Header Ads

Breaking News
recent

آداب معاشرت.......Islamic Manners



’’اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو، مگر یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے، نہ کہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کی، لیکن جب تم کو بلایا جائے تو ضرور آئو، پھر جب تم کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجائو، باتیں کرنے میں نہ لگے رہو، تمہاری یہ حرکتیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو تکلیف دیتی تھیں لیکن وہ تمہارا لحاظ کرتے تھے اور اللہ حق کے اظہار میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، اور جب تم کو نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے، تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچائو، اور نہ یہ جائز ہے کہ تم اس کی بیویوں سے اس کے بعد نکاح کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔‘‘

پیش نظر آیتِ کریمہ میں مسلمانوں کے ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے اور اسلامی معاشرت سے متعلق چند آداب و احکام بیان کیے گئے ہیں۔ سبب نزول کے اعتبار سے چونکہ اس کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات سے ہے اس لیے بیوت النبی کا ذکر فرمایا گیا ہے، لیکن ان احکام میں عموم پایا جاتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا یہ مسلمہ اصول ہے العبرۃ لعموم اللفظ لالخصوص السبب ’’یعنی اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے سبب کے اختصاص کا نہیں۔‘‘

آداب کی تعلیم میں چار احکام دیے گئے ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ چار ادب سکھائے گئے ہیں۔ پہلا ادب یہ ہے کہ جب تک تمہیں گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے یعنی تمہیں کھانے کی دعوت نہ دی جائے اُس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں تمہیں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اس میں دو ادب سکھائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ گھروں میں داخل ہونے کے لیے اجازت طلبی ضروری ہے اور اگر اجازت نہ دی جائے تو واپس پلٹ جائو۔ اور دوسری یہ بات کہ کسی دعوت میں بن بلائے مت جائو۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ فلاں جگہ کھانے کی تقریب ہے تو وہ بن بلائے پہنچ جاتے ہیں۔ اس آیتِ کریمہ میں اس سے روکا گیا۔ اور بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر اپنے عمل سے اس کی وضاحت فرمائی۔

تیسرا ادب یہ سکھایا گیا ہے کہ اگر کسی دعوت میں بلایا جائے تو اسے بہانہ بناکر کھانے کی تیاری کے انتظار میں وہیں دھونی رما کر مت بیٹھ رہو۔ جس دین نے اپنے ماننے والوں کو قناعت اور کفایت کی تعلیم دی ہے اور فقیری اور ناداری کی حالت میں بھی خودداری کا ادب سکھایا ہے ان کے لیے یہ ہرگز مناسب نہیں کہ وہ کسی طماعی اور سفلہ پن کا اظہار کریں۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا رہن سہن نہایت سادہ تھا، زنانہ مکانوں کے ساتھ مردانہ بیٹھکیں نہیں تھیں۔ ایسے میں قبل از وقت لوگوں کا جمع ہوجانا اہلِ خانہ کے لیے اذیت کا باعث ہوتا تھا۔ اس لیے اس بات سے روکا گیا کہ کھانے کے پکنے کے انتظار میں مت بیٹھو۔ آیت میں ناظرین، منتظرین کے معنی میں ہے اور اِنٰہُ میں اِنَا کھانا پکنے کو کہتے ہیں۔

اس کے بعد گھروں اور تقریبات میں آنے کے لیے صحیح طریقہ ارشاد فرمایا گیا۔ وہ یہ ہے کہ جب تمہیں بلایا جائے تو کھانے کے وقت پہنچوتاکہ میزبان کو کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اور جب کھانا کھا چکو تو وہاں سے منتشر ہوجائو، طویل باتیں چھیڑ کر وہاں نہ بیٹھے رہو۔ کیونکہ بعض دفعہ مہمانوں کا کھانے کے بعد دیر تک بیٹھے رہنا میزبان کے لیے باعثِ کلفت ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ میزبان کے لیے اس کے بعد کچھ اور ضروری مصروفیات ہوں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جگہ کی تنگی کے باعث مہمانوں کو باری باری کھلایا جارہا ہو۔ ظاہر ہے کہ پہلے مہمانوں کے جانے کے بعد دوسرے مہمانوں کو کھانے پر بلایا جا سکے گا۔ اور اگر پہلے مہمانوں میں سے کچھ لوگ باتوں میں لگے بیٹھے رہیں تو میزبان کو بھی تکلیف ہوگی اور مہمان بھی اذیت محسوس کریں گے۔ ہاں اگر یہ اندازہ ہوسکے کہ میزبان کی خواہش ہے کہ مہمان دیر تک تشریف رکھیں تاکہ اس کی تقریب کے لیے رونق کا سامان بنیں اور جگہ کی کشادگی کے باعث کسی تنگی کا بھی اندیشہ نہ ہو، تو پھر دیر تک بیٹھنے اور باتوں میں لگے رہنے میں کوئی حرج نہیں۔

اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کریم النفسی اور مروت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو بہت بلند و بالا خصلتوں اور عادتوں کا پیکر بنایا ہے۔ اس لیے تمہارا وقت سے پہلے آبیٹھنا اور پھر دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے رہنا اور اجازت لیے بغیر اندر چلے آنا… اس سے انہیں جگہ کی تنگی اور مردانہ اور زنانہ حصہ ایک ہونے کی وجہ سے جو اذیت پہنچتی تھی وہ اپنی کریم النفسی کے باعث اس کا اظہار نہیں فرماتے تھے۔ تکلیف برداشت کرلیتے تھے لیکن مہمانوں سے کچھ کہنا لحاظ اور مروت کے خلاف سمجھتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ حق کے اظہار میں کسی کا لحاظ نہیں فرماتا۔ یہ باتیں اسلامی معاشرت کے نقطہ نگاہ سے بہت نقصان دہ ہیں اور ان ہی سے بہت سے مفاسد بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ تمہیں ان باتوں سے آگاہ فرما رہا ہے تاکہ اسلامی معاشرہ انسانی خصائلِ حمیدہ کا صحیح ترجمان ثابت ہو۔

صحابہ کرامؓ کا معاشرہ جو ہمہ جہت تربیت کے بعد تمام نوع انسانی کے لیے ایک نمونے کا معاشرہ بنا۔ یہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا اعجاز اور اسلامی اخلاق کا اثر تھا، ورنہ اہلِ عرب اپنے عادات و اطوار میں اُس وقت کی دنیا میں سب سے زیادہ اجڈ اور غیر شائستہ تھے۔ وہ معاشرے کے بنیادی آداب سے بھی تہی دامن تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت میں جس طرح نہایت حکیمانہ طریقہ اختیار کیا اسی طرح اپنے مزاج کے خلاف ان کی بہت سی ناشائستہ باتوں کو بھی برداشت کیا۔ اور جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں آپؐ اپنی کریم النفسی کے باعث لوگوں کی غلط باتوں پر ٹوکنا اور خاص طور پر گھر آئے ہوئے مہمانوں کی کسی بات پر تنبیہ کرنا خلافِ مروت سمجھتے تھے، اس لیے آپؐ اذیت برداشت کرتے تھے لیکن کہنا پسند نہ تھا۔ آپؐ کے خادم خاص حضرت انس ابنِ مالکؓ کی روایت ہے کہ حضرت زینبؓ کے ولیمے میں سب لوگ تو کھانے سے فارغ ہوکر رخصت ہوگئے مگر دو تین حضرات بیٹھ کر باتین کرنے میں لگ گئے۔ تنگ آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ازواجِ مطہرات کے یہاں ایک چکر لگایا۔ واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ حضرات بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپؐ پھر پلٹ گئے اور حضرت عائشہؓ کے حجرے میں جا بیٹھے۔ اچھی خاصی رات گزر جانے کے بعد جب آپؐ کو معلوم ہوا کہ وہ چلے گئے ہیں تب آپؐ حضرت زینبؓ کے مکان میں تشریف لائے۔ اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں اور اصلاحِ معاشرت کے ساتھ ساتھ پردے کے بھی چند احکام دیئے گئے۔ اور سورۃ النور میں ان احکام کی تکمیل کی گئی۔

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.