Header Ads

Breaking News
recent

والدین کے فوت ہونے کے بعد اولاد کا فریضہ


والدین کے فوت ہونے کے بعد اولاد کا فریضہ
ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو سلمہ سے ایک شخص آیا۔ اس نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میرے والدین کے فوت ہونے کے بعد کوئی ایسا نیک کام ہے جو میں اپنے والدین کے لیے کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، والدین کے لئے دعا کرنا، ان کے لیے بخشش کی دعا مانگنا ، ان کے بعد ان کے وعدوں کو پورا کرنا، ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا۔
(ابو داؤد، ابن ماجہ)
 

ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے مرحوم والدین کے لیے کوئی ایسی نیکی کرے جو ان کے لیے راحت کا سبب بن جائے ۔ اس سلسلے میں وہ ہر اس کام کو کر گزرتا ہے جو اسے بتایا جائے لیکن جب تک کوئی کام سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نہ ہو اس پر ثواب مرتب نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ کے سوال کے جواب میں فرمایا اگر تم اپنے والدین کے مرنے کے بعد ان کے لئے... کچھ کرنا چاہتے ہو تو ان کے لئے رحمت کی دعا کرو۔ بہترین دعا وہ ہے جو قرآن پاک بیان کرتا ہے کہ " رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا"اس کے علاوہ ان کے لئے بخشش کی دعا کرو ہر وقت اپنے والدین کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے اللہ! میرے والدین کی بشری لغزشوں کو معاف کر دے۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے پر قادر ہے اور جو وعدے انہوں نے اپنی زندگی میں کسی سے کئے تھے انہیں پورا کیا جائے۔ وعدہ بھی بندوں کا قرض ہے اگر وعدہ پورا نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ بھی معاف نہیں کرتا لہذا اگر اولاد کو پتہ چل جائے کہ ہمارے والدین میں سے کسی ایک نے یا دونوں نے کسی سے کوئی وعدہ کیا ہے تو اسے پورا کیا جائے۔ اس سے والدین کو راحت ہو گی اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ اپنے والدین کے رستہ داروں کے ساتھ ناراضگی کا اظہار نہ کرے اور اس تعلق کو قائم رکھے جسے والدین نے قائم رکھا تھا اس تعلق کی بنا پر والدین کو قبروں میں راحت ہو ی اور اپنے والد کے دوستوں اور ماں کی سہیلیوں کی عزت کرے یہ وہ کام ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسان اپنے والدین کے لئے مرنے کے بعد بھی بھلائی کا سبب بنتا ہے

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.