Monday, September 1, 2014

KHAWAJA UMER FAROOQ

فساد کا حصہ نہ بنیے ........



جب زمین میں فساد پڑ جائے تو شریعت مسلمان کو اس بات سے سختی سے روکتی ہے کہ وہ اس فساد کا کسی بھی طریقے سے حصہ بنے۔ میرے بہن بھائیو آپ سب سے یہ گزارش ہے کہ اپنی زبانوں کو ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نہ بنائیں کیونکہ اللہ تعالی فساد مچانے والوں پر غضبناک ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہم سب کو اپنے پلّے باندھ لینا چاہیے ان حالات میں:

إذ التقى المسلمان بسيفيهما فالقاتل والمقتول في النار" قلت يارسول الله، هذا القاتل فما بال المقتول؟ قال: "إنه كان حريص...اً على قتل صاحبه" ((متفق عليه))

جب كبھی دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے درپے ہوتے ہیں تو مارنے والا اور مرنے والا دونوں جھنمی ہیں۔ سوال ہوا کہ قاتل کا معاملہ تو واضح ہے لیکن مرنے والا کیوں جہنمی ہوتا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس لیے کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ (بخاری اور مسلم)
یہ تو قدرت کا فیصلہ تھا کہ وہ مر گیا ورنہ اسنے کوئ قصر نہیں چھوڑی فساد میں حصہ دار بننے میں!
اللہ ہم سب کو معاف فرمائے۔ آمین

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Allah's Apostle (peace be upon him) said: "Convey from me, even if it is one verse." [al-Bukhari]

Subscribe to this Blog via Email :