Header Ads

Visit Dar-us-Salam Publications - Online Islamic Bookstore!
Breaking News
recent

صبر کا زادِ سفر....

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میںاپنی نوجوانی کے عالم میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوا ،توآپ نے مجھے نصیحت فرماتے ہوئے ارشادکیا

اے نوجوان ! تواللہ (پر اپنے ایمان )کی حفاظت کر، وہ تیری محافظت کرے گا، اگر تواللہ (پراپنے ایمان )کی حفاظت کرے گا تو اسے (اپنی حفاظت کے لیے ) سامنے پائے گا۔

خوشحالی میں اللہ کو پہچان وہ تجھے تنگ دستی میں پہچانے گا، اس بات کا یقین رکھ کہ جو تجھے مل نہیں سکا وہ تجھے مل ہی نہیں سکتا تھا اورجو کچھ تجھے مل گیا ،وہ تجھے مل کر ہی رہنا تھا ، اوریادرکھ اگر ساری کائنات جمع ہوکر بھی تجھے کوئی ایسی چیز دینا چاہے جو تیرے پروردگار نے تجھے دینے کا ارادہ نہیں فرمایا تووہ ہر گز نہ دے سکے گی اوراگر(تمام کائنات بھی)تجھ سے کوئی ایسی چیز روکنا چاہے جسے خدا نے تجھے دینے کاارادہ کررکھا تووہ اسے باز نہ رکھ سکے گی، یادرکھ جو کچھ بھی قیامت تک ہونے والا ہے قلم اسے لکھ کر خشک ہوچکا ہے ، جب بھی سوال کرتو اللہ ہی سے سوال کر، اور جب بھی پناہ کی ضرورت محسوس ہو تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس پناہ لے ، یادرکھ ، فتح ونصرت ، صبر کے ساتھ اورکشادگی مصیبت کے ساتھ وابستہ ہے اورتنگی کے ساتھ آسانی لکھ دی گئی ہے۔ بیہقی 

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ چند انصاری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جناب رحمۃ اللعالمین علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سوال کیا تو آپ نے ہر ایک کو عطاء فرمادیا، جب آپ کے پاس موجود تمام سامان ختم ہوگیا تو آپ نے ان حضرات سے ارشادفرمایا : میرے پاس جو کچھ بھی آتا ہے میں اسے تم سے بچاکر نہیں رکھتا (یادرکھو)تم میں سے جو پارسانی کو پسند کرے گا، اللہ تبارک وتعالیٰ اسے پارسا کردے گا جو بے نیازی اختیار کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کردے گا اورجو صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطاء کردے گا اور(یادرکھو)تمہیں صبر سے بڑھ کر وسیع اورافضل کوئی خزانہ ملا ہی نہیں۔ بخاری ،مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : مومن مرد اورمومن عورت پر جان ،مال اوراولاد (کے زیاں)کی مصیبتیں نازل ہوتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ (بروز قیامت)اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا تو اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ (درج)نہیں ہوگا۔ ترمذی

 
رضا الدین صدیقی

No comments:

Powered by Blogger.