Saturday, August 24, 2013

KHAWAJA UMER FAROOQ

Rights of Holy Quran by Shahnawaz Farooqi


قرآنِ مجید فرقانِ حمید صرف 30 سپاروں، 114 سورتوں، 6666 آیتوں اور 7 منازل پر مشتمل کتاب نہیں بلکہ رحمتوں، برکتوں اور معنی کا کبھی ختم نہ ہونے والا خزانہ اور ایک زندہ معجزہ ہے۔ دنیا میں بہت سی آسمانی کتابیں آئیں مگر اللہ تعالیٰ نے جو اعزاز قرآن مجید کو عطا فرمایا کسی اور کتاب کو عنایت نہیں کیا۔ مثال کے طور پر قرآن مجید کے سوا دنیا میں جتنی آسمانی کتابیں نازل کی گئیں ان میں انسانوں نے کہیں تبدیلی کردی، کہیں اضافہ کردیا۔ لیکن قرآن مجید کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ میں اس کی حفاظت کروں گا۔ چنانچہ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود قرآن مجید تحریف سے محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کی ایک صورت یہ پیدا کی کہ کروڑوں انسانوں کو اپنی کتاب کا حافظ بنا دیا۔
حفظ مسلم معاشروں کے لیے ایک ’’معمول کی بات‘‘ ہے، لیکن حفظ کا تجربہ بجائے خود ایک معجزہ ہے، اور ہم محض اس کے معمول بن جانے کی وجہ سے اس کے معجزاتی پہلو پر غور نہیں کرتے۔ دنیا کی ہزاروں سال کی تاریخ میں کوئی کتاب ایسی نہیں ہوئی جو ہزاروں لاکھوں لوگوں کو حرف بہ حرف حفظ ہو۔ دنیا میں کسی کو چند ہزار اشعار بھی یاد ہوتے ہیں تو اسے غیر معمولی حافظے کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن مجید 6666 آیتوں پر مشتمل کتاب ہے اور اِس وقت صرف پاکستان میں قرآن مجید کے حافظوں کی تعداد 7 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ پورے عالم اسلام پر نظر ڈالی جائے تو مسلم دنیا میں اس وقت بیس پچیس لاکھ حافظ ضرور موجود ہوں گے۔ اس صورتِ حال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے زمانے کو مسلمانوں کا عہدِ زوال کہا جاتا ہے اور یہ شکایت عام ہے کہ امتِ مسلمہ قرآن سے لاتعلق ہوگئی ہے۔ اس صورت ِحال کا دوسرا غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ حفظ کی روایت عربوں سے کہیں زیادہ ’’عجمیوں‘‘ میں پھل پھول رہی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے صحرا میں گلاب کے پودے لگائے جائیں اور وہاں وہ پودے نہ صرف یہ کہ جڑ پکڑلیں بلکہ ان پر زیادہ گلاب بھی کھل اٹھیں۔ عجمیوں کی سرزمینیں قرآن کی زبان کے اعتبار سے ’’لسانی صحرا‘‘ ہیں، مگر لسانی صحرائوں میں ہر طرف حفظ کے پھول اپنی رعنائیاں اور خوشبو بکھر رہے ہیں۔ یہ قرآن مجید کے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہے۔
عربوں کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز تھا… اور کیوں نہ ہوتا، ان کی زبان تھی ہی ایسی۔ جس زبان میں قرآن نازل ہونا تھا اس کو عظیم الشان ہونا ہی تھا، مگر یہ بات اپنی زبان پر نازاں عربوں کو معلوم نہ تھی۔ انہیں تو بس یہ معلوم تھا کہ ان کی زبان وسیع اور عمیق ہے اور اس کے دائرے میں ایک جانب اعلیٰ درجے کی شاعری موجود ہے اور دوسری جانب فنِ خطابت کا کمال۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو زبان وبیان کا معجزہ بناکر نازل کیا، اور قرآن مجید نے اپنی سب سے چھوٹی آیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اس جیسی ایک آیت بنا کر لاسکے تو لائے۔ اس دعوے کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ زبان اور بیان کی سطح پر قرآن مجید کی سب سے چھوٹی آیت کی نظیر پیش کرنا بھی ممکن نہیں۔ اس دعوے کا دوسرا مفہوم یہ تھا کہ قرآن مجید کی سب سے چھوٹی آیت بھی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ قرآن انسان کا نہیں اللہ کا کلام ہے۔ ایسا نہیں کہ لوگ قرآن کی سب سے چھوٹی آیت کے جیسی آیتیں بناکر نہیں لائے۔ لیکن جس طرح وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے درمیان موجود فرق کو نہ سمجھ سکے اسی طرح انہیں اللہ کے کلام اور اپنے کلام کا فرق معلوم نہ ہوسکا۔ قرآن مجید کی روح پر نظر کی جائے تو قرآن مجید کے مسلمانوں پر پانچ حق ہیں۔
