Header Ads

Breaking News
recent

پہلی مرتبہ حج کی سعادت حاصل کرنے والے یہ ضرور پڑھیں

اگر آپ پہلی مربہ حج پر جا رہے ہیں تو آپ کے لیے ان ہدایات کو پڑھنا ناگزیر ہے
جو حج منتظمین کی جانب سے جاری کی گئی ہیں اور "العربیہ ڈاٹ نیٹ" یہاں پیش کر رہی ہے۔ حج منتظمین کا کہنا ہے کہ حج آپریٹرز کی جانب سے اکثر ضروریات اور خدمات فراہم کیے جانے کے باوجود یہ ضروری ہے کہ ایک حاجی کا بیگ مثالی نوعیت کا ہو جس میں وہ تمام لوازمات موجود ہوں جن سے بے نیاز نہیں رہا جا سکتا۔

مشاعر مقدسہ کی آب و ہوا
اس سلسلے ایک حج منتظم سعد الشریف نے حاجی کے بیگ کے ضروری لوازمات کو چار اقسام میں تقسیم کیا ہے جو کہ کپڑے ، صفائی کا سامان، ذاتی لوازمات اور دوائیں ہیں۔ جہاں تک کپڑوں کا تعلق ہے تو وہ مشاعر مقدسہ کے موسم کے لحاظ سے ہونا چاہئیں۔ کپڑے ہلکے رنگ کے ہوں، اندر پہننے کے کپڑے عام دنوں سے زیادہ تعداد میں رکھیں جائیں اس لیے کہ حاجی کو زیادہ مشقت کی وجہ سے پسینہ بہت آتا ہے جس کی وجہ سے اسے ان کپڑوں کو مسلسل تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ میلے کپڑوں کو رکھنے کے لیے تھیلیوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

صفائی کے سامان کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب اشیاء بنا خوشبو کے ہونی چاہیئں۔ اس لیے کہ احرام کی حالت میں خوشبو کا استعمال منع ہوتا ہے۔ صفائی کی اشیاء کی ضرورت عام طور پر نہانے سے پہلے اور بعد میں دونوں وقت پیش آتی ہے۔ ان میں صابن ، دانتوں کا پیسٹ ، دانتوں کا برش، شیمپو اور تولیوں کے علاوہ جسم کی دیکھ بھال کے لوازمات مثلا کنگھا ، بالوں کی کریم اور باڈی اسپرے وغیرہ شامل ہیں۔ خیال رہے کہ باڈی اسپرے کو حالت احرام میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ خواتین کے احرام کی حالت سے باہر آنے کے لیے بال کاٹنے کی قینچی اور مردوں کے لیے بال مونڈنے کی مشین شامل ہیں۔

رنگین ٹیپ اور دستی بیگ
اسی حوالے سے ایک اور حج منتظم خالد الحلبی کا کہنا ہے کہ وزارت حج کی جانب سے بعض ہدایات کا پہلی مرتبہ حج کرنے والوں کو بہت زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ان میں رنگین ٹیپ کے ذریعے بیگ پر اپنا نام اور نمبر لکھنا تا کہ کھو جانے کی صورت میں اس کو آسانی سے پہچانا جا سکے۔ اس کے علاوہ گردن میں لٹکانے والے ایک دستی بیگ کا استعمال جس میں شناخت کے کاغذات ، مالی رقوم موبائل فون اور ذاتی نوعیت کی دیگر اشیاء کو رکھا جائے۔ الحلبی کا کہنا ہے کہ نظر کے چشمے استعمال کرنے والے افراد کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایک اضافی چشمہ ساتھ لے کر آئیں۔ اس کے علاوہ دھوپ کا چشمہ اور دھوپ سے بچانے والا کیپ بھی ساتھ رکھیں۔ جو لوگ روشنی میں نہیں سو پاتے ان کو آنکھوں کو ڈھناپنے والی پٹی رکھنا چاہیے۔ ان کے علاوہ چلنے پھرنے کے لیے آرام دہ جوتا ، چارجر اور پاور بینک، قرآن کریم ، حج کے مناسک سے متعلق کتابیں ، جائے نماز بھی اہم ضروریات ہیں۔

مالی رقوم کے حوالے سے نقد صورت کو ترجیح دینا چاہیے اور بینکوں کے ڈیبٹ یا ویزا کارڈ وغیرہ پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ حاجی کو عید الاضحی کے لیے خصوصی جوڑا رکھنا چاہیے۔ جہاں تک طبی لوازمات کا تعلق ہے تو اس بارے میں ڈاکٹر حسین امیر منسعاوی کا کہنا ہے کہ وزارت صحت نے اپنے تمام مراکز پر تمام دواؤں کو مفت فراہم کرنے کا انتظام کر رکھا ہے " تاہم بہتر ہے کہ حاجی اپنے ساتھ بعض بنیادی نوعیت کی دوائیں ضرور رکھے۔ ان میں بخار، درد دور کرنے، اسھال، قبض، تیزابیت کی دواؤں کے علاوہ جلد پھٹنے کی کریم، کاٹن بینڈیج، اینٹی سیپٹک لوشن، منہ اور ناک کو ڈھانپنے کا ماسک شامل ہیں۔ اس کےعلاوہ لازمی ویکسین بھی کرالینا چاہیے"۔

ڈاکٹر امیر نے واضح کیا کہ پرانے امراض میں مبتلا افراد کو بنیادی دواؤں کے علاوہ مطلوبہ مقدار میں اپنی خصوصی دوائیں بھی رکھنا بہت ضروری ہے۔ بالخصوص ذیابیطس، بلند فشار خون، امراض قلب اور دمہ کے مریضوں کو تاریخ انتہا کی تصدیق کر کے اپنی دوائیں ساتھ رکھنا چاہیے۔ ان ادویات کو دھوپ سے بچانے کا انتظام کرنا چاہیے اور ساتھ ہی ایسے مریضوں کو خود کو بھیڑ اور اژدھام کے مقامات سے حتی الامکان دور رکھنا چاہیے تاکہ اپنے آپ کو تھکاوٹ 
اور وائرس سے محفوظ رکھا جا سکے۔

جدہ – حسن الجابر

No comments:

Powered by Blogger.