Header Ads

Visit Dar-us-Salam Publications - Online Islamic Bookstore!
Breaking News
recent

رزق پہچانے کا انتظام اللہ کی طرف سے ہے

حضرت شیخ سعدیؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش ایک جنگل میں سفر کررہا تھا  اس نے ایک لنگڑی لومڑی کودیکھا جو بے بسی کی چلتی پھرتی تصویر تھی۔ اس درویش کے دل میں خیال آیا کہ اس لومڑی کے رزق کا انتظام کیسے ہوتا ہو گا جبکہ یہ شکار کرنے کے بھی قابل نہیں ہے؟ درویش ابھی یہ بات سوچ رہا تھا کہ اس نے ایک شیر کو دیکھا جو منہ میں گیڈر دبائے اس لومڑی کے نزدیک آیا۔ اس نے گیڈر کے گوشت کا کچھ حصہ کھایا اور باقی وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ لومڑی نے اس باقی کے گوشت میں سے کھایا اور اپنا پیٹ بھرا۔ درویش نے جب سارا ماجرا دیکھا تو اسے اتفاق قرار دیا اور یہ دیکھنے کیلئے کہ یہ لومڑی دوبارہ اپنا پیٹ کیسے بھرے گی وہیں قیام کیا۔ 

اگلے روز بھی وہی شیر منہ میں گیڈر دبائے اس جگہ آیا اور اس نے کچھ گوشت کھانے کے بعد باقی ویسے ہی چھوڑ دیا۔ لومڑی نے وہ باقی گوشت کھا لیا اور اپنا پیٹ بھر لیا۔ درویش سمجھ گیا کہ اس کے رزق پہنچانے کا انتظام اللہ کی طرف سے ہے۔ اس نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ میں بھی اب اپنے رزق کے لئے کوئی جستجو نہیں کروں گا اور میرا رزق اللہ عزوکل مجھے خود پہنچا دے گا جس طرح لنگڑی لومڑی کو شیر کے ذریعے رزق پہنچا رہا ہے۔ درویش یہ فیصلہ کرنے کے بعد ایک جگہ جا کر اطمینان سے بیٹھ گیا۔ اسے یقین تھا کہ اس کا رزق بھی اسے پہنچ جائے گا مگر کئی دن گزر گئے اس کے لئے کھانے کی کوئی شے نہ آئی یہاں تک کہ وہ کمزوری کی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس دوران اس نے نزدیک ایک مسجد کے محراب سے یہ آواز سنی کہ اے درویش  کیا تو لنگڑی لومڑی بننا چاہتا ہے یا پھر شیر جو اپنا شکار خود کرتا ہے جس میں سے خود بھی کھاتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلاتا ہے۔ 

مقصود بیان : حضرت شیخ سعدی ؒ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ رزق پہنچانے کا انتظام اللہ کی طرف سے ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ اچھا بھلا ہواور وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے کہ اللہ عزوکل نے جب رزق دینے کا وعدہ کیا ہے تووہ اسے بیٹھے بٹھائے رزق پہنچائے گا بلکہ اس کے لئے اسے جستجو کرنا ہوگی‘ محنت کرنا ہو گی پھر اللہ عزوجل سے امید لگانا ہو گی کہ وہ اس کے رزق کا انتظام کرے گا۔ وہ لوگ جو محتاج ہیں اور محنت نہیں کر سکتے ان کیلئے اللہ عزوجل نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ انہیں ان کا رزق ملتا رہتا ہے۔ 

No comments:

Powered by Blogger.