے واقعات بھی قرآن وسنت میں تفصیلاً بیان کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں مشکل مرحلے تھے، مگر نبی اکرم ؐ حنین کے میدان میں بھی پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے بڑھ رہے تھے اور مسلسل فرمارہے تھے: ’’اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ، اَنَا بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ۔‘‘ اسی طرح غزوۂ تبوک میں بھی جب صحابہؓ نے کچھ سستی دکھائی تو اللہ نے بھی سورۂ توبہ میں ان کو جھنجھوڑا اور نبی اکرمؐ نے ایک بہت موثر خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں آپؐ نے کہا: ’’اگر کوئی بھی قیصر روم کا مقابلہ کرنے کے لئے نہ نکلا تو میں تن تنہا (اللہ کے بھروسے پر) اس کے مقابلے کے لئے نکلوں گا اور اسے عرب کی سرحد پر جا کر روکوں گا۔‘‘ (البدایۃ والنہایۃ المجلد الاول، ص904)۔

 سیرت کے یہ سارے واقعات امت کو حوصلہ دینے، پرامید رہنے اور ہمیشہ کمرِ ہمت باندھے رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ آج امت کے ہر چھوٹے بڑے کو شدید ضرورت ہے کہ وہ سیرت کا مطالعہ اس نقطۂ نظر سے کرے کہ ان پرآشوب حالات میں نبی رحمت ؐ کی حیات طیبہ ہمارے لئے کیا درس فراہم کرتی ہے۔ قرآن کا حکم ہے: ’’وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘ (آلِ عمران:139)۔ آنحضور ؐ کی سیرت کا ایک ایک ورق اس آیت کی عملی تفسیرہے۔ دنیا سے قیصروکسریٰ کی نام نہاد سپریمیسی ہمارے اسلاف نے ختم کردی تھی۔

 آج ہم انھی کے اَخلاف ہونے کے باوجود ، دورِ جدید کی نام نہاد سپر طاقتوں سے مرعوب اور اپنی حقیقت سے بے خبر ہیں، نہ وہ روح ہے ، نہ سوچ، نہ ایمان ہے نہ سوزویقین۔ بس اسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر اسلام دنیا کا غالب دین بن کر رہے گا۔

خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تو ، زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے
مٹایا قیصروکسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا؟ زورِ حیدرؓ ، فقرِ بوذرؓ ، صدقِ سلمانیؓ!

حافظ محمد ادریس

No comments:

Powered by Blogger.