Header Ads

Visit Dar-us-Salam Publications - Online Islamic Bookstore!
Breaking News
recent

بچوں کو رمضان کی تیاری کیسے کروائیں؟

رمضان المبارک میں والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اس اہم مہینے کو بچے بھی بہترین انداز میں گزاریں۔ اس کی اہمیت کو سمجھیں، لیکن ان کی دلچسپی کو کس طرح بڑھایا جائے، یہ اکثر والدین نہیں سمجھ پاتے۔ ان کی آسانی کے لیے چند قیمتی مشورے یہاں پیش کرتے ہیں:

1۔ بچوں کو رمضان کی اہمیت اور تاریخ سے آگاہ کرنا:
 رمضان المبارک کی ملک بھر میں بڑی خاص تیاریاں ہوتی ہیں، جسے یقینا بچے بھی محسوس کرتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں بہت سے سوال جنم لیتے ہیں۔ بس یہی وقت ہے کہ بچوں کے لیے وقت نکالیں اور رمضان کی مکمل تاریخ اور اہمیت کا دلچسپ پیرائے میں بچوں کے سامنے پیش کریں۔ جتنے مؤثر انداز میں والدین بچوں کو اہمیت سمجھا سکیں گے، بچے اتنی ہی دلچسپی لیں گے۔

2۔ رمضان کلینڈر خود بنوائیں:
 تجربہ بتاتا ہے کہ جس چیز کو بچے خود بنائیں، اس سے انہیں غیر معمولی لگاؤ ہوتا ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے انٹرنیٹ یا کسی پرنٹنگ پوسٹر سے اوقات سحر و افطار کاٹ کر دیں تا کہ وہ خود اپنے ڈیزائن کے ساتھ اسے ترتیب سے کلینڈر کی شکل دیں، اس طرح بھی پورا مہینہ بچوں کی دلچسپی برقرار رہے گی۔

3۔ مختلف ممالک میں رمضان کی روایات سے آگاہی:
 بچوں کے لیے یہ خاصی غیر معمولی بات ہوتی ہے، اگر انہیں بتایا جائے کہ رمضان صرف ہم ہی نہیں منا رہے بلکہ دنیا کے کونے کونے میں منایا جا رہا ہے۔ مختلف روایات اور رسوم و رواج کے مطابق ہر جگہ رمضان الگ انداز میں منایا جاتا ہے۔ کسی مستند ویب سائٹ سے اس بارے میں معلومات حاصل کریں اور پھر بچوں کو آگاہ کریں۔ رمضان کے اس آفاقی تصور سے بھی بچوں میں اس کی اہمیت اور دلچسپی بڑھے گی۔

4۔ رمضان کے متعلق مضمون لکھوائیں:
 اگر آپ کے بچے لکھ سکتے ہیں، تو ان سے رمضان کے متعلق مضمون لکھوائیں۔ اگر وہ لکھ نہیں سکتے تو ان کی زبانی رمضان کہانی ضرور سنیں اور پھر اسے خود تحریر کی شکل دیں۔ یہ تحریر تا عمر بچوں کے ذہنوں پر نقش رہیں گی۔

5۔ افطار پارٹیوں کا انعقاد:
 والدین اپنے بچوں کے ہم عمر دوستوں کے لیے ’’استقبال رمضان‘‘ کا پروگرام بھی کر سکتے ہیں تا کہ اس اہم مہینے کی آمد کے بارے میں بچوں کو سمجھ آئے یا پھر دوران رمضان افطار پارٹیوں کا اہتمام کریں۔ اس تیاری میں بچوں کو شامل بھی کریں۔ اس سے نہ صرف بچوں میں روزہ رکھنے کی عادت پروان چڑھے گی بلکہ دوستی کی مشترکہ سرگرمی سے دلچسپی بھی بڑھے گی۔

6۔ سحر و افطار کی تیاری میں شمولیت:
 عموماً بچوں کو گھر کے کاموں، خاص طور پر باورچی خانے سے دور رکھا جاتا ہے اور یہی عادت بعد میں ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ بچوں کو گھر کے اہم کاموں میں شامل رکھا جائے، خاص کر رمضان میں سحر و افطار اوقات میں بچوں کی عمر کے لحاظ سے ان میں کاموں کی تقسیم کریں، تو اس سے ان کی دلچسپی بہت بڑھے گی۔

7۔ قرآن سے لگاؤ:
 رمضان میں قریباً ہر گھر میں تلاوت قرآن مجید کا انتظام ہوتا ہے، مگر اس میں بچوں کی دلچسپی نہیں ہوتی، مگر جب انہیں قرآن کے پیغام کو کہانیوں کی شکل میں بتایا جائے گا، تو دلچسپی غیر معمولی طور پر بڑھے گی۔ اس لیے بچوں کو قرآن میں موجود واقعات دلچسپ پیرائے میں سنائیں یا قرآن کی اہمیت کو کہانیوں کے انداز میں ثابت کریں، جس کے لیے بہت سی کہانیوں کی کتابیں موجود ہیں۔

8۔ خوشیوں میں غریبوں اور مسکینوں کو شامل کریں:
 رمضان دوسرے کا احساس کرنے کا مہینہ ہے۔ مہینے کے آغاز ہی میں بچوں کے اندر دوسروں کی مدد کا جذبہ ابھاریں۔ افطاری کے لیے سامان غریبوں اور مسکینوں کے لیے بھی مختص رکھیں اور انہیں بچوں کے ہاتھوں سے تقسیم کروائیں، پھر اپنے کھلونے یا دیگر چیزیں بھی غریب بچوں میں تقسیم کرنے کی ترغیب دیں۔ یہ عادت اس عمر میں پختہ ہو گئی تو تا عمر ساتھ رہے گی۔

9۔ مسجد کو مرکز بنائیں:
 بچوں میں چھوٹی عمر سے ہی مسجد سے لگاؤ پیدا کرنا چاہیے چونکہ رمضان میں مساجد میں عوام کی حاضری غیر معمولی ہوتی ہے، اس لیے بچوں کو نماز پڑھنے ساتھ لے کر جانا چاہیے۔ اس سے نماز سے لگاؤ کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط سیکھنے اور اجتماعیات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ 

10۔ جدید ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال:
 اگر آپ کے بچوں کے پاس کمپیوٹر، سمارٹ فون آئی پیڈ وغیرہ ہے تو انھیںاسلامی ایپلیکیشنز ڈاؤن لوڈ کر کے دیں۔ اس سے بھی بچوں میں رمضان سے لگاؤ میں اضافہ ہو گا اور مشاغل اور عادات بھی مثبت رہیں گی۔

زرتاشیہ میر


No comments:

Powered by Blogger.