Wednesday, October 23, 2013

KHAWAJA UMER FAROOQ

آزمائش پر استقامت





بسم الله الرحمن الرحيم

أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ (214)ٍ
'' کیا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں جنت داخل ہو جاؤ گئے جبکہ تمہیں ابھی ان لوگوں جیسے احوال پیش نہیں آئے جوتم سے پہلے گزرے ہیں ـ انہیں تنگدستی اور مصائب و الم پہنچے (جس سے ) وہ ڈول گئے ، حتی کہ رسول اور اس کے ساتھ اہل ایمان نے کہا : اللہ کی مدد کب آئے گی ؟

۔ دعوت حق دینا اور اسے قبول کرنے میں بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آزمائش جہاں اہلِ ایمان و اہل نفاق کے درمیان ایک امیتاز کی حیثیت رکھتی ہے ِ وہاں اسے جنت کے لیے معیار بھی قرار دیا گیا ـ جیساکہ مذکورہ آیت سے واضح ، نیز
ارشاد باری تعالٰی ہے
الم (1) أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
'' کیا لوگوں نے یہ سمجھا رکھا ہے کہ محض یہ کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں کہ ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا ـ سورة العنكبوت :: 1،2

-راہِ حق میں پریشانیوں اور مصیبتوں سے گھبرا کر انحراف کے بجائے صبر کرتے ہوئے استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہے اور اسی میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے ـ( ان شاء اللہ ـ )

- سابقہ امتوں پر بھی آزائش کے پہاڑ گرے اور قیامت تک کے لیے اہلِ ایمان آزمائش سے دوچار ہوتے رہیں گئے ـ

- دوران آزمائش میں اللہ تعالٰی سے ثابت قدمی کی دعائیں کرنی چاہیں اور نصرف و فتح کے امیدوار بن کر دربارِ الہیٰ میں گڑگڑانا چاہیے ـ

- اللہ تعالٰی کی مدد ہمیشہ اہل ِ ایمان کو شاملِ حال رہتی ہے اگرچہ اس کے آُثار کچھ دیر بعد نمایاں ہوں

 ـ
 
Enhanced by Zemanta

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Allah's Apostle (peace be upon him) said: "Convey from me, even if it is one verse." [al-Bukhari]

Subscribe to this Blog via Email :