مسلمانوں پر قرآن مجید کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کی تلاوت کی جائے۔ بعض لوگ محض قرآن پاک کی تلاوت کو معمولی بات سمجھتے ہیں، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید کا ایک حرف پڑھنے سے دس نیکیوں کے برابر ثواب ملتا ہے۔ لیکن قرآن مجید کی سماعت کے فیضان کا معاملہ یہاں تک محدود نہیں۔ یہ بات کم لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کی اصوات اس کی معنویت کا حصہ ہیں، چنانچہ جو شخص محض قرآن مجید کی اصوات کی سماعت سے فیض یاب ہوتا ہے وہ بھی زبردست فوائد سمیٹتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں شفاء ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید کی تواتر کے ساتھ تلاوت کرنے یا سننے والے کو بہت سے روحانی، نفسیاتی، ذہنی اور جذباتی امراض سے نجات مل جاتی ہے۔ سورۂ یٰسین قرآن مجید کا دل ہے اور اس کی تلاوت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ مرنے والے پر موت کی سختی آسان ہوجاتی ہے۔ چنانچہ جیسے ہی مسلمانوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص عالمِ نزع میں ہے وہ اس کے پاس بیٹھ کر سورۂ یٰسین کی تلاوت کرنے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نزع کی حالت میں گرفتار شخص سورۂ یٰسین کی معنویت پر غور کے قابل نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محض سورۂ یٰسین کی تلاوت مرنے والے کی حالت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کے اثر کی سب سے بڑی مثال حضرت عمر فاروقؓ ہیں۔ آپؓ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے سے نکلے تھے مگر اپنی بہن کے گھر میں قرآن مجید کی چند آیتوں کی تلاوت سن کر آپؓ کی قلبِ ماہیت ہوگئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ قرآن کی تلاوت سے ہی حضرت عمرؓ کو معلوم ہوگیا کہ یہ انسان کا نہیں اس بزرگ و برتر ہستی کا کلام ہے جو انسان کی خالق ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کے اثر کا معاملہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اتنا اہم ہوا کہ کافر اور مشرک قرآن پاک کی تلاوت سنتے تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے کہ کہیں قرآن کے الفاظ ہمارے دل پر اثر نہ کر جائیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کا معنی کی تفہیم سے بھی گہرا تعلق ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں آیا ہے کہ جب کسی مسئلے کا حل انہیں نہیں ملتا تھا تو وہ دو تین قرآن ختم کر ڈالتے تھے اور مسئلے کا حل انہیں سوجھ جاتا تھا۔
قرآن مجید کا مسلمانوں پر دوسرا حق یہ ہے کہ اسے سمجھا جائے، اور اس سلسلے میں قرآن مجید کے ترجمے سے استفادہ ناگزیر ہے۔ لیکن ترجمہ لفظ اور جملے کی سطح پر قرآن مجید کی ترجمانی ہے، اور محض ترجمے سے قرآن کی معنویت تک بھرپور رسائی ممکن نہیں۔ چنانچہ قرآن مجید کی کسی مستند تفسیر کا مطالعہ ضروری ہے۔ لیکن جب قرآن مجید کی تشریح و تعبیر کی بات ہوتی ہے تو بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے لیے عربی جان لینا اور قرآن کے محاورے سے واقف ہونا کافی ہے۔ لیکن قرآن مجید کی تفہیم کا اصول خود قرآن مجید نے بیان کردیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ مجھے وہی ہاتھ لگا سکتے ہیں جو پاک ہیں۔ یہ قرآن کے ظاہر سے متعلق ہونے کا تقاضا ہے۔ قرآن کے باطن یعنی اس کے معنی تک رسائی کا تقاضا بھی یہی ہے، یعنی یہ کہ انسان کا باطن پاک ہو۔ جس طرح ایک ناپاک شخص قرآن کے ظاہر سے استفادہ نہیں کرسکتا اسی طرح جس شخص کا باطن پاک نہیں قرآن اسے اپنے معنی تک رسائی نہیں دیتا۔ اسی لیے حضرت امام جعفر صادقؒ نے فرمایا ہے کہ جس نے الہام کے بغیر قرآن پر کلام کیا وہ راندۂ درگاہ ہوا۔ اور ظاہر ہے کہ الہام کے لیے باطن کا پاک ہونا ضروری ہے۔ قرآن مجید نے ایک اور جگہ اپنے بارے میں کہا ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، اور اس میں متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے یقینِ کامل اور تقویٰ درکار ہے۔ شک کی معمولی سی کیفیت بھی قرآن کی تفہیم کو ناممکن بنا سکتی ہے، اور تقوے سے محرومی کے نتیجے میں قرآن اپنے قاری کو گمراہ بھی کرسکتا ہے۔
قرآن مجید کا مسلمانوں پر تیسرا حق یہ ہے کہ قرآن پر عمل کریں۔ یعنی قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، اگرچہ صرف تلاوت کے بڑے فوائد ہیں۔ قرآن صرف تفہیم کے لیے نہیں اگرچہ تفہیم ایک متاع بیش بہا ہے۔ لیکن قرآن پر عمل کیوں ضروری ہے؟ اس سوال کے دو جوابات ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن حق ہے اور حق پر عمل ہونا ہی چاہیے۔ اس سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن زندگی کو بدلنے کے لیے آیا ہے، اور اگر قرآن زندگی کو نہیں بدل رہا تو مسلمان قرآن کا حق ادا نہیں کررہے۔
مسلمانوں پر قرآن کا چوتھا حق یہ ہے کہ وہ قرآن کی تبلیغ کریں۔ لیکن قرآن کی تبلیغ کا حق اسی کو ہے جو قرآن پڑھے، سمجھے اور اس پر عمل کرے۔ اس لیے کہ قرآن خود کہتا ہے کہ تم جو کہتے ہو وہ کرتے کیوں نہیں؟ قرآن مجید کی تبلیغ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری دنیا کی آبادی کی اکثریت کفر اور شرک پر کھڑی ہوئی ہے۔ چونکہ مسلمانوں کے پاس حق ہے اس لیے باطل کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی دنیا کو حق کی روشنی سے منور کرنا ان کا فرض ہے، اور اگر وہ یہ فرض ادا نہیں کریں گے تو قرآن کے ایک حق کو ادا نہ کرنے کے مجرم قرار پائیں گے اور انہیں اس کے لیے اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔
قرآن کا مسلمانوں پر پانچواں حق یہ ہے کہ وہ قرآن کے عقائد کو پوری دنیا کے عقائد بنا دیں۔ قرآن کی عبادات کو پوری دنیا کی عبادات میں ڈھال دیں۔ قرآن کی اخلاقیات کو پوری دنیا کی اخلاقیات میں تبدیل کردیں۔ پوری دنیا کی سیاست میں قرآن کی سیاست کی شان پیدا کردیں۔ قرآن کی معاشیات کو پوری دنیا کی معاشیات بنا کر کھڑا کردیں۔ اس کے بغیر اللہ کی کبریائی کے اعلان اور نفاذ کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ دین کو زندگی کے ہر شعبے میں غالب کرنے کی نیت اور جدوجہد کے بغیر عبادتوں میں بھی ایک نقص درآتا ہے۔ اس لیے کہ انسان عبادتوں میں اللہ کی کبریائی کا اعلان اور نفاذ کرتا دکھائی دیتا ہے اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں وہ باطل کے غلبے سے صرفِ Rights of Holy Quran by Shahnawaz Farooqiنظر کررہا ہوتا ہے۔
Enhanced by Zemanta

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Allah's Apostle (peace be upon him) said: "Convey from me, even if it is one verse." [al-Bukhari]

Subscribe to this Blog via Email :