Header Ads

Breaking News
recent

حضرت وہب بن قابوس رضی اﷲ عنہ


حضرت وہب بن قابوس رضی اﷲ عنہ ایک صحابی ہیں جو کسی وقت میں مسلمان ہوئے تھے اوراپنے گھر کسی گاوں میں رہتے تھے۔ بکریاں چراتے تھے ۔ اپنے بھتیجے کے ساتھ ایک رسی میں بکریاں باندھے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے، پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تشریف لے گئے۔ معلوم ہوا کہ احد کی لڑائی پر گئے ہوئے ہیں۔بکریاں کو وہیں چھوڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ اتنے میں ایک جماعت کفار کی حملہ کرتی آئی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ان کو منتشر کر دے وہ جنت میں میرا ساتھی ہے۔حضرت وہب رضی اﷲ عنہ نے زور سے تلوار چلانی شروع کی اورسب کو ہٹادیا۔دوسری مرتبہ پھر یہی صورت پیش آئی۔تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا ۔ 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنت کی خوشخبری دی۔اس کا سننا تھا کہ تلوار لے کرکفار کے جمگھٹے میں گھس گئے اورشہید ہوئے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے وہب رضی اﷲ عنہ جیسی دلیری اور بہادری کسی کی بھی لڑائی میں نہیں دیکھی اور شہید ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ وہب رضی اللہ عنہ کے سرہانے کھڑے تھے اورارشاد فرماتے تھے کہ اﷲ تم سے راضی ہو۔ میں تم سے راضی ہوں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے دفن فرمایا باوجود یہ کہ اس لڑائی میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی زخمی تھے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی کے عمل پر بھی اتنا رشک نہیں آیاجتنا وہب رضی اﷲ عنہ کے عمل پر آیا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اﷲ کے یہاں ان جیسا اعمال نامہ لے پہنچوں۔
( الاصابہ و قرۃ العیون)

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.