Monday, October 3, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

کیا مسلمان دہشت گرد ہے ؟

سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فلپ زمباڈو کا خیال ہے کہ’’ دہشت گردی میں عام آبادی کو خوف زدہ کیا جاتاہے ،لوگوں کے خود پر موجود اعتماد کو مجروح کیا جاتا ہے اورایک محفوظ وآرام دہ دنیا کو خارزار میں تبدیل کردیا جاتا ہے ۔ دہشت گرد غیر متوقع طور پر تشدد کی کارروائی کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ دہشت گرد لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے اس صورت میں یا تو مقابلہ کیا جاتا ہے یا گریز اختیار کیا جاتا ہے۔‘‘دہشت گردی ایک ایسا لفظ ہے جس سے ہم سب کی واقفیت ہے اور پاکستانی اسے کئی بار سن چکے ہیں ۔ ہم دہشت گردی کو قرآن مجید کی رو سے فساد فی الارض کے نام سے تشبہیہ دے سکتے ہیں۔ اسلام بمعنیٰ سلامتی ہے ۔ پیغمبر اسلام رحمۃ اللمسلمین نہیں بلکہ رحمۃ اللعالمین بن کر آئے ۔ اسلام ساری دنیا میں امن وسلامتی کا داعی ہے ۔ اسلام جہاں اپنے ماننے والوں کو امن دیتا ہے وہیں غیر مسلموں کے ایسے حقوق رکھتے ہیں جن سے ان کی جان، مال ،عزت اور آزادی محفوظ رہتی ہے۔

احادیث نبوی ﷺ ہیں ’’ خبردار جس نے ذمی کافر پر ظلم کیا یا اسے نقصان پہنچایا، اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام لیا یا اس سے کوئی تھوڑی سی چیز بھی بغیر اس کی رضا کے لی تو کل قیامت کے دن میں ایسے شخص سے جھگڑوں گا۔ ’’جس نے کسی ذمی کافر کو اذیت پہنچائی تو میں اس کا مخالف ہوں اور جس کا میں مخالف ہوا قیامت کے دن اس کی مخالفت ہو گی۔‘‘ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ﷺ ہے’’ جو کسی جان دار (انسان یا جانور) کو مْثلہ کرے (شکل و صورت یا حلیہ بگاڑے) اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور بنی آدم سب کی لعنت ہے۔‘‘ مشرق وسطیٰ،شمالی افریقہ اور ایشیا ء کے علاقوں میں غالب اکثریت اسلام کے ماننے والے ہیں جبکہ چین،مشرقی یورپ اورروس میں بھی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی آباد ہے ۔ مسلم مہاجرین کی بھی ایک بڑی تعداد یورپ میں آباد ہے ۔ 
جہاں عیسائیت کے بعد سب سے بڑامذہب اسلام ہے اور مغربی تجزیہ نگاروں کے مطابق بہت جلد اسلام یورپ کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا ۔
مغربی ممالک میں دیگر مذاہب کے لوگ بڑی تیزی سے اسلام کی طرف راغب ہورہے ہیں ۔غیر مسلم ممالک اگر ایک طرف اسلام کی اشاعت سے خوفزدہ ہیں تودوسری طرف عالم اسلام میں معدنیات کے خزانے ان کی حریصانہ نظروں میں ہیں ۔ سید عاصم محمود 1990-91 کے سالوں کے متعلق لکھتے ہیں ’’ابھی مغرب اور القاعدہ کا باقاعدہ تصادم شروع نہیں ہوا تھا۔ پھر بھی مغربی ممالک میں اسلام اور مسلمانوں سے ناپسندیدگی و نفرت کے ملے جلے جذبات پائے جاتے تھے۔ ‘‘ تاہم اس وقت ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی ۔ لیکن اس وقت یہ صورت حال یکسر تبدیل ہوچکی ہے ۔ اسلام مخالفت میں جہاں انفرادی طور پر لوگ مصروف عمل ہیں وہیں باقاعدہ طور پر یورپ میں اسلام مخالف تنظیمیں وجود میں آچکی ہیں جو وقتا فوقتااسلام کے مختلف اصولوں پر طعن و تشنیع اور پابندیوں کا مطالبہ کرتے اور اسلام کو دہشت گرد مذہب گردانتے نظر آتے ہیں ۔

اسلام اور اس کے ماننے والے امن کے داعی ہیں جبکہ بڑے بڑے حادثات میں غیر مسلم ممالک بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہوتے ہیں ۔ اگر ہم پہلی جنگ عظیم کی بات کریں جو 28 جون 1914ء کو آسٹریا ہنگری کے ولی عہد اور شہزادہ فرانسس فرڈی ننڈ کو سلاو دہشت گرد کی طرف سے گولی مارنے کی وجہ سے شروع ہوئی تھی ۔ اس جنگ میں ایک کروڑ صرف فوجی ہلاک ہوئے ’’پچھلے ایک سو برس میں ہوئی لڑائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ‘‘ اور دو کروڑ دس لاکھ کے قریب افراد زخمی ہوئے ۔ یکم جولائی 1916ء کو ایک دن کے اندر اند ر 57ہزار ہلاکتیں ہوئیں ۔ جرمنی کے 17 لاکھ 73ہزار سے زائد ،روس کے 17 لاکھ کے قریب اور فرانس کو اپنی 16 فیصد فوج سے محروم ہونا پڑا ۔ کیا یہ جنگ اسلام اور اسلام کے نام لیواؤں نے انسانیت پر مسلط کی تھی ؟دوسری جنگ عظیم میں 13سے 15 فروری 1945ء تک 3ہزار 900 ٹن کے قریب بارود اور دیگر دھماکہ خیز مواد انسانیت پر برسایا گیا جس میں 22ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے ۔

یہ جنگ بھی اسلام نے انسانیت پر مسلط نہیں کی تھی ۔ 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کرنے والا ایڈولف ہٹلر بھی مسلمان نہیں تھا ۔ یورپ اور جرمنی میں آج بھی ہٹلر کی حمایت اور ہولوکاسٹ کی مخالفت کرنا جرم ہے ۔ شاہ لیوپولڈ ثانی کے ہاتھوں مرنے والے افراد کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے ۔ 1880ء سے 1920ء کے دوران اس کے زیر قبضہ علاقے کی 50 فیصد آبادی کم ہوئی ۔ شاہ کے جبری مزدوری فلسفے کو بعد میں فرانس ،جرمنی اور پرتگال نے اپنے نوآبادیاتی نظام میں اپنایا۔میسولینی نے ایتھوپیا پر قبضہ کے دوران وہاں کی 7فیصد آباد ی کو قتل کیا اور 1936ء میں ہٹلر کے ساتھ اتحاد کے بعد جنگ عظیم میں کود پڑا اور جوزف سٹالن کے ہاتھوں 8 لاکھ افراد کو موت دی گئی ،جبری کیمپوں میں 17 لاکھ کے قریب افراد مارے گئے اور جبری ہجرت کے دوران مرنے والوں کی تعداد 3لاکھ 90ہزار سے زائد تھی ۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے چین ،کوریا ،گونٹے مالا،انڈونیشیا ،کیوبا بلجن کانگو،پیرو،لاؤس ،ویتنام،کمبوڈیا ،گریناڈا ،سوڈان ،یوگوسلاویہ ،افغانستان ، عراق اورشام سمیت دیگر ممالک کے ساتھ جنگ کی یا پھر اتحادی ہونے کی صورت فضائی بم باری میں حصہ لیا ۔ مصنف ایلیٹ لیٹن نے نکتہ اٹھایا کہ'' تناسب کے اعتبار سے امریکہ، دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ قاتل پیدا کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان قاتلوں کے ذاتی، سیاسی اور مذہبی نظریات ہوں مگر یہ نہ تو کسی منظم سیاسی یا مذہبی جماعت کے رکن ہوتے ہیں اور نہ ان کی سرگرمیاں کسی پارٹی کے ایجنڈے کا حصہ، جیسا کہ آج کل دہشت گردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

ایرن ملر کا کہنا ہے کہ’ ’سنہ 2004 سے 2013 کے درمیان ہونے والے تمام دہشت گرد حملوں میں سے نصف حملے عراق، افغانستان اور پاکستان میں ہوئے اور 60 فی صد ہلاکتیں انہی ممالک میں ہوئیں اور یہ تینوں مسلم ممالک ہیں۔‘‘البتہ دہشت گرد حملوں میں مرنے والوں میں 95 فی صد مسلمان ہیں جیسے دعووں پر شک ہے، تاہم ان کے خیال میں یہ دعویٰ سچ سے بہت زیادہ دور بھی نہیں ہے۔ایرن ملر نے اس حوالے سے کہا’ ’مسلم اکثریتی ممالک میں زیادہ تر حملے مرکوز ہونے کی صورت حال میں یہ دعویٰ ناممکنات میں سے نہیں ہے۔‘‘سنہ 2004 سے 2013 کے درمیان برطانیہ میں 400 دہشت گردانہ حملے ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر شمالی آئرلینڈ میں ہوئے لیکن زیادہ تر میں ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ اسی درمیان امریکہ میں 131 حملے ہوئے اور 20 سے بھی کم ہلاکتیں ہوئیں۔ فرانس میں اس مدت میں 47 حملے ہوئے جبکہ اس دوران عراق میں 12 ہزار حملے ہوئے اور ان میں 8 ہزارسے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

ذرا مزید ماضی بعید میں جائیں تو یورپی ممالک اور شمالی امریکہ باقی دنیا کو سینکڑوں برس سے تشدد،جنگ وجدل ،قتل وغارت گری اوردیگر ہتھکنڈوں سے فتح کئے ۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے فلپائن پر چڑھائی کی اور فلپائنی عوام کو قتل کیا، انگلستان نے ہندوستان پر قبضہ کیا ،فرانس نے الجزائر پر چڑھائی کی اوربیلجیئم نے کانگو کے ایک کروڑ افراد کو قتل کیا اوریورپ کی تاریخ تو خانہ جنگی سے بھرپور تاریخ ہے ۔ برطانیہ نے واشگٹن کو جلاکر راکھ کردیا تھا ۔ سترہویں صدی کی ایک جنگ میں جرمنی کی ایک تہائی آبادی ہلاک کر دی گئی تھی اور بیسیویں صدی کے بارے میں تو کچھ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔ جس میں جنگ عظیم اول اور دوم اور ہٹلر ،میسولینی اور جوزف سٹالن جیسی شخصیات پیداہوئیں ۔

افغانستان پر جنگ مسلط ہوئی جس میں 1 لاکھ 73ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اور حملہ کرنے والا کوئی اور نہیں امریکہ اور نیٹو اتحاد ہے ۔ اس سے پہلے افغانستان پر روس گرم پانیوں کی تلاش میں یلغار کرچکا ہے۔ عراق پر امریکی حملے کی صورت میں محتاط اندازے کے مطابق 1 لاکھ 10ہزار لوگ ہلاک ہوئے۔شام میں جاری خانہ جنگی میں امریکہ و روس جیسی طاقتوں کی پراکسی وار سے 4 لاکھ 70 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوچکی ہیں ۔ زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے اور مہاجرین کی تعداد اس کے ماسوا ہے جو دردرکی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور بھوک،گرمی ،سردی اوربیماری سے جو ہلاکتیں ہوئیں وہ الگ ہیں ۔ پاکستان ، سعودی عر ب ،مصراور ترکی سمیت دیگر اسلامی ممالک میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیاں اس کے علاوہ ھیں ۔ جن میں نام نہادمسلمان (انہیں مسلمان کہنا بھی لفظ مسلمان کی توہین ہے ) جنہیں پورے عالم اسلام میں سے کسی بھی اسلامی رہنما یا معروف اسلامی سکالر کی حمایت حاصل نہیں ، ملوث پائے جاتے ہیں ۔ جن کے متعلق خبریں اور انٹیلی جنس رپورٹس کچھ اورہی کہانی بیان کرتی ہیں۔

داعش کے متعلق تو میڈیا میں خبریں آچکی ہیں کہ اس کو بنانے میں امریکہ و مغرب کا کردار ہے ۔ فلسطین وکشمیر میں یہودوہنود کس کی ملی بھگت سے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں؟ ۔ فلسطینی مجاہدین کو دہشت گرد کہا جاتا ہے اور کشمیریوں کی حمایت کرنے والوں کوبھی بھارت دہشت گرد ڈکلیئر کروادیتا ہے ۔ پچھلے 77 دن سے بھارت کشمیر میں مسلمانوں پر جدید ترین ٹیکنالوجی آزمارہا ہے ۔ اسرائیلی ڈرونز، پیلٹ گنز اور دیگرجدید اسلحہ ان کشمیری حریت پسندوں پر چلایا جا رہا ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادی کا اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔ برما میں مسلمانوں کو بدھ مت گاجر مولی کی طرح کاٹتے ہیں ، دنیابھر کا ظلم ان پر برما کی حکومت روا رکھے ہوئے ہے ،گلیوں ، بازاروں اور گھروں میں برمی مسلمانوں کو زندہ جلایا جاتا ہے ۔ فلسطین میں اسرائیل بیت المقدس کے محافظ نہتے فلسطینیوں کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں اکٹھا کرکے شہید کررہا ہے ۔

کبھی غزہ کا پانی بند کردیا جاتا ہے تو کبھی عین سکول کی چھٹی کے وقت بمباری کر کے معصوم فلسطینی بچوں کو شہید کرتا ہے ۔ دنیا میں فساد کی جڑ اسلام کے نام لیوا بالکل نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے مسلم ممالک میں خانہ جنگی کروائی ۔ کہیں خود جنگ مسلط کی اور کہیں اپنے ایجنٹس کے ذریعے خانہ جنگی کروادی ۔ عالم اسلام اس وقت جس اضطراب کی کیفیت سے گزر رہا ہے اس میں عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کو کوشش کرنی ہوگی کہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنا چھوڑ دے ۔

دہشت گرد کسی بھی روپ میں ہو اسلام پسند بالکل نہیں ہوسکتا۔ دنیا پر جو جنگ مسلط ہوچکی ہے یا مستقبل قریب میں ہوگی، اس میں عالم اسلام کی پالیسیوں کا کوئی کردار نہیں ہوگا بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی ہٹ دھرمی اور عالم اسلام کی وولت پر قبضہ کرنے کی خواہش ہوگی۔ جدیدترین جنگوں میں میڈیا کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ مسلم ممالک کو اپنے میڈیا کو اس حوالے سے تیار کرنا ہوگا تا کہ اسلام اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میں ذرائع ابلاغ اپنا کردار ادا کر سکیں ۔ عالم اسلام کو اتحاد عالم اسلامی کی جانب جلد سے جلد بڑھنا ہوگا ۔ تا کہ جو جنگ اسلام کے نام پر حرمین شریفین کے دروازوں پر پہنچ چکی ہے، اسے ختم کرسکیں ۔

محمد عتیق ا لرحمن

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Allah's Apostle (peace be upon him) said: "Convey from me, even if it is one verse." [al-Bukhari]

Subscribe to this Blog via Email :