Header Ads

Breaking News
recent

اِس وقت مذہبی اعتبار سے دنیا کی حالت کیسی ہے؟....


دنیا کی آبادی 7 ارب انسانوں پر مشتمل ہے، لیکن ان سات ارب انسانوں میں دو سے ڈھائی ارب انسان ایسے ہیں جو کفر میں پیدا ہوتے ہیں، کفر میں زندہ رہتے ہیں اور کفر کی حالت میں مر جاتے ہیں۔
یعنی ان انسانوں کو 21 ویں صدی میں بھی یہ معلوم نہیں کہ ان کا کوئی خالق ہے، کوئی مالک ہے، کوئی رازق ہے اور کوئی معبود ہے۔ حالانکہ ہم 20 ویں اور 21 ویں صدی کو علم کی صدی کہتے ہیں، شعور کی صدی کہتے ہیں، ستاروں پر کمند ڈالنے کی صدی کہتے ہیں۔
سات ارب انسانوں کی دنیا میں دو سے ڈھائی ارب انسان ایسے ہیں جو شرک میں پیدا ہوتے ہیں، شرک میں زندہ رہتے ہیں اور شرک کی حالت میں مر جاتے ہیں،

صرف ڈیڑھ ارب انسانوں کی امتِ مسلمہ ایسی ہے جو بحیثیتِ مجموعی ایمان پر پیدا ہوتی ہے، ایمان پر زندہ رہتی ہے اور ایمان پر مرتی ہے۔
صرف امتِ مسلمہ وہ ہے جو آج بھی اپنے خالق‘ اپنے مالک‘ اپنے رازق اور اپنے معبود کو پہچانتی ہے اور اس کے نازل کردہ پیغام کی بالادستی پر کامل یقین رکھتی ہے۔
لیکن امتِ مسلمہ کی حالت بھی اچھی نہیں۔ ایک ارب 60 کروڑ مسلمانوں کی امت میں دس فیصد سے بھی کم لوگ قرآن کی تعلیمات پر مطلع ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت تو ہر مسلمان کو ہے مگر سیرتِ طیبہؐ کا شعور پانچ سات فیصد مسلمانوں ہی کو ہوگا۔
نماز دین کا ستون ہے مگر مسلمانوں کی عظیم اکثریت نماز نہیں پڑھتی، اور جو .نماز پڑھتے ہیں اُن کی اکثریت کے کردار کو نماز تبدیل نہیں کررہی

(شاہنواز فاروقی)

No comments:

Powered by Blogger.