Header Ads

Breaking News
recent

ڈنمارک میں پردیسیوں کے طویل ترین روزے

مسلم پرو نامی ایپلیکشن کے مطابق میرے علاقے میں نمازِ عشاء کا وقت رات گیارہ بج کر پچیس منٹ (11:25) ہے، جب کہ نمازِ فجر کا وقت دو بج کر پنتالیس منٹ (2:45) ہے، اب نماز عشاء اور تروایح کے بعد سحری کا وقت کتنا بچتا ہے؟ اِس کا حساب کتاب آپ پر چھوڑے دیتے ہیں۔ سکینڈے نیویا میں آج کل موسمِ گرما چل رہا ہے، یہاں کے لمبے دن اور لمبی راتوں کو چھ ماہ دن اور چھ ماہ رات کی طرح سمجھا جاتا ہے۔ آج کل جو چند گھنٹوں کے لئے سورج غروب ہوتا ہے، اِس کو رات کہا جاتا ہے۔ غروبِ آفتاب کا وقت گزشتہ روز نو بج کر چالیس منٹ (9:40) تھا اور طلوع آفتاب قریباً چار چالیس (4:40) رہا۔ ایسے دنوں اور اِس موسم میں روزے رکھنا کئی طرح سے صبر آزما ہے۔

پردیس میں نماز اور روزے یا دیگر عبادات کا رنگ وطن کے گلی کوچوں سے بہت مختلف ہوتا ہے، کہیں سے اللہ اکبر کی صدا نہیں آتی، کوئی اعلان کی زحمت نہیں کرتا، باہر جاتی ہوئی دھوپ اور ہلکے اندھیروں سے خود ہی اندازے لگانے ہوتے ہیں یا مسلم پرو طرز کی ایپلیکشنز ہی ساتھ دیتی ہیں۔ کام کے ساتھ اِس طویل روزے کو نبھانا اور اِن اوقات کا گزارنا کافی مشکل ہے۔ جیسے اگر آپ کسی دفتر میں کام کرتے ہیں اور صبح آٹھ بجے دفتر جاتے ہیں تو کب سوئیں گے کہ دفتر وقت پر پہنچیں؟ عملی طور پر چھ گھنٹوں کی رات میں افطار اور سحر کو نپٹانا اور کام کے معاملات کو ساتھ ساتھ چلانا خاصا مشکل ہے پھر بھی بہت سے لوگ ماہِ رمضان کی برکتیں سمیٹتے نظر آتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ غالب سے بھی آگے کے مسلمان ہیں جن کے پاس کھانے کو تو سب کچھ ہے مگر پھر بھی روزہ ہی شوق سے کھاتے ہیں۔

سیاسی اور سماجی طرز کی افطاریوں کا بھی خوب اہتمام کیا جاتا ہے۔ اپنے اپنے قبیلوں اور ہم خیال لوگوں کو کسی ہوٹل، ہال یا گھر میں بلا کر لوگ افطاریاں کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ سکینڈے نیویا میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں عملی طور پر یوں لگتا ہے کہ رات آئی ہی نہیں۔ اِن حالات میں بھی روزے رکھنے والے اِس فرض سے نہیں چوکتے، لیکن اِس قدر طویل روزے کو کیسے نبھایا جائے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ ایسی جگہیں کہ جہاں روزے اِس قدر طویل ہیں، وہاں سحر و افطار کا فیصلہ کیسے کیا جائے؟

کچھ علماء کا خیال ہے کہ قریب ترین معلوم مقام کے سحر و افطار کے مطابق روزے رکھے جائیں، جبکہ کچھ علماء کا یہ بھی کہنا ہے کہ مکہ مکرمہ میں سحر و افطار کے مطابق بھی روزہ رکھا جا سکتا ہے۔ میرے علم میں کچھ دوست ایسے آئے ہیں جو اِس طرز کے روزے رکھ رہے ہیں یعنی یہاں عصر کا وقت ہوا ہو گا تو وہ سعودی عرب کے وقت کے مطابق افطار کر لیں گے۔ اب ایسے حالات میں کن اطوار پر عمل پیرا ہونا چاہیئے؟ یہ فیصلہ اہل علم و عمل پر چھوڑتے ہیں۔ ہم ایسے لوگ ہیں، جن کو یورپ میں آئے ابھی چھ سات برس ہی ہوئے ہیں جن کی جڑیں ابھی تک اِس زمین میں نہیں لگ پائیں۔ اِن کو ایسی صورت حال میں سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دو تین عشروں کا عمل ایک طرف اور چند سالوں کا وطیرہ ایک طرف۔ میرے لئے تو روزہ سورج کے اگنے کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور سورج غروب ہونے پر ہی افطار ہوتا ہے۔

ابھی آغازِِ رمضان ہے، بے شمار دوست پردیس کی مشکل زندگیوں کے ساتھ ساتھ رمضان کی فرض عبادت کو محبت سے ادا کر رہے ہیں۔ اللہ تعالی اِن سب کے روزے قبول کرے اور اِس محنت کے توسط جس صبر و استقلال کے پھل کے متمنی ہم ہوتے ہیں خدا کرے کہ وہ ہم سب کو نصیب ہو۔ غیرمسلم پوچھتے ہیں کہ اتنی دیر بھوکا پیاسا آدمی کیسے رہ سکتا ہے؟ میں اِن سے کہتا ہوں کہ روزہ ایک جذبے کا نام ہے، پروردگار کے حکم سے اپنی جائز خواہشات پر قابو پالینے کا نام، کسی خواہش سے خود کو روک لینے کا نام، روزہ بھوک اور پیاس سے بڑا ہے۔ اگر یہ بھوک صرف پیٹ کی ہو تو میں کب کا ہار مان جاؤں مگر یہ تو میرے رب کا حکم ہے اور یہی جذبہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ خواہ سامنے خوان دھرے ہوں یا میووں کے ڈھیر پڑے ہوں میں اُن کو ہاتھ تک نہ لگاؤں گا۔

رمضان رفیق
 

No comments:

Powered by Blogger.