Header Ads

Breaking News
recent

سب سے طویل اور مختصر روزہ کہاں ہوگا ؟.


 رمضان المبارک کا آغاز پاکستان میں منگل یا بدھ سے جبکہ سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں پیر یا منگل سے ہورہا ہے اور یہ تو سب کو ہی معلوم ہے کہ اس بار پاکستان میں روزوں کا دورانیہ لگ بھگ 16 گھنٹے یا اس سے زائد ہی ہوگا تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں سب سے طویل اور مختصر روزہ کس مقام پر رکھا جاتا ہے؟

سب سے طویل روزہ
تو اس کا جواب ہے یورپی ملک آئس لینڈ جہاں کے مسلمان پورے 22 گھنٹے طویل روزہ رکھیں گے۔ وہاں روزے کا آغاز صبح ایک بج کر 45 منٹ پر ہوگا جبکہ افطار کا وقت نصف شب کو ہوگا، آئس لینڈ کے بعد دوسرے پر سوئیڈن ہے جہاں پر روزوں کا دورانیہ 21 گھنٹے 58 منٹ ہوگا، جس کے بعد ناروے 20 گھنٹے 45 منٹ، ڈنمارک 20 گھنٹے 21 منٹ اور ہالینڈ 19 گھنٹے 8 منٹ کے ساتھ سرفہرست ہیں۔

سب سے مختصر روزہ
اسی طرح دنیا میں روزے کا سب سے کم دورانیہ وسطی امریکی ملک چلی میں ہوگا جو کہ 11 گھنٹے 30 منٹ ہوگا، جس کے بعد جنوبی افریقہ ہے جہاں یہ دورانیہ 12 گھنٹے 06 منٹ ہوگا، جبکہ پاپوا نیو گنی میں 12 گھنٹے 10 منٹ، ارجنٹائن میں 12 گھنٹے 21 منٹ اور آسٹریلیا میں 12 گھنٹے 38 منٹ ہوگا۔
16 سے 18 گھنٹے والے ممالک
ایسے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں کراچی میں لگ بھگ ساڑھے سولہ گھنٹے طویل روزہ ہوسکتا ہے جبکہ ہندوستان میں 17 گھنٹے 11 منٹ، مراکش میں 17 گھنٹے 12 منٹ، عراق میں 16 گھنٹے 24 منٹ، الجزائر میں ساڑھے 17 گھنٹے، میکسیکو میں لگ بھگ 17 گھنٹے، اردن میں 17 گھنٹے 31 منٹ، لبنان میں ساڑھے 17 گھنٹے، سعودی عرب میں 16 گھنٹے 13 منٹ، ایران میں 16 گھنٹے 19 منٹ، مصر میں 16 گھنٹے 6 منٹ، فلسطین میں 17 گھنٹے 39 منٹ اور امریکا میں 16 گھنٹے 44 منٹ۔ بیشتر یورپی ممالک میں روزے کا دورانیہ کم از کم 18 گھنٹے ہوگا۔

ایسے ممالک کے مسلمان جہاں سورج غروب نہیں ہوتا، روزہ کیسے افطار کریں گے؟
یہ ایک اچھا سوال ہے جیسے امریکی ریاست الاسکا کے علاقے جوناﺅ میں مسلمان روزہ رکھنے کے بعد افطار کیسے کریں گے جہاں سورج آدھی رات کے بعد بھی آسمان پر نظر آرہا ہوتا ہے، یا فن لینڈ کے شمالی علاقوں میں جہاں موسم گرما کے دوران پورے 2 ماہ تک سورج غروب ہی نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں یہاں کے مقامی علماءنے گزشتہ سال فتویٰ جاری کیا تھا کہ مقامی مسلمان کسی اور ملک کے سورج طلوع و غروب ہونے کے اوقات کے مطابق روزہ رکھ سکتے ہیں۔

اسلامک سینٹر آف ناردرن ناروے نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مقامی مسلمانوں کو آپشن دیا گیا کہ اگر ناروے میں روزے کا دورانیہ بیس گھنٹوں سے تجاوز کرے تو وہ مکہ مکرمہ میں رمضان کے نظام الاوقات پر عمل کرتے ہوئے روزہ رکھ سکتے ہیں۔ امریکا میں بھی علماء نے بھی اس سے ملتا جلتا فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو مسلمان الاسکا کے انتہائی شمالی خطے میں رہتے ہیں وہ کسی اور ملک کے سورج طلوع اور غروب ہونے کے اوقات کے مطابق سحر اور افطار کرسکتے ہیں۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ

No comments:

Powered by Blogger.