Header Ads

Visit Dar-us-Salam Publications - Online Islamic Bookstore!
Breaking News
recent

ہرنیکی صدقہ ہے...

حضرت سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے، صحابہ کرام نے عرض کی اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو؟آپ نے ارشادفرمایا : وہ اپنے ہاتھ سے کسب کرے اور اپنی جان کو فائدہ پہنچا دے اورصدقہ کرے ، عرض کی گئی، اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھے یا اگروہ ایسا نہ کرے ،تو حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ارشادفرمایا: مفلوک الحال ضرورت مند کی مدد کردے، انہوںنے استفسارکیا :اگر وہ ایسا بھی نہ کرے تو ، آپ نے ارشادفرمایا : پس وہ نیکی کاحکم دے ، پھر استفسار کیاگیا، اگروہ ایسا بھی نہ کرپائے تو؟حضور ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: وہ شرسے رک جائے اس کا شر سے رک جانا ہی اس کے لیے صدقہ ہے۔ بخاری ، مسلم ، نسائی ، مصنف ابن ابی شیبہ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں : ہر نیکی صدقہ ہے، اوریہ بات نیکی ہے کہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی اورکشادہ چہرے سے ملے اوریہ بھی نیکی ہے کہ تو اپنے ڈول میں سے اپنے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ہی انڈیل دے۔ بخاری ، مسلم، ترمذی ، ابودائود ، صحیح ابن حبان

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشادفرمایا :اے ابوذر! نیکی میں سے کسی چیزکو بھی حقیر نہ سمجھنا ، اگر چہ تو اپنے بھائی کو کشادہ چہرے اور خندہ پیشانی سے ملے۔مسلم، ترمذی، مشکوٰۃ ، احمد ، الجامع الصغیر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: انسانوں کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے ، ہر وہ دن جس میں آفتاب (افق مشرق سے )طلوع ہوتا ہے ، تم دو افراد کے درمیان عدل کرو تو تمہارا یہ عدل کرنا صدقہ ہے تم ایک مسافر انسان کو اس کی سواری میں مدد دو اور اسے اس پر سوار کردو یا اسے سامان اٹھا کردے دو، تمہارا یہ عمل صدقہ ہے کلمہ طیبہ (کاذکر )صدقہ ہے اورہر وہ قدم جس سے تم نماز کی طرف چلتے ہو، تمہارا ہر قدم اٹھانا ، صدقہ ہے ، اوراگر تم اذیت دینے والی کسی چیز کو راستے سے ہٹا دوتو یہ بھی صدقہ ہے۔ بخاری، مسلم، شعب الایمان:بیہقی 

اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اسکی تخلیق احسن تقویم پر فرمائی ، اسکے اعضاء و جوارح کو حسن تناسب عطاء فرمایا ہے وہ وجود عطاء فرمایا جس کے تمام اعضاء میں مکمل ہم آہنگی رکھی گئی ، اسے ذہانت ،بصارت، سماعت ، اوراحساس ذائقے سے آشنا کیا، انسان پر لازم ہے کہ اپنے ہر ہر عضو کا شکر اداکرے اورخودکو ہمہ وقت نیکی کا عادی بنائے ۔

No comments:

Powered by Blogger.