Monday, April 15, 2013

Hezrat Abdullah Bin Omar Bin AlAaas (R)

      • حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ قریش کے ایک معزز خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ ان کے والد عمرو بن العاص تو غزوہ خندق کے بعد مسلمان ہوئے لیکن یہ خوش نصیب صحابی اوائل عمری ہی میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور آنحضور کا بھرپور ساتھ دیا۔ بہت نیک نہاد اور متقی صحابی تھے۔ جہاد میں برابر شرکت کرتے اور حصولِ علم کے لیے بھی بڑا وقت صَرف کرتے تھے۔ اس کے ساتھ انھیں ریاضت و عبادت کا ایسا شغف تھا کہ وہ رہبانیت کی حدوں کو چھونے لگے۔ نبی اکرم کو معلوم ہوا تو آپ نے انھیں بلا بھیجا۔ اس واقعہ کے راوی خود حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا: ”کیایہ بات درست ہے کہ تم دن بھر روزہ رکھتے ہو اور رات بھر نماز میں مشغول رہتے ہو“؟ انھوں نے عرض کیا: ”جی ہاں یا رسول اللہ“۔ آپ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔ مسلسل روزے نہ رکھا کرو، کبھی روزہ رکھ لیا کرو اور کبھی چھوڑ دیا کرو۔ اسی طرح رات بھر قیام نہ کیا کرو، رات کا کچھ حصہ عبادت میں گزارو اور کچھ حصہ آرام کرو۔ تمھارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔ تمھاری آنکھوں کا بھی حق ہے، تمھاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تم سے ملنے کے لیے آن...ے والے دوست احباب کا بھی تم پر حق ہے۔ تمھارے لیے یہ عمل کافی ہے کہ ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔ اس سے تم مستقل روزہ دار شمار ہوگے کیونکہ تمھیں ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا“۔ حضرت عبد اللہؓ مزید بیان فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضور سے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں اپنے اندر اس سے زیادہ عمل کی قوت پاتا ہوں“۔ آپ نے فرمایا: ”تو پھر اللہ کے نبی داﺅدؑ کی طرح روزہ رکھا کرو اور اس سے آگے ہر گز نہ بڑھو“۔ داﺅدؑ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن روزہ نہ رکھتے۔
      • حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کے حالاتِ زندگی میں ان کی تلاوتِ قرآن کے متعلق بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ بیش تر وقت قرآن پڑھنے میں صَرف کیا کرتے تھے۔ آنحضور نے فرمایا: ”ایک ماہ میں ایک بار قرآن مجید ختم کیا کرو“۔ انھوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھ میں اس سے کہیں زیادہ طاقت ہے“۔ آنحضور نے فرمایا: ”پھر تین دن میں ختم کرلیا کرو“۔ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کا یہی عمل رہا لیکن زندگی کے آخری سالوں میں جب بڑھا پے اور ضعف نے آلیا تو اپنے اہل و عیال اور شاگردوں سے فرمایا کرتے کہ کاش میں نے رسول اللہ کی دی ہوئی رخصت کو مان لیا ہوتا۔
      • اعمال تھوڑے بھی ہوں مگر ان میں دوام ہو، اخلاصِ نیت ہو اور اللہ کی رضا مقصود ہو تو ان میں بے پناہ برکت اور افزایش ہوتی ہے۔ آنحضور خود فرمایا کرتے تھے کہ میں تم میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں مگر میں روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں۔ رات کو قیام کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں شادی کرتا ہوں (اور اہل و عیال کے حقوق ادا کرتا ہوں)۔ آنحضور ہی امت کے لیے اسوہ ¿ حسنہ ہیں۔ افراط و تفریط اور غلو کسی بھی معاملے میں درست نہیں ہوتا۔ ہم امتِ وسط ہیں اور اعتدال و توازن ہماری امتیازی شان ہے۔ اعتدال میں حسن ہوتا ہے اور توازن مشکلات و مسائل سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ آج امت کو یہ بھولا ہوا سبق دوبارہ کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ 
      • Hezrat Abdullah Bin Omar Bin AlAaas (R)
Enhanced by Zemanta
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...