Header Ads

Breaking News
recent

گھر والوں کو نیکی کا حکم کرو

اللہ رب العزت کا ارشادہے : اے ایمان والو! اپنے آپ کو اوراپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اورپتھر ہیں (التحریم6)اسی آیت مبارکہ جہاں انسان کو یہ حکم دیا جارہا ہے کہ خود کو عمل صالح کی عادت کے ذریعے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے وہیں پہ اسکی یہ ذمہ داری بھی کہ اپنے گھر والوں ،اوراہل وعیال کو بھی نیک اورصالح اعمال کی تلقین کرے اورانھیں بھی آتشِ دوزخ سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے، قرآن مقدس دوسرے مقام پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوکر ارشاد ہوا ،’’ اپنے گھر والوں کو نماز اداکرنے کا حکم دیجئے اور خود بھی اس پر مواظبت اختیار کیجئے ‘‘۔ طہ 132

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز (تہجد )ادافرماتے جب وتر پڑھنے لگتے تو (مجھے بھی) فرماتے، اے عائشہ! اُٹھو اوروتر پڑھو۔  صحیح بخاری ، صحیح مسلم 

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دواوروہ دس سال کے ہوجائیں تو ان کو مار مار کر نماز پڑھائو، اوران کے بستر الگ الگ کردو۔ ابودائود ، ترمذی

حضرت سعید بن عاص اپنے والد سے اوروہ اپنے جد امجد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جو شخص اپنے بیٹے کو نیک ادب سکھائے (اس بیٹے کے لیے) اس سے بڑھ کرکوئی عطیہ نہیں۔ المستدرک: امام حاکم 

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسالت مآب علیہ والصلوٰۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا : اللہ (رب العزت ) کی قسم ! اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے لخت جگر کو ادب سکھائے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ہر روز دو صاع (اناج )صدقہ کرے۔ (المستدرک: امام حاکم) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اورحضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ھادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جب کوئی شخص رات کو اپنی اہلیہ کو بیدار کرے اورپھر وہ دونوں نماز پڑھیں یا مل کر دورکعت نماز اداکریں تو ان دونوں کو ذکر کرنیوالے مردوں اورذکر کرنے والی عورتوں میں لکھا جاتا ہے ۔ ابودائود ، ابن ماجہ 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : اللہ کریم اس مرد پر رحم فرمائے جو رات کو نماز پڑھنے کیلئے بیدار ہو، اورپھر اپنی بیوی کوبھی نماز کیلئے جگائے ، اگر وہ اٹھنے سے انکار کرے تو اسکے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ، اللہ اس عورت پر (بھی)رحم فرمائے جو رات کو اٹھے ، پھر نماز پڑھے ، اور اپنے خاوند کو بھی جگائے ، پس اگر وہ انکار کرے تو اسکے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ۔  سنن ابی دائود ، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ 


No comments:

Powered by Blogger.