Header Ads

Breaking News
recent

اسلام کا قلعہ مکہ؛ تاریخ کی قدیم ترین 'جائے امان'.........


مکہ معظمہ اپنی تاریخی، دینی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ہمہ جہت پہلوؤں سے اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اسلام کا قدیم اور ہر دور میں عظیم الشان قلعہ ہونے کے اعتبار سے یہ شہر ہر ذی روح کے لیے 'جائے امان' ثابت ہوا۔

یہاں تک کہ اس کے حیوانات اور نباتات کو بھی وہ تحفظ ملا جو دنیا کے کسی
 خطے یا مقام کے زندہ انسانوں کو بھی نصیب نہیں ہوا۔ ظہور اسلام نے نوے ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے شہر کو وہ ابدی تقدس بخشا جو تا ابد اس کا طرہ امتیاز رہے گا۔ اسلام نے مکہ کو 'شہرِ حرم' قرار دیا۔
وہ اس لیے کہ دنیا کے بت کدوں میں زمین پر یہی پہلا خدا کا گھر تھا، جسے ہم کعبہ المشرفہ کے نام سے جانتے ہیں۔ حرام کی دوسری نسبت کعبہ سے متصل مسجد حرم جس میں عبادت کی خواہش فرزندان توحید کشش کی حیثیت رکھتی ہے۔

حرم شریف اور مسجد حرام کی جہاں جغرافیائی حدود متعین ہیں وہیں اس مقدس مقام کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے ریاست نے کچھ قانون اور ضابطے مقرر کر رکھے ہیں۔

حج ریسرچ سینٹر کے سابق رکن ڈاکٹر سامی عنقاوی کہتے ہیں کہ "حرم شریف کی حدود کو ایک باڑ 'حِل' سے جدا کرتی ہے۔ باڑ کے اندر 'حرم' اور باہر باقی پوری روئے زمین اور فضاء 'حل' ہے۔ کعبۃ اللہ، اس کے گرد و پیش پہاڑ، گھاٹیاں، پانی 'حرم' کا حصہ ہیں۔ 'جو بھی اس میں داخل ہوا امن پا گیا'۔[القرآن]۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں اسلام سے قبل بھی جو داخل ہوا پناہ پا گیا۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں بھی وحشی، جنگجو اور منتقم مزاج عرب 'حرم' کی حدود میں داخل ہونے والے اپنے باپ کے قاتل کو بھی چھوڑ دیتے تھے۔ جب تک وہ حرم میں رہتا 'محفوظ و مامون' رہتا اور کوئی اسے گزند نہ پہنچا سکتا تھا۔

ماحولیاتی امور کی ماہر ھناء حمیدان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ حکومت نے حرم شریف کی حدود کے تعین کے لیے سترہ سال غور و خوض کے بعد گیارہ سو علامتیں متعین کیں تاکہ حدودِ حرم کو یاد رکھا جا سکے۔ حج اور عمرہ کے مواقع پر حجاج اور متعمرین کو حرم کی حدود کی نشاندہی میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
سامی عنقاوی کہتے ہیں کہ حرم دائروی شکل کا وہ مقام ہے جو ظہور اسلام سے قبل قریش کی نگرانی کے دور میں بھی'مقام محفوظ' سمجھا جاتا تھا۔ یہ جگہ پوری روئے زمین پور سب سے قدیم 'پناہ گاہ' سمجھی جاتی ہے۔ اسلام نے بھی اس کی اس پہچان کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے مزید محفوظ اور 'جائے امن' بنانے کے لیے قوانین وضع کیے۔

No comments:

Powered by Blogger.