Friday, November 28, 2014

KHAWAJA UMER FAROOQ

تو ھماری دعائیں کیسے قبول ھوں گی ?


یس لاکھ آدمی بیت اللہ کا پردہ پکڑ کر روتے ھیں 29ویں رمضان کو۔ امام کعبہ ایک گھنٹہ دعا کرا کر رو رو کر ہلکان ھو جاتا ھے۔ پیچھے تیس لاکھ آدمی رو رو کر آمین کہتے ھیں۔ پھر بھی آسمان کے دروازے نہیں کھلتے۔ اللہ کو تو کوئی ایک پکارے تو عرش میں ھلچل شروع ھو جاتی ھے، آسمان کے دروازے کھڑکھڑانے لگتے ھیں۔۔۔۔
ساری رات ناچ اور فوٹو دیکھتی نسل 
تجارت سود پہ ھو 
اولادیں ماں باپ کی نافرمان ہوں 
راتوں کو شراب و زنا ہو 
بازراوں میں تجارت کی نام پر جوا، سود و سٹہ ھوں 
ہر ایک چیز میں ملاوٹ ہو  
ظلم و بربریت کا بازار گرم ھو 
دھوکہ دھی عام ھو 
جھوٹ کا بول بالا ھو 
مظلوم کی آہیں آسمان تک پہنچتی ھوں اور اسکی داد رسی کرنے والا کوئی نہ ھو 
لڑکیاں بے حجاب ھوں 
لڑکی کو پیار کے نام پر پھنسانا اعزاز ھو 
اپنی عزت اعلی اور دوسرے کی عزت کو ادنی جس معاشرے کا روز کا معمول ھو 
قتل و غارت عام ھوں 
حکومت کے نام پر فرعونیت ھو اور افسر شاہی کے نام پر خیانت اور بددیانیتی ھو  
تو ھماری دعائیں کیسے قبول ھوں گی۔۔۔

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Allah's Apostle (peace be upon him) said: "Convey from me, even if it is one verse." [al-Bukhari]

Subscribe to this Blog via Email